Standard

Its long , tldr is at the end, but I will “insist” that you read it if you can read urdu 🙂

 ھم تو اس جینے کے ھاتھوں مر چلے
————————————–
اس نے ایک مانگنے والے کو جھٹ سے کچھ نکال کر دے دیا – میں نے کہا کہ بھائی دیکھ بھال کر دینا چاھئے یہ فراڈ لوگ ھوتے ھیں اور عام انسان کے جذبہ نیکی کو ایکسپلائٹ کرتے ھیں  فرمانے لگے آپ نے بجا فرمایا میں پہلے ایسا ھی کیا کرتا تھا ،پھر ایک واقعے نے میری دنیا بدل کر رکھ دی –

میں دھرم پورہ لاھور میں اپنے گھر سے سائیکل پہ نکلا تھا کہ ٹھیکدار سے اپنے بقایا جات وصول کر لوں ،میں اسٹیل فکسر تھا اور ایک کوٹھی کے لینٹر کے پیسے باقی تھے مگر ٹھیکدار آج کل پر ٹرخا رھا تھا، میں سائیکل پہ جا رھا تھا کہ ایک شخص اپنا بچہ فٹ پاتھ کے کنارے لٹائے اسپتال پہنچانے کے لئے ٹیکسی کا کرایہ مانگتا پھر رھا تھا۔

وہ کبھی کسی پیدل کا بازو پکڑ کر ھاتھ جوڑ دیتا میرا بچہ بچا لیں ،مجھے ٹیکسی کا کرایہ دے دیں تو کبھی موٹر سائیکل والے کو ھاتھ دے کر روکتا ، کبھی کسی کار والے کے پیچھے بھاگتا کہ وہ کار میں اس کے بچے کو اسپتال پہنچا دے ،کوئی رکتا تو کوئی نہ رکتا ،، جو رُکتا وہ بھی اسے گھور کر دیکھتا اور آپ والی سوچ ،،، سوچ کر اسے ڈانٹتا ، کام کر کے کھانے کی نصیحت کرتا اور آگے نکل جاتا ۔

میں جو سائیکل سائڈ پہ روکے ایک پاؤں زمیں پر ٹیکے اس کا تماشہ دیکھ رھا تھا ، اچانک اس کی نظر مجھ پر بھی پڑی اور اس نے میری سائیکل کا ھینڈل پکڑ لیا ، بھائی جان خدا کے لئے میرے بچے کی زندگی بچا لیں اس کو سخت بخار ھے ۔ آپ نیچے اتر کر اس کو دیکھ تو لیں آپ کو یقین آ جائے گا ، آپ دیں گے تو شاید کسی اور کو بھی اعتبار آ جائے ۔

مگر میں بھی آپ کی طرح سوچ رھا تھا ،پھر جس جارحانہ انداز میں اس نے میری سائیکل کا ھینڈل پکڑ رکھا تھا لگتا تھا کہ ادھر میں سائیکل سے اترا اور ادھر وہ سائیکل پکڑ کے بھاگ جائے گا ،، میں نے بھی اسے کام کر کے کھانے کی تلقین کی اور پچھلے جمعے میں سنی ھوئی حدیث اس کو بھی سنا دی کہ ،الکاسب حبیب اللہ : کما کر کھانے والا اللہ کا دوست ھوتا ھے ، اور اپنا ھینڈل چھڑا کر بڑبڑاتا ھوا آگے چل پڑا ” حرامخور ھمیں بے وقوف سمجھتے ھیں
دو تین گھنٹے کے بعد جب میں بقایا جات وصول کر کے واپس آیا تو وہ ابھی اسی جگہ کھڑا مانگ رھا تھا ،بچے کو اب وہ سڑک کے پاس لے آیا تھا ، اور اس کے چہرے سے کپڑا بھی اٹھا رکھا تھا ،، وہ دھاڑیں مار مار کر رو رھا تھا ۔ اب وہ بچے کے کفن دفن کے لئے مانگ رھا تھا۔

میں نے سائیکل کو روک کر پاؤں نیچے ٹیکا اور میت کے چہرے کی طرف دیکھا ،،، پھول کی طرح معصوم بچہ ،،، زندگی کی بازی ھار گیا تھا ، میرے رونگٹے کھڑے ھو گئے ،میں نے جیب میں جو کچھ تھا بقایا جات سمیت سب بغیر گنے نکال کر باھر پھینکا اور اس سے پہلے کہ اس کا باپ میری طرف متوجہ ھو ،سائیکل اس تیزی سے چلا کر بھاگا گویا سارے لاھور کی بلائیں میرے پیچھے لگی ھوئی ھیں۔

میں گھر پہنچا تو میرا برا حال تھا ، تھڑی دیر کے بعد مجھے بخار نے آ گھیرا ،، بخار بھی کچھ ایسا تھا گویا میرے سارے گناھوں کا کفارہ اسی بخار سے ھونا تھا۔ گھر والے مجھے ہسپتال کے لئے لے کر نکلتے اور میں چارپائی سے چھلانگ لگا دیتا ،مجھے اسپتال نہیں جانا تھا ، میں اسی بچے کی طرح ایڑیاں رگڑ کر مرنا چاھتا تھا۔

دو تین دن کے بعد بخار کو تو آرام آ گیا مگر میں ذھنی مریض بن گیا ،مجھے لگتا گویا میرا اپنا اکلوتا بیٹا جو تیسری کلاس میں پڑھتا تھا وہ اس بچے کے کفارے میں مر جائے گا۔ میں نے بچے کا اسکول جانا بند کر دیا ، بیوی کے بار بار اصرار کے باوجود میں بچے کو اسکول تو کیا دروازہ کھولنے بھی نہیں جانے دیتا تھا –

40 دن گزر گئے تھے اور بچے کا نام اسکول سے کٹ گیا تھا ، وائف نے اپنے بھائی سے بات کی جو دبئ ایک کمپنی میں کیشئر تھا اس نے مجھے باھر بلانے کے لئے پاسپورٹ بنانے کو کہا ،مگر ایک تو میں شناختی کارڈ بھی پیسوں کے ساتھ نکال کر بچے کی میت پر پھینک آیا تھا ،دوسرا میں خود بھی بچے کو اکیلا چھوڑ کر باھر نہیں جانا چاھتا تھا – وہ چالیس دن قیامت کے چالیس دن تھے ۔

چالیسویں دن دس بجے کے لگ بھگ ھمارے گھر کا دروازہ بجا ،، دروازہ میں نے خود ھی کھولا اور سامنے اس بچے کے باپ کو دیکھ کر مجھے چکر آگئے ۔ مجھے لگا جیسے ھم دونوں آمنے سامنے کھڑے خلا میں چکر کاٹ رھے ھیں ، درمیان میں بچے کا چہرہ بھی آ جاتا ۔ میری کیفیت سے بےخبر اس باپ نے مجھے دبوچ لیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا ۔وہ کچھ کہنے کی بجائے میری ٹھوڑی کو ھاتھ لگاتا اور اسے چوم لیتا ، جبکہ میں پتھر کا بت بنے اس کی گرفت میں تھا ،، کہ اچانک مجھے جھٹکا لگا اور میری چیخ کچھ اس طرح نکلی جیسے کسی کو پانی پیتے وقت اچھو لگ جاتا ھے اور پانی اس کے منہ اور ناک سے بہہ نکلتا ھے ۔

میں اس بچے کے باپ کو سختی کے ساتھ سینے سے لگائے یوں رو رھا تھا گویا اس کا نہیں بلکہ میرا بچہ مر گیا ھے ،ھمارے رونے سے گھبرا کر پورا محلہ اکٹھا ھو گیا تھا ۔ آئستہ آئستہ 40 دنوں کا غبار نکلا ،، اس کو میں گھر میں لے کر آیا محلے والے بھی آگئے تھے جنہوں نے اس آدمی سے بہت افسوس کیا۔

