Category Archives: My Life,My Ramblings

بچپن ۔ ۔ یادیں ۔ ۔ زندگی

Standard

ایک وقت تھا جب ہمارے گھر میں ایک پل بھی خاموشی نہیں ہوتی تھی. گھر بہن بھائیوں کے شور شرابے، ہنسی مذاق، کلکاریوں اور لڑائی جھگڑے کی آوازوں سے گونجتا رہتا تھا۔

صبح کے وقت سب کو اپنی اپنی پڑی ہوتی:
بستر میں لیٹے ہوئے ابو جی کی آواز کانوں میں پڑتی: جلدی جلدی سب اٹھو اور سبق پڑھنے مسجد جاؤ۔
امی جی کہہ رہی ہوتیں: سب آ کر ناشتہ کر لو۔
ایک بھائی بولتا: میرے کپڑے کدھر ہیں؟
ایک بہن بولتی: مجھے جوتے نہیں مل رہے۔
تیسرے کی آواز آتی: میرا بیگ نہیں مل رہا۔
ابو جی! مجھے پاکٹ منی دیجیے۔
ایک واش روم میں گھسا ہے اور باقی انتظار میں کھڑے ہیں۔
ہر ایک اپنا رونا رو رہا ہوتا۔
ہم بہن بھائیوں کا امی جی کے گلے لگنا۔ ان سے پیار لے کر سکول جانا۔
واپسی پر پھر وہی حال۔ طوطے کی طرح بولتے جانا۔ بہن بھائیوں کا لڑنا جھگڑنا۔ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو جانا۔ کبھی دوست کرنا اور کبھی کاٹ کرنا۔

چیزوں کا ہر طرف بکھرے ہونا۔ پورے کمرے میں ادھر اُدھر پڑے ہوئے کپڑے۔ ہماری امی جی کا پورا دن گھر کی صفائی ستھرائی اور ان چیزوں کو سنبھالنے میں گزر جانا۔ ہم بہن بھائیوں کا ادھر اُدھر بھاگتے پھرنا۔ کبھی پکڑنا پکڑائی کھیلنا اور کبھی کوئی دوسرا کھیل کھیلنا۔ کبھی ہنسنا اور کبھی رونا۔ کبھی گڑیا تو کبھی سائیکل۔

آج میں اسی گھر میں بیٹھا ہوا ہے۔ ہر طرف ایک عجیب سا سکون، خاموشی اور امن چھایا ہوا ہے۔ نہ کوئی شور شرابہ ہے اور نہ قہقہوں کی آوازیں۔ نہ کوئی لڑائی جھگڑا رہا اور نہ مل بیٹھ کر کھانا۔ بستر خالی پڑے ہیں۔ ہر چیز سلیقے سے رکھی ہوئی ہے۔ الماری میں ہمارے امی ابو جی کے محض چند جوڑے لٹکے ہوئے ہیں۔ اب نہ صبح کے وقت ہنگامہ برپا ہوتا ہے اور نہ ہی چھٹی کے وقت۔

ایک بھائی دنیا سے ہی رخصت ہو گیا۔ دوسرا دوسری جگہ شفٹ ہو گیا۔ باقی دونوں بھائی شام کو تھکے ہوئے کام سے لوٹتے ہیں۔ تینوں بہنوں کی شادیاں ہو گئیں۔ اب اگر کچھ باقی رہ گیا تو وہ ہر ایک کی اپنی اپنی خوشبو ہے جو ہر کمرے اور ہر چیز سے اٹھ رہی ہے۔ ان حسین لمحات کی یادیں ہیں جو ماضی بن چکے ہیں۔ آج میں ان میں سے ایک ایک کی خوشبو محسوس کرکے اپنے خالی دل کو بھرنے کی اور اپنے آنسو روکنے کی ناکام کوشش کر رہا ہوں۔

مہینوں بعد ہم سب بہن بھائی کہیں اکٹھے ہو پاتے ہیں۔ تھوڑا سا وقت اکٹھا گزارتے ہیں، کچھ دیر گپ شپ کرتے ہیں اور پھر سب اپنے اپنے گھروں کو چل پڑتے ہیں۔ پھر ہر طرف وہی خاموشی چھا جاتی ہے۔

بعض دفعہ میں سوچتا ہوں کہ کاش ہم بڑے ہی نہ ہوتے۔ کاش وہ بچپن پھر سے لوٹ آتا۔ لیکن پھر میں اللہ کا شکر اور سب کی خوشی کی دعا کرتا ہوں۔

اگر آپ ابھی چھوٹے ہیں تو اس وقت کو خوب انجوائے کریں۔ ہر طرف محبت اور پیار کے پھول بکھیریں۔ اپنے امی ابو،دادا دادی اور نانا نانی کا خوب خیال رکھیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ بھرپور وقت گزاریں۔

اگر آپ گھر کے بڑے یا بڑی ہیں تو تب بھی اپنے بچوں کے ساتھ خوب انجوائے کریں۔ ان کے ساتھ کھیلیں۔ ان کو خوب لاڈ پیار دیں۔ ان کی اچھی تربیت کیجیے۔

اگر گھر گندا ہوتا ہے تو ہونے دیں۔ کمروں میں سامان بکھرتا ہے تو بکھرنے دیں۔ دروازے کھلے رہتے ہیں تو رہنے دیں۔ بچے شور شرابہ کرتے ہیں تو کرنے دیں۔ یہ سب بعد میں بھی ٹھیک اور درست ہو سکتا ہے۔ لیکن آپ سب کا ایک دوسرے کے ساتھ بیتا ہوا یہ وقت کبھی لوٹ کر نہیں آئے گا۔ بس یادیں، اپنی اپنی خوشبوئیں اور آنسو بھری مسکراہٹیں رہ جائیں گی۔ لہذا اس وقت کو ہر ممکن طریقے سے حسین سے حسین تر بنانے کی کوشش میں لگے رہیں اور اپنے ہر رشتے کی قدر کریں۔ موبائل اور ٹی وی وغیرہ میں مگن ہو کر اپنے ماں باپ اور بیوی بچوں یا شوہر کا حق ہرگز نہ ماریں۔ ورنہ بعد میں صرف پچھتاوے اورحسرتیں باقی رہ جائیں گی۔


نوٹ : یہ تحریر واٹس ایپ سے کاپی پیسٹ ہے ۔ کسی کو اس کا اصل مصنف معلوم ہو تو ضرور بتائیں ۔

Advertisements

عشق ، محبت ، عقیدت

Standard

سنا ہےکہ جب کسی سے عشق ہوتا ہے تو اس سے جڑی ہر چیز سے محبّت اور عقیدت ہو جاتی ہے
اُس کی باتیں
اُس کی کتابیں 
اُس کا گھر 
گھر کے در و دیوار سے
یہاں تک کہ
اُس کے گھر میں لگے فانوس سے بھی عقیدت ہو جاتی ہے 

یا اللہ اپنے آپ کو تیرا عاشق کہنے کے قابل تو نہیں سمجھتا کہ عشق تو دور محبت کا حق بھی نہیں ادا کیا ۔ لیکن یااللہ یہ سچ ہے کہ تیرے اور تیرے حبیب صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھر سے ، اس کے در و دیوار سے ، اس کی زمین سے ، اس کی گرد سے ، اس کی ہواوں سے فضاوں سے ، یہاں تک کہ اس کے فانوسوں سے بھی عقیدت و محبت اپنے دِل میں محسوس کی ہے ۔
یا اللہ اس بات کے بہانے اپنے اور اپنے حبیب صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عاشقوں میں ابد تک کے لیئے میرا نام لکھ دے ۔ آمین 

