Zindagi aise guzaaro ke Hayaat sanwar jaye (زندگی ایسے گزارو کہ حیات سنور جائے)

Standard


فقیر نے میرا ہاتھ پکڑا اور میری مُٹھی عجوہ کھجوروں سے بھر دی، فرمایا کھاؤ اور ساتھ بٹھا کے فرمانے لگے

بتاؤ تو حیاتی کس کو کہتے ہیں؟

میں نے کہا زندگی کو؟

تو میرے سر پر ہلکی سی چپت لگا کر فرمانے لگے نہیں نکمے حیاتی تو وہ ہوتی ہے جسے کبھی موت نہیں آتی ۔ دیکھو نہ اللہ تعالٰی کا ایک ایک لفظ ہیرے یاقوت و مرجان سے زیادہ پیارا اور قیمتی اور نصیحتوں سے بھرپور ہے

اللّٰه نے یہ نہیں کہا کہ اِسلام مکمل ضابطہِ زندگی ہے بلکہ یوں کہا کہ مکمل ضابطہِ حیات ھے اور حیاتی تو مرنے کے بعد شروع ہو گی جسے کبھی موت نہیں آئے گی

پھر گلاس میں میرے لیئے زم زم ڈالتے ہُوئے فرمانے لگے میرے بیٹے اللّٰہ نے زندگی دی ہے حیات کو سنوارنے کے لیئے نہ کہ بگاڑنے کے لیئے تو یہ زندگی بھی بھلا کوئی حیاتی ھے جسکو موت آ جائے گی ؟ اصل تو وہ حیات ھے جِسکو کبھی زوال نہیں کبھی موت نہیں

تو زندگی ایسے گزارو کہ حیات سنور جائے

اور میں زندگی میں تب پہلی بار سمجھا کہ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے کا اصل مطلب کیا ھے


020416_0845_2.png

Note: for best view, install Mehr Nastaleeq Font
Advertisements

Main jis tarah ke bhi khwaab likhun – Mohsin Naqvi (میں جس طرح کے بھی خواب لکھوں – محسن نقوی)

Standard

AquaSixio-Digital-Art-57be93b1d104b__880.jpg

میں آڑھے ترچھے خیال سوچوں

کہ بے ارادہ ۔ ۔ ۔ کتاب لکھوں؟

کوئی ۔ ۔ ۔ شناسا غزل تراشوں

کہ اجنبی ۔ ۔ ۔ انتساب لکھوں ؟

گنوا دوں اک عمر کے زمانے ۔ ۔ ۔

کہ ایک پل کے ۔ ۔ ۔ حساب لکھوں

میری طