Category Archives: Inspiring

عشق ، محبت ، عقیدت

Standard

سنا ہےکہ جب کسی سے عشق ہوتا ہے تو اس سے جڑی ہر چیز سے محبّت اور عقیدت ہو جاتی ہے
اُس کی باتیں
اُس کی کتابیں 
اُس کا گھر 
گھر کے در و دیوار سے
یہاں تک کہ
اُس کے گھر میں لگے فانوس سے بھی عقیدت ہو جاتی ہے 

یا اللہ اپنے آپ کو تیرا عاشق کہنے کے قابل تو نہیں سمجھتا کہ عشق تو دور محبت کا حق بھی نہیں ادا کیا ۔ لیکن یااللہ یہ سچ ہے کہ تیرے اور تیرے حبیب صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھر سے ، اس کے در و دیوار سے ، اس کی زمین سے ، اس کی گرد سے ، اس کی ہواوں سے فضاوں سے ، یہاں تک کہ اس کے فانوسوں سے بھی عقیدت و محبت اپنے دِل میں محسوس کی ہے ۔
یا اللہ اس بات کے بہانے اپنے اور اپنے حبیب صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عاشقوں میں ابد تک کے لیئے میرا نام لکھ دے ۔ آمین 

Kaaba pe pari jab pehli nazar (کعبے پہ پڑی جب پہلی نظر)

Standard

2017-03-06 20.48.54

کعبے پہ پڑی جب پہلی نظر، کیا چیز ہے دنیا بھول گیا
یوں ہوش و خرد مفلوج ہوئے، دل ذوقِ تماشہ بھول گیا

پھر روح کو اذنِ رقص ملا، خوابیدہ جُنوں بیدار ہوا
تلؤوں کا تقاضا یاد رھا نظروں کا تقاضا بھول گیا

احساس کے پردے لہرائے، ایمان کی حرارت تیز ہوئی
سجدوں کی تڑپ اللہ اللہ، سر اپنا سودا بھول گیا

پہنچا جو حرم کی چوکھٹ تک، اک ابر کرم نے گھیر لیا
باقی نہ رہا پھر ہوش مجھے، کیا مانگا اور کیا کیا بھول گیا

جس وقت دعا کو ہاتھ اٹھے، یاد آ نا سکا جو سوچا تھا
اظہارِ عقیدت کی دُھن میں اظہارِ تمنا بھول گیا

ہر وقت برستی ہے رحمت کعبے میں جمیل ، اللہ اللہ
خاکی ہوں میں کتنا بھول گیا

عاصی ہوں میں کتنا بھول گیا

کعبے پہ پڑی جب پہلی نظر، کیا چیز ہے دنیا بھول گیا
یوں ہوش و خرد مفلوج ہوئے، دل ذوقِ تماشہ بھول گیا

020416_0845_2.png

اللہ عزوجل رب العزت  الرحمان الرحیم الکریم نے

مجھ حقیر فقیر خاکی و عاصی گنہگار پہ خاص کرم کیا اور مجھے اپنے ماں باپ اور بیوی بچہ سمیت اپنے گھرپر حاضری کا  شرف بخشا  اور اپنے حبیب صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضہ اطہر پہ بھی حاضری کا شرف بخشا

ساری زندگی ہر سانس کے ساتھ اللہ رب العزت کا شکر کروں تو ایک لمحے کا بھی حق ادا نہیں ہو سکتا ۔  جو کیفیت اور احساسات وہاں ہوتے ہیں اُنہیں صحیح معنی میں الفاظ کے محدود احاطے میں بیان کرنا نہ ممکن ہے ۔  مکہ مکرمہ میں بیت اللہ شریف  میں اللہ کا جلال اور عظمت رُو پزیر ہے ۔  اور مدینہ منورہ میں خاتم النبیین رحمت اللعالمین صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحمت ، محبت ، انوارات کے نور اور سکون کا سماں ہے ۔ بندہ وہاں جا کر ، بلکہ جب یہاں سے رختِ سفر ہی باندھتا ہے تو دنیا کی سوچیں ، پریشانیاں ، بکھیڑے ، مستقبل کی فکر   ، غرض ہر چیز سے بے فکر اور بے نیاز ہو جاتا ہے ۔  یہ بھی اللہ کا کرم اور فضل ہے ۔