کچھ دیر بعد اس نے اپنی جیب سے میرا شناختی کارڈ نکالا اور مجھے واپس کیا ،پھر جیب میں ھاتھ ڈال کر کچھ پیسے نکالے اور میرا شکریہ ادا کر کے کہنے لگا کہ آپ کے پیسے بڑے برکت والے تھے ۔شاید یہ آپ کے خلوص کی برکت تھی کہ میرے بہت سارے کام ھو گئے سارے اخراجات کے بعد کچھ پیسے بچ گئے تھے ان میں کچھ پیسے میں نے ادھار لے کر ڈالے ھیں ۔ یہ آپ قبول کر لیجئے ،باقی میں بہت جلد آپ کو واپس کر دونگا۔

میں نے پیسے واپس لینے سے سختی کے ساتھ انکار کر دیا ،، اور منت سماجت کر کے اسے پیسے رکھنے پر راضی کر لیا۔ اس کے بعد میں یہاں بطور اسٹیل فکسر آ گیا ، میں جی جان سے کام کرتا تھا چند ماہ میں ترقی کر کے فورمین بن گیا – تین سال بعد میں نے سالے کی مدد سے اپنی کمپنی بنا لی اور اس بچے کے والد کو بھی اپنی کمپنی میں بلا لیا ، آج وہ میری کمپنی میں فورمین ھے ، اس بچے کے بعد اللہ نے اسے دو بیٹوں اور ایک بیٹی سے نوازا ھے  میں اسے آپ سے ملواؤں گا مگر اس سے سائیکل والا قصہ مت بیان کیجئے گا ، وہ آج تک نہیں پہچانا کہ میری سائیکل روک کر اس نے مجھ سے سوال کیا تھا  وہ مجھے ولی اللہ سمجھتا ھے جس نے اس کے بچے کی لاش دیکھ کر سب کچھ نکال کے دے دیا

قاری صاحب اس دن کے بعد میں کسی کا ھاتھ خالی نہیں لوٹاتا ، تھوڑا سا دینے سے نہ وہ امیر ھوتا ھے اور نہ میں غریب ھوتا ھوں ،، بس دل کو تسلی ھوتی ھے کہ میں اس بچے کا خون بہا ادا کر رھا ھوں۔
رہ گئ لُوٹنے کی بات تو قاری صاحب ھمیں کون نہیں لُوٹتا ؟ جوتے والا ھمیں لوٹتا ھے ،کپڑے والا ھمیں لوٹتا ھے ، سبزی اور گوشت والا ھم کو لوٹتا ھے، اتنا لٹنے کے بعد اگر کوئی ھمیں اللہ کے نام پہ لوٹ لے تو شاید حشر میں ھماری نجات کا سامان ھو جائے کہ یہ بندہ میری خاطر، میرے نام پہ لُٹتا رھا ھے
—————————————–
(منقول)

Its difficult to translate/transliterate all of above, moral of the true story is, that one should, without judgement, give alms to beggars or who ever asks for money in public.

Most of us, when we encounter a person asking for money whether beggar or some other needy persona, we first judge whether he is truly needy or not , by his appearance or way of asking or whatever. And sometimes we tell them to work and earn his own.
Two things:

  1. By our limited knowledge and abilities we can never truly know whether the other person is speaking truth or not. whether he is truly needy or not. May be we judge wrong and he is truly needy and its a matter of life n death or something really urgent and serious.
  2. Secondly, even “if” he is a lying or cheating whether  in the name of sympathy or religion. What difference will a little money make on ‘our’ pockets. We are robbed by brands and fancy restaurants and shiny things which we don’t even ‘need’  all the time and we pay exorbitantly to them. If someone is asking (or robbing) you in the name of humanity .. why we become miser (kanjoos) ?? will we become poor by helping poor ?? srsly ?

I confess I myself do that same ‘judging’ when giving, but in shaa Allah from now on I will try not to. I pray Allah give us all hidayat and toufeeq to do good and help others without judgement. Ameen

Advertisements

One response »

  1. Khuda e Bartar kubhi kise ko bhi khaki hath nai lotatta .
    Pher him kon he in aisa karnay walay ?

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s