گلہ ۔ ۔

Standard

یہ نظم میرے ہم وطنوں اور امتِ مسلمہ کے نام ۔ ۔ ۔

گلہ ہوا سے نہیں ہے ہوا تو اندھی تھی

مگر وہ برگ کہ ٹوٹے تو پھر ہرے نہ ہوئے

مگر وہ سر کہ جھکے اور پھر کھڑے نہ ہوئے

مگر وہ خواب کہ بکھرے تو بے نشاں ٹھہرے

مگر وہ ہاتھ کہ بچھڑے تو استخواں ٹھہرے


گلہ ہوا سے نہیں تُندیٔ ہوا سے نہیں

ہنسی کے تیر چلاتی ہوئی فضا سے نہیں

عدو کے سنگ سے اغیار کی جفا سے نہیں


گلہ تو گرتے مکانوں کے بام ودر سے ہے

گلہ تو اپنے بکھرتے ہوئے سفر سے ہے


ہوا کا کام تو چلنا ہے اس کو چلنا تھا

کوئی درخت گرے یا رہے اُسے کیا ہے


گلہ تو اہلِ چمن کے دل و نظر سے ہے

خزاں کی دھول میں لپٹے ہوئے شجر سے ہے

گلہ سحر سے نہیں رونقِ سحر سے ہے


امجد اسلام امجد

Ref: Image source, & nzam found at : link

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s