اللہ مجھے  اور سب کو بار بار اپنے گھر بلائے اور اپنے حبیب ہمارے آقا سرکارِ عالم رحمت العالمین نبیِ رحمت حضرت محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روضہ مبارک پہ حاضری کی توفیق عطا فرمائے آمین

کوشش کروں گا کے اپنے سفرِ حرم کے اور خیالات اور واقعات یہاں گوشگزار کروں

Transliteration in roman urdu:

Allah Azawajal Rab ul Izzat Al Rahman Ak Raheem Al Kareem ne

Mujh haqeer faqeer khaki o aassi gunehgaar pay khaas karam kya aur mujhe apne maa baap aur biwi bachay sameit Apne ghar par haazri ka sharf bakhsha aur Apne Habib SalAllah o Aleh Wa Aalehi Wasallam ke Roza At’her pay bhi haazri ka ssharf bakhsha

Saari zindagi har saans ke sath Allah Rab ul Izzat ka shukar karoon to aik lamhay ka bhi haq ada nahi ho sakta. jo kefiyat aur ehsasaat wahan hotay hain unhen sahih maienay mein alfaaz ke mehdood ihatay mein bayan karna na mumkin hai. Makkah  Mukaramah mein Bait Ullah Shareef mein Allah ka Jalaal aur Azmat roo pazeer hai, aur Madina Munawwara mein Khaatim ul Nabiyeen Rehmat ulilaalameen Salallah o Aleh Wa Aalehe Wa Sallam ki Rehmat, Mohabbat, Anwaraat ke Noor aur Sukoon ka samaa hai. Banda wahan ja kar, balkay jab yahan se rakhtِ e safar hi baandhta hai to duniya ki sochen, pareshaniya, bakherray, mustaqbil ki fikr, gharz har cheez se be-fikar aur be-niaz ho jata hai. yeh bhi Allah ka karam aur fazl hai .

Allah mujhe aur sab ko baar baar Apne ghar bulaye aur apne Habib hamaray Aaqa Sarkar e Aalam Rehmat Ulilaalameen Nabi e Rehmat Hazrat Muhammad Mustafa Salalallah o Alehe Wa Aalehe Wasallam ke Roza Mubarak pay haazri ki tofeeq ataa farmaye Ameen

Koshish karoon ga ke apne safrِ e haram ke aur khayalat aur waqeat yahan gosh-guzar karoon

Koi to Hai Jo Nizam e hasti chala raha hai – Muzaffar Warsi – Hamd

Video

کوئی تو ہے جو ـــــ نظامِ ہستی چلا رہا ہے ـــــ وہی خدا ہے

حمد خواں : مظفر وارثی

Hamd: Koi to hai jo nizaam e hasti chala raha hai , Wohi KHUDA Hai
Reciter: Muzaffar Warsi

“THE” best and most favorite Hamd recitation of all time.

Audio version on soundcloud for easier listening and downloading :


 

کوئی تو ہے جو ـــــ نظامِ ہستی چلا رہا ہے ـــــ وہی خدا ہے

دکھائی بھی جو نہ دے ـــــ نظر بھی جو آرہا ہے ـــــ وہی خدا ہے

 
وہی ہے مشرق ـــــ وہی ہے مغرب ـــــ سفر کریں سب اُسی کی جانب

ہر آئینے میں جو عکس اپنا دکھا رہا ہے ــــــ وہی خدا ہے

 
تلاش اُس کو نہ کر بتوں میں ــــــ وہ ہے بدلتی ہوئی رُتوں میں

جو دن کو رات اور رات کو دن بنا رہا ہے ــــــ وہی خدا ہے

 
نظر بھی رکھے ،سماعتیں بھی ـــــ وہ جان لیتا ہے نیتیں بھی

جو خانہء لاشعور میں جگمگا رہا ہے ــــــ وہی خدا ہے

 
کسی کو سوچوں نے کب سراہا ــــــ وہی ہوا جو خدا نے چاہا

جو اختیارِ بشر پہ پہرے بٹھا رہا ہے ـــــ وہی خدا ہے

 
کسی کو تاجِ وقار بخشے ــــ کسی کو ذلت کے غار بخشے

جو سب کے ماتھے پہ مہرِ قدرت لگا رہا ہے ـــــ وہی خدا ہے

 
سفید اُس کا سیاہ اُس کا ـــــ نفس نفس ہے گواہ اُس کا

جو شعلہء جاں جلا رہا ہے ـــــ بُجھا رہا ہے ـــــ وہی خدا ہے

ـــــــــــــــــــــــ

مظفر وارثی

 

Koi to hai jo __ nizam e hasti chala raha hai __ Wohi KHUDA Hai
Dikhai bhi jo na de __ nazar bhi jo aa raha hai __ Wohi KHUDA Hai

Wohi hai mashriq __ wohi hai maghrib __ safar karain sab usi ki jaanib
Har aainay main jo aks apna dikha raha hai __ Wohi KHUDA Hai

Talaash Us ko na kar b’utoN main __ Wohi KHUDA Hai
Jo din ko raat aur raat ko din bana raha hai __ Wohi KHUDA Hai

Nazar bhi rakhay , sama’atain bhi __ Woh jaan leta hai niyatain bhi
Jo khaana E la-shaoor jagmaga raha hai __ Wohi KHUDA Hai

Kisi ko socho’n ne kab saraha __ wohi hua jo KHUDA ne chaha
Jo ikhtiyar e bashr pe pehray bitha raha hai __ Wohi KHUDA Hai

Kisi ko taj E waqar bakhshay __ Kisi ko zillat ke ghaar bakhshay
Jo sab ke maathay pe mohr e qudrat laga raha hai __ Wohi KHUDA Hai

Safaid Us ka siyah Us ka __ nafas nafaz hai gawah Us ka
Jo shola e jaa’n jalaa raha hai __  bujha raha hai __  Wohi KHUDA Hai
_____
Muzaffar Warsi

غصہ و تکبر

Standard


 سنٹرل جیل میں مجھے راؤ اکبر صاحب کے اطمینان ۔ اس کے سکون اور اس کی شخصیت نے حیران کر دیا ۔ وہ چند دن بعد پھانسی پانے والا تھا ۔ صدر نے اس کی اپیل مسترد کر دی تھی ۔ پوری جیل مغموم تھی مگر اس کے چہرے پر گہرا اطمینان ۔ گہرا سکون تھا ۔
جیل کے تمام قیدی ۔ سرکاری اور غیر سرکاری عملہ اس کی بہت عزت کرتے تھے ۔
 وہ جیل کی مدر ٹریسا تھا اور سب کے دکھ درد کا ساتھی تھا ۔ خوش حال آدمی تھا ۔ لواحقین ۔ عزیز رشتے دار ۔ بہن بھائی اور دوست احباب کھاتے پیتے لوگ تھے ۔ وہ جیل میں جس کو پریشان دیکھتا تھا اسے رقعہ لکھ دیتا تھا اور اسکا مسئلہ حل ہو جاتا تھا ۔ وہ انتہائی سمجھ دار ۔ وضع دار اور شاندار انسان تھا مگر اس کے باوجود قتل کے جرم میں جیل میں بند تھا ۔ اور پھانسی کی سزا کا منتظر ۔ میں اس بات پر حیران تھا ۔
پھر میں نے ایک دن اس سے پوچھ ہی لیا:
“راؤ صاحب کیا آپ نے واقعی قتل کیا تھا؟”
راؤ صاحب نے جواب دیا: 
“ہاں کیا تھا”
میں نے پوچھا: 
”کیا واقعہ ہوا؟” 
Read the rest of this entry

