Monthly Archives: December 2011

2011 (وقتِ رخصت یہ احساس ہوا ۔ ۔ ۔)

Standard

وقتِ رخصت یہ احساس ہوا ۔ ۔ ۔

اس سال نے مجھے بہت کچھ دیا ،بے تحاشا خوشیاں بھی تو تھوڑے بہت غم بھی ، کچھ نئے دوست دیئے تو کچھ کو دور کر دیا، محبتیوں کا حصار بھی اور نفرتوں کے تیر بھی ۔ ۔ ۔

وقت کتنا کچھ بدل دیتا ہے ۔ ۔ ۔اس سال یہ احساس ہوا کہ جگہوں اور چیزوں کے ساتھ بھی دل کو وابستگی ہو جاتی ہے ۔ ۔ ۔ الفت سی ہو جاتی ہے ۔ ۔ ۔ اور انسان ۔ ۔ ۔ انسان تو دوست بن کے دل میں اُتر جاتے ہیں

اپنے اللہ کا میں جتنا شکر کروں کم ہے ۔ ۔ ۔ میرے رب نے ہمیشہ مجھے میری اوقات سے زیادہ دیا ۔ ۔ ۔ اس کے باوجود کہ میں اُس کے احکام کو پورا کرنے میں ہمیشہ چُوک جاتا ہوں ۔ ۔ ۔ اُس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کےطریقوں پر عمل کرنے میں کوتاہی کرتا ہوں ۔ ۔ ۔ اِس سب کے باوجود خدا بزرگ و برتر نے مجھے اپنی رحمتوں اور نعمتوں سے کبھی محروم نہیں کیا ، مجھے اتنے محبت کرنے والے والدین عطا کیئے ،اتنے اچھے بھائی دیئے ، بہنیں دی اور اتنے اچھے دوست دیئے ۔ نعمتیں تو ان گنت ہیں ۔ یا اللہ مجھ پر میرے اہل و عیال پر اور دوست احباب پر اسی طرح اپنی رحمتیں نازل فرماتا رہیں اور ہم سب کو اپنا نیک، متقی اور پرہیزگار بندہ بننے کی توفیق عطا فرما آمین

اور آخر میں یہ اقبال جرم کرنا چاہوں گا ۔ ۔ ۔ کہ اس سال میں نے جانے انجانے میں بہت لوگوں کی دل آزاری کی ، بہت لوگوں کا دل دکھایا ، کسی کے اعتماد کو توڑا ، تو کسی سے جھوٹ بولا ، کسی کی امیدوں پہ پورا نہ اترا تو کسی کا حق ادا نہ کرسکا ۔ ۔ ۔ ان سب سے میں تہِ دل سے معافی مانگتا ہوں ۔ امید ہے کے آپ مجھے معاف کر دیں گے۔

 

اللہ سے دعا ہے کے آنے والا سال ہم سب کے لیے، پاکستان کے لیے اور پوری امت کے لیے خوشیاں ، راحتیں ، محبتیں ، دوستی ، بھائی چارے اور امن اور سلامتی کی نوید لے کر آئے

آمین

 

دعاوں میں یاد رکھیے گا

Advertisements

Kuj unj wi raa’wan okhia’n sa’n (کُج اُنج وی راہواں اوکھاِں سَن)

Standard

مینوں عشق اے پنجابی نال

کس دا دوش سی کس دا نئیں سی

اے گلاں ہُن کرن دِیاں نئیں

 

ویلے لنگ گئے ہُن توبہ والے

راتاں ہُن ہُوکے بھرن دِیاں نئیں

 

جو ہویا او تے ہونا ہی سی

تے ہونیاں روکے رُکدیاں نئیں

 

اک واری جَد شروع ہو جاوے

تےگل فیر ایویں مُکدی نئیں


کُج شوق سی یار فقیری دا

کج عشق نے در در رول دِتا

 

کج سجناں کسر نا چھڈی سی

کج زہر رقیباں گھول دِتا

 

کج ہجر فراق دا رنگ چڑھیا

کج درد ماہی انمول دتا

 

کج سڑ گئی قسمت میری

کج پیار وِچ یاراں رول دِتا

 

کُج اُنج وی راہواں اوکھیاں سَن

کج گَل وِچ غماں دا طوق وی سی

 

کج شہر دے لوک وی ظالم سَن

کج سانوں مرن دا شوق وی سی

Mujhe Ishtihaar si lagti hain ye Muhabbaton ki kahaniyan (مجھے اشتہار سی لگتی ہیں، یہ محبتوں کی کہانیاں)

Standard

 


Bashir badar is one of my most favorite poets; here is a gem from his treasure. And in case you are wondering, that is not basher badar 😛

Note: please download and install Jameel Noori Kasheeda font to view urdu the beautiful urdu in this post J

 

یونہی بے سبب نہ پھرا کرو، کوئی شام گھر بھی رہا کرو

وہ غزل کی سچی کتاب ہے ، اسے چپکے چپکے پڑھا کرو

 

کوئی ہاتھ بھی نہ ملائیگا، جو گلے ملو گے تپاک سے

یہ نئے مزاج کا شہر ہے ، ذرا فاصلے سے ملا کرو

 

ابھی راہ میں کئی موڑ ہیں، کوئی آئے گا کوئی جائے گا

تمھیں جس نے دل سے بھلا دیا ، اسے بھولنے کی دعا کرو

 

مجھے اشتہار سی لگتی ہیں، یہ محبتوں کی کہانیاں

جو کہا نہیں وہ سنا کرو ، جو سنا نہیں وہ کہا کرو

 

یہ خزاں کی زرد سی شام میں، جو اُداس پیڑ کے پاس ہے

یہ تمہارے گھر کی بہار ہے،اسے آنسووں سے “ہرا” کرو

 

کبھی حسنِ پردہ نشیں بھی ہو ، ذرا عاشقانہ لباس میں

جو میں بن سنور کے کہیں چلوں ، میرے ساتھ تم بھی چلا کرو

 

نہیں بےحجاب وہ چاند سا ، کہ نظر کا کوئی اثر نہیں

اسے اتنی گرمیِ شوق سے بڑی دیر تک نہ “تکا” کرو

– بشیر بدر-


Yunhi besabab na phira karo, koi shaam ghar bhi raha karo

Wo ghazal ki sachi kitaab hai, usay chupke chupke padha karo

 

Koi haath bhi na milayega, jo galay milogay tapaak se

Ye naye mizaaj ka shehar hai, zara faaslay se mila karo

 

Abhi raah mein kai mod’ hain, koi aayega koi jaayega

Tumhe jis ne dil se bhula diya, usay bhoolne ki dua karo

 

Mujhe ishtehaar si lagti hain, ye mohabbaton ki kahaniyan

Jo kaha nahin wo suna karo, jo suna nahi wo kaha karo

 

Kabhi husn-e-pardanasheen bhi ho, zara aashiqana libaas mein

Jo main ban-sanwar ke kahin chalun, mere saath tum bhi chala karo

 

Ye khizan ki zard-si shaam mein, jo udaas ped’ ke paas hai

Ye tumhare ghar ki bahaaar hai, ise aansuon se hara karo

 

Nahin behijaab vo chaand sa, keh nazar ka koi asar nahi

Usay itni garmi-e-shauq se, badi der tak na taka karo

— Bashir Badr