عکس کتنے اتر گئے مجھ میں

Standard

 


عکس کتنے اتر گئے مجھ میں
پھر نجانے کدھر گئے مجھ میں


یہ جو میں ہوں زرا سا باقی ہوں
وہ جو تم تھے وہ مر گئے مجھ میں


میرے اندر تھی ایسی تاریکی
آ کے آسیب ڈر گئے مجھ میں


میں نے چاہا تھا زخم بھر جایئں
زخم ہی زخم بھر گئے مجھ میں

پہلے اُترا میں دل کے دریا میں
پھر سمندر اُتر گئے مجھ میں

کیسا خاکہ بنا دیا مجھ کو
کون سا رنگ بھر گئے مجھ میں

میں وہ پل تھا جو کھا گیا صدیاں
سب زمانے گزر گئے مجھ میں

بن کے خورشید سامنے آئے
اور پھر رات کر گئے مجھ میں

 

 

(source)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s