Standard

Its long , tldr is at the end, but I will “insist” that you read it if you can read urdu 🙂

 ھم تو اس جینے کے ھاتھوں مر چلے
————————————–
اس نے ایک مانگنے والے کو جھٹ سے کچھ نکال کر دے دیا – میں نے کہا کہ بھائی دیکھ بھال کر دینا چاھئے یہ فراڈ لوگ ھوتے ھیں اور عام انسان کے جذبہ نیکی کو ایکسپلائٹ کرتے ھیں  فرمانے لگے آپ نے بجا فرمایا میں پہلے ایسا ھی کیا کرتا تھا ،پھر ایک واقعے نے میری دنیا بدل کر رکھ دی –

میں دھرم پورہ لاھور میں اپنے گھر سے سائیکل پہ نکلا تھا کہ ٹھیکدار سے اپنے بقایا جات وصول کر لوں ،میں اسٹیل فکسر تھا اور ایک کوٹھی کے لینٹر کے پیسے باقی تھے مگر ٹھیکدار آج کل پر ٹرخا رھا تھا، میں سائیکل پہ جا رھا تھا کہ ایک شخص اپنا بچہ فٹ پاتھ کے کنارے لٹائے اسپتال پہنچانے کے لئے ٹیکسی کا کرایہ مانگتا پھر رھا تھا۔

وہ کبھی کسی پیدل کا بازو پکڑ کر ھاتھ جوڑ دیتا میرا بچہ بچا لیں ،مجھے ٹیکسی کا کرایہ دے دیں تو کبھی موٹر سائیکل والے کو ھاتھ دے کر روکتا ، کبھی کسی کار والے کے پیچھے بھاگتا کہ وہ کار میں اس کے بچے کو اسپتال پہنچا دے ،کوئی رکتا تو کوئی نہ رکتا ،، جو رُکتا وہ بھی اسے گھور کر دیکھتا اور آپ والی سوچ ،،، سوچ کر اسے ڈانٹتا ، کام کر کے کھانے کی نصیحت کرتا اور آگے نکل جاتا ۔

میں جو سائیکل سائڈ پہ روکے ایک پاؤں زمیں پر ٹیکے اس کا تماشہ دیکھ رھا تھا ، اچانک اس کی نظر مجھ پر بھی پڑی اور اس نے میری سائیکل کا ھینڈل پکڑ لیا ، بھائی جان خدا کے لئے میرے بچے کی زندگی بچا لیں اس کو سخت بخار ھے ۔ آپ نیچے اتر کر اس کو دیکھ تو لیں آپ کو یقین آ جائے گا ، آپ دیں گے تو شاید کسی اور کو بھی اعتبار آ جائے ۔

مگر میں بھی آپ کی طرح سوچ رھا تھا ،پھر جس جارحانہ انداز میں اس نے میری سائیکل کا ھینڈل پکڑ رکھا تھا لگتا تھا کہ ادھر میں سائیکل سے اترا اور ادھر وہ سائیکل پکڑ کے بھاگ جائے گا ،، میں نے بھی اسے کام کر کے کھانے کی تلقین کی اور پچھلے جمعے میں سنی ھوئی حدیث اس کو بھی سنا دی کہ ،الکاسب حبیب اللہ : کما کر کھانے والا اللہ کا دوست ھوتا ھے ، اور اپنا ھینڈل چھڑا کر بڑبڑاتا ھوا آگے چل پڑا ” حرامخور ھمیں بے وقوف سمجھتے ھیں
دو تین گھنٹے کے بعد جب میں بقایا جات وصول کر کے واپس آیا تو وہ ابھی اسی جگہ کھڑا مانگ رھا تھا ،بچے کو اب وہ سڑک کے پاس لے آیا تھا ، اور اس کے چہرے سے کپڑا بھی اٹھا رکھا تھا ،، وہ دھاڑیں مار مار کر رو رھا تھا ۔ اب وہ بچے کے کفن دفن کے لئے مانگ رھا تھا۔

