Monthly Archives: February 2012

Kaho to Laut Jatay hain ? (کہو تو لوٹ جاتے ہیں ؟)

Standard

I don’t know who recited this … but it’s just out-of-this-world AWESOME! I have listened to it hundreds of time and still every time the feeling is same! I am just in love with this poem ❤

Do tell me how “you” felt listening to it? 🙂


کہو تو لوٹ جاتے ہیں ۔ ۔ ۔

ابھی تو بات لمحوں تک ہے

سالوں تک نہیں آئی

ابھی مسکانوں کی نوبت بھی

نالوں تک نہیں آئی

ابھی تو کوئی مجبوری ۔ ۔ ۔

خیالوں تک نہیں آئی

ابھی تو گرد پیروں تک ہے

بالوں تک نہیں آئی

کہو تو لوٹ جاتے ہیں ۔ ۔ ۔

چلو اِک فیصلہ کرنے شجر کی اور جاتے ہیں

ابھی کاجل کی ڈوری

سرخ گالوں تک نہیں آئی

زباں دانتوں تلک ہے

زہر پیالوں تک نہیں آئی

ابھی تو مُشکِ کستوری

غزالوں تک نہیں آئی

ابھی رودادِ بے عنواں ہمارے درمیاں ہے

دنیا والوں تک نہیں آئی

کہو تو لوٹ جاتے ہیں ؟

ابھی نزدیک ہیں گھر اور منزل دُور ہے اپنی

مبادا نار ہو جائے ، یہ ہستی نُور ہے اپنی

کہو تو لوٹ جاتے ہیں

یہ راستہ ، پیار کا راستہ ،

رسن کا ، دار کا راستہ

بہت دشوار ہے جاناں

کہ اس راستے کا ہر ذرہ بھی اک کوہسار ہے جاناں

کہو تو لوٹ جاتے ہیں ؟

میرے بارے نا کچھ سوچو ،

مجھے طے کرنا آتا ہے ۔ ۔ ۔ رسن کا ، دار کا راستہ

یہ اندھی غار کا راستہ

تمہارا نرم و نازک ہاتھ ہو اگر میرے ہاتھوں میں

تو میں سمجھوں کہ جیسے دو جہاں ہیں میری مٹھی میں

تمہارا قرب ہو تو مشکلیں کافور ہو جائیں

یہ اندھے اور کالے راستے پُر نور ہو جائیں

تمہارے گیسووں کی چھاوں مل جائے

تو سورج سے الجھنا بات ہی کیا ہے

اٹھا لو اپنا سایہ تو میری اوقات ہی کیا ہے

میرے بارے نہ کچھ سوچو ۔ ۔ ۔

تم اپنی بات بتلاو؟

کہو تو چلتے رہتے ہیں؟ ۔ ۔ ۔

کہو تو لوٹ جاتے ہیں ؟

Advertisements