Kaaba pe pari jab pehli nazar (کعبے پہ پڑی جب پہلی نظر)

Standard

2017-03-06 20.48.54

کعبے پہ پڑی جب پہلی نظر، کیا چیز ہے دنیا بھول گیا
یوں ہوش و خرد مفلوج ہوئے، دل ذوقِ تماشہ بھول گیا

پھر روح کو اذنِ رقص ملا، خوابیدہ جُنوں بیدار ہوا
تلؤوں کا تقاضا یاد رھا نظروں کا تقاضا بھول گیا

احساس کے پردے لہرائے، ایمان کی حرارت تیز ہوئی
سجدوں کی تڑپ اللہ اللہ، سر اپنا سودا بھول گیا

پہنچا جو حرم کی چوکھٹ تک، اک ابر کرم نے گھیر لیا
باقی نہ رہا پھر ہوش مجھے، کیا مانگا اور کیا کیا بھول گیا

جس وقت دعا کو ہاتھ اٹھے، یاد آ نا سکا جو سوچا تھا
اظہارِ عقیدت کی دُھن میں اظہارِ تمنا بھول گیا

ہر وقت برستی ہے رحمت کعبے میں جمیل ، اللہ اللہ
خاکی ہوں میں کتنا بھول گیا

عاصی ہوں میں کتنا بھول گیا

کعبے پہ پڑی جب پہلی نظر، کیا چیز ہے دنیا بھول گیا
یوں ہوش و خرد مفلوج ہوئے، دل ذوقِ تماشہ بھول گیا

020416_0845_2.png

اللہ عزوجل رب العزت  الرحمان الرحیم الکریم نے

مجھ حقیر فقیر خاکی و عاصی گنہگار پہ خاص کرم کیا اور مجھے اپنے ماں باپ اور بیوی بچہ سمیت اپنے گھرپر حاضری کا  شرف بخشا  اور اپنے حبیب صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضہ اطہر پہ بھی حاضری کا شرف بخشا

ساری زندگی ہر سانس کے ساتھ اللہ رب العزت کا شکر کروں تو ایک لمحے کا بھی حق ادا نہیں ہو سکتا ۔  جو کیفیت اور احساسات وہاں ہوتے ہیں اُنہیں صحیح معنی میں الفاظ کے محدود احاطے میں بیان کرنا نہ ممکن ہے ۔  مکہ مکرمہ میں بیت اللہ شریف  میں اللہ کا جلال اور عظمت رُو پزیر ہے ۔  اور مدینہ منورہ میں خاتم النبیین رحمت اللعالمین صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحمت ، محبت ، انوارات کے نور اور سکون کا سماں ہے ۔ بندہ وہاں جا کر ، بلکہ جب یہاں سے رختِ سفر ہی باندھتا ہے تو دنیا کی سوچیں ، پریشانیاں ، بکھیڑے ، مستقبل کی فکر   ، غرض ہر چیز سے بے فکر اور بے نیاز ہو جاتا ہے ۔  یہ بھی اللہ کا کرم اور فضل ہے ۔

اللہ مجھے  اور سب کو بار بار اپنے گھر بلائے اور اپنے حبیب ہمارے آقا سرکارِ عالم رحمت العالمین نبیِ رحمت حضرت محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روضہ مبارک پہ حاضری کی توفیق عطا فرمائے آمین

کوشش کروں گا کے اپنے سفرِ حرم کے اور خیالات اور واقعات یہاں گوشگزار کروں

Transliteration in roman urdu:

Allah Azawajal Rab ul Izzat Al Rahman Ak Raheem Al Kareem ne

Mujh haqeer faqeer khaki o aassi gunehgaar pay khaas karam kya aur mujhe apne maa baap aur biwi bachay sameit Apne ghar par haazri ka sharf bakhsha aur Apne Habib SalAllah o Aleh Wa Aalehi Wasallam ke Roza At’her pay bhi haazri ka ssharf bakhsha