میں نے سائیکل کو روک کر پاؤں نیچے ٹیکا اور میت کے چہرے کی طرف دیکھا ،،، پھول کی طرح معصوم بچہ ،،، زندگی کی بازی ھار گیا تھا ، میرے رونگٹے کھڑے ھو گئے ،میں نے جیب میں جو کچھ تھا بقایا جات سمیت سب بغیر گنے نکال کر باھر پھینکا اور اس سے پہلے کہ اس کا باپ میری طرف متوجہ ھو ،سائیکل اس تیزی سے چلا کر بھاگا گویا سارے لاھور کی بلائیں میرے پیچھے لگی ھوئی ھیں۔

میں گھر پہنچا تو میرا برا حال تھا ، تھڑی دیر کے بعد مجھے بخار نے آ گھیرا ،، بخار بھی کچھ ایسا تھا گویا میرے سارے گناھوں کا کفارہ اسی بخار سے ھونا تھا۔ گھر والے مجھے ہسپتال کے لئے لے کر نکلتے اور میں چارپائی سے چھلانگ لگا دیتا ،مجھے اسپتال نہیں جانا تھا ، میں اسی بچے کی طرح ایڑیاں رگڑ کر مرنا چاھتا تھا۔

دو تین دن کے بعد بخار کو تو آرام آ گیا مگر میں ذھنی مریض بن گیا ،مجھے لگتا گویا میرا اپنا اکلوتا بیٹا جو تیسری کلاس میں پڑھتا تھا وہ اس بچے کے کفارے میں مر جائے گا۔ میں نے بچے کا اسکول جانا بند کر دیا ، بیوی کے بار بار اصرار کے باوجود میں بچے کو اسکول تو کیا دروازہ کھولنے بھی نہیں جانے دیتا تھا –

40 دن گزر گئے تھے اور بچے کا نام اسکول سے کٹ گیا تھا ، وائف نے اپنے بھائی سے بات کی جو دبئ ایک کمپنی میں کیشئر تھا اس نے مجھے باھر بلانے کے لئے پاسپورٹ بنانے کو کہا ،مگر ایک تو میں شناختی کارڈ بھی پیسوں کے ساتھ نکال کر بچے کی میت پر پھینک آیا تھا ،دوسرا میں خود بھی بچے کو اکیلا چھوڑ کر باھر نہیں جانا چاھتا تھا – وہ چالیس دن قیامت کے چالیس دن تھے ۔

چالیسویں دن دس بجے کے لگ بھگ ھمارے گھر کا دروازہ بجا ،، دروازہ میں نے خود ھی کھولا اور سامنے اس بچے کے باپ کو دیکھ کر مجھے چکر آگئے ۔ مجھے لگا جیسے ھم دونوں آمنے سامنے کھڑے خلا میں چکر کاٹ رھے ھیں ، درمیان میں بچے کا چہرہ بھی آ جاتا ۔ میری کیفیت سے بےخبر اس باپ نے مجھے دبوچ لیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا ۔وہ کچھ کہنے کی بجائے میری ٹھوڑی کو ھاتھ لگاتا اور اسے چوم لیتا ، جبکہ میں پتھر کا بت بنے اس کی گرفت میں تھا ،، کہ اچانک مجھے جھٹکا لگا اور میری چیخ کچھ اس طرح نکلی جیسے کسی کو پانی پیتے وقت اچھو لگ جاتا ھے اور پانی اس کے منہ اور ناک سے بہہ نکلتا ھے ۔

میں اس بچے کے باپ کو سختی کے ساتھ سینے سے لگائے یوں رو رھا تھا گویا اس کا نہیں بلکہ میرا بچہ مر گیا ھے ،ھمارے رونے سے گھبرا کر پورا محلہ اکٹھا ھو گیا تھا ۔ آئستہ آئستہ 40 دنوں کا غبار نکلا ،، اس کو میں گھر میں لے کر آیا محلے والے بھی آگئے تھے جنہوں نے اس آدمی سے بہت افسوس کیا۔

