Monthly Archives: August 2014

Gar mujhe yaqeen ho mere humdum mere dost – Faiz (گر مجھے اس کا یقیں ہومرے ہمدم مرے دوست)

Standard


گر مجھے اس کا یقیں ہو

مرے ہمدم مرے دوست

گر مجھے اس کا یقیں ہو

کہ ترے دل کی تھکن

تری آنکھوں کی اداسی، ترے سینے کی جلن

مری دلجوئی، مرے پیار سے مٹ جائے گی

گر مرا حرفِ تسلی وہ دوا ہو جس سے

جی اٹھے پھر ترا اجھڑا ہوا بے نور دماغ

تری پیشانی سے دھل جائیں یہ تذلیل کے داغ

تری بیمار جوانی کو شفا ہو جائے

گر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم مرے دوست

روز و شب، شام و سحر میں تجھے بہلاتا رہوں

میں تجھے گیت سناتا رہوں

ہلکے شیریں

آبشاروں کے، بہاروں کے، چمن زاروں کے گیت

آمدِ صبح کے، مہتاب کے، سیاروں کے گیت

تجھ سے میں حسن و محبت کی حکایات کہوں

کیسے مغرور حسیناوں کے برفاب سے جسم

گرم ہاتھوں کی حرارت سے پگھل جاتے ہیں

کیسے اک چہرے کے ٹھہرے ہوئے مانوس نقوش

دیکھتے دیکھتے یک لخت بدل جاتے ہیں

کس طرح عارضِ محبوب کا شفاف بلور

یک بیک بادہ احمر سے دہک جاتا ہے

کیسے گلچیں کے لئے جھکتی ہے خود شاخِ گلاں

کس طرح رات کا ایوان مہک جاتا ہے

یونہی گاتا رہوں، گاتا رہوں تری خاطر

گیت بنتا رہوں، بیٹھا رہوں تری خاطر

پر مرے گیت ترے دکھ کا مداوا ہی نہیں

نغمہ جراح نہیں، مونس و غم خوار سہی

گیت نشتر تو نہیں، مرہمِ آزار سہی

ترے آزار کا چارہ نہیں نشتر کے سوا

اور یہ سفاک مسیحہ مرے قبضے میں نہیں

اس جہاں کے کسی ذی روح کے قبضے میں نہیں

ہاں مگر ترے سوا ۔ ۔ ۔ ۔

ترے سوا ۔۔۔۔

ترے سوا ۔۔۔

فیض احمد فیض

Advertisements