Saari zindagi har saans ke sath Allah Rab ul Izzat ka shukar karoon to aik lamhay ka bhi haq ada nahi ho sakta. jo kefiyat aur ehsasaat wahan hotay hain unhen sahih maienay mein alfaaz ke mehdood ihatay mein bayan karna na mumkin hai. Makkah  Mukaramah mein Bait Ullah Shareef mein Allah ka Jalaal aur Azmat roo pazeer hai, aur Madina Munawwara mein Khaatim ul Nabiyeen Rehmat ulilaalameen Salallah o Aleh Wa Aalehe Wa Sallam ki Rehmat, Mohabbat, Anwaraat ke Noor aur Sukoon ka samaa hai. Banda wahan ja kar, balkay jab yahan se rakhtِ e safar hi baandhta hai to duniya ki sochen, pareshaniya, bakherray, mustaqbil ki fikr, gharz har cheez se be-fikar aur be-niaz ho jata hai. yeh bhi Allah ka karam aur fazl hai .

Allah mujhe aur sab ko baar baar Apne ghar bulaye aur apne Habib hamaray Aaqa Sarkar e Aalam Rehmat Ulilaalameen Nabi e Rehmat Hazrat Muhammad Mustafa Salalallah o Alehe Wa Aalehe Wasallam ke Roza Mubarak pay haazri ki tofeeq ataa farmaye Ameen

Koshish karoon ga ke apne safrِ e haram ke aur khayalat aur waqeat yahan gosh-guzar karoon

بلا عنوان

Standard

گھر میں ابو جی  اور امی جی نے کچھ مرغیاں پال رکھی ہیں ۔ ایک مرغا اور ۳ تین مرغیاں  ہیں ۔ دیسی انڈوں کے علاوہ فائدے یہ ہیں کہ ایک تو ابو جی کو ایک مصروفیت مل گئی ہے اور چھوٹُو  کو جیتے جاگتے کھلونے ۔

آج صبح ناشتہ کرتے ہوئے ایک واقعہ ہوا ۔  بیگم بھی ساتھ بیٹھی ناشتہ کر رہی تھی ۔ مرغا مرغیاں دروازے  کے باہر تھے ۔ بیگم  اپنی ڈبل روٹی، بران بریڈ ،  سے چند چھوٹے  چھوٹے ٹکڑے دروازے کے پاس پھینک رہی تھی ۔ مرغا اندر آتا تھا اور وہ ٹکڑا منہ میں اٹھا کر کسی نہ کسی مرغی کے سامنے رکھتا تھا کہ وہ کھا لے  ۔ اور مرغی وہ ٹکڑا کھا لیتی تھی ۔ اسی طرح شروع کے ۴-۵ ٹکڑے اُس نے مرغیوں کو کھلائے  پھر کہیں ایک دانہ خود کھایا

میں یہ سب دیکھ رہا تھا اور ساتھ والے کمرے سے ابو اور امی کے چھوٹوُ کے ساتھ کھیلنے کی آوازیں آ رہی تھیں  اور میرے چہرے پہ بس ایک ہلکی سی مسکراہٹ ، دماغ میں یادیں اوردل میں تشکر تھا

رات اس نے پوچھا تھا (Raat us ne poocha tha)

Standard

020713_1750_Issebehterb1.png

chandni-december-ki2

020416_0845_2.png

raat us ne poocha tha

tum ko kaisi lagti hai

chandni December ki ?

main ne kehna chaaha tha

saal o mah ke baray main

guftugu ke kia ma’ni ?

chahay koi manzar ho

dasht ho , samandar ho

June ho , December ho

dharkano ka har naghma

manzaro’n pe bhaari hai

saath jab tumhara ho

Dil koi k sahara ho

aisa lagta hai jaise

ik nasha sa taari hai

lekin us ki qurbat main

kuch nahi kaha maine

takti reh gai mujh ko