کچھ دیر بعد اس نے اپنی جیب سے میرا شناختی کارڈ نکالا اور مجھے واپس کیا ،پھر جیب میں ھاتھ ڈال کر کچھ پیسے نکالے اور میرا شکریہ ادا کر کے کہنے لگا کہ آپ کے پیسے بڑے برکت والے تھے ۔شاید یہ آپ کے خلوص کی برکت تھی کہ میرے بہت سارے کام ھو گئے سارے اخراجات کے بعد کچھ پیسے بچ گئے تھے ان میں کچھ پیسے میں نے ادھار لے کر ڈالے ھیں ۔ یہ آپ قبول کر لیجئے ،باقی میں بہت جلد آپ کو واپس کر دونگا۔

میں نے پیسے واپس لینے سے سختی کے ساتھ انکار کر دیا ،، اور منت سماجت کر کے اسے پیسے رکھنے پر راضی کر لیا۔ اس کے بعد میں یہاں بطور اسٹیل فکسر آ گیا ، میں جی جان سے کام کرتا تھا چند ماہ میں ترقی کر کے فورمین بن گیا – تین سال بعد میں نے سالے کی مدد سے اپنی کمپنی بنا لی اور اس بچے کے والد کو بھی اپنی کمپنی میں بلا لیا ، آج وہ میری کمپنی میں فورمین ھے ، اس بچے کے بعد اللہ نے اسے دو بیٹوں اور ایک بیٹی سے نوازا ھے  میں اسے آپ سے ملواؤں گا مگر اس سے سائیکل والا قصہ مت بیان کیجئے گا ، وہ آج تک نہیں پہچانا کہ میری سائیکل روک کر اس نے مجھ سے سوال کیا تھا  وہ مجھے ولی اللہ سمجھتا ھے جس نے اس کے بچے کی لاش دیکھ کر سب کچھ نکال کے دے دیا

قاری صاحب اس دن کے بعد میں کسی کا ھاتھ خالی نہیں لوٹاتا ، تھوڑا سا دینے سے نہ وہ امیر ھوتا ھے اور نہ میں غریب ھوتا ھوں ،، بس دل کو تسلی ھوتی ھے کہ میں اس بچے کا خون بہا ادا کر رھا ھوں۔
رہ گئ لُوٹنے کی بات تو قاری صاحب ھمیں کون نہیں لُوٹتا ؟ جوتے والا ھمیں لوٹتا ھے ،کپڑے والا ھمیں لوٹتا ھے ، سبزی اور گوشت والا ھم کو لوٹتا ھے، اتنا لٹنے کے بعد اگر کوئی ھمیں اللہ کے نام پہ لوٹ لے تو شاید حشر میں ھماری نجات کا سامان ھو جائے کہ یہ بندہ میری خاطر، میرے نام پہ لُٹتا رھا ھے
—————————————–
(منقول)

Its difficult to translate/transliterate all of above, moral of the true story is, that one should, without judgement, give alms to beggars or who ever asks for money in public.

Most of us, when we encounter a person asking for money whether beggar or some other needy persona, we first judge whether he is truly needy or not , by his appearance or way of asking or whatever. And sometimes we tell them to work and earn his own.
Two things:

  1. By our limited knowledge and abilities we can never truly know whether the other person is speaking truth or not. whether he is truly needy or not. May be we judge wrong and he is truly needy and its a matter of life n death or something really urgent and serious.
  2. Secondly, even “if” he is a lying or cheating whether  in the name of sympathy or religion. What difference will a little money make on ‘our’ pockets. We are robbed by brands and fancy restaurants and shiny things which we don’t even ‘need’  all the time and we pay exorbitantly to them. If someone is asking (or robbing) you in the name of humanity .. why we become miser (kanjoos) ?? will we become poor by helping poor ?? srsly ?

I confess I myself do that same ‘judging’ when giving, but in shaa Allah from now on I will try not to. I pray Allah give us all hidayat and toufeeq to do good and help others without judgement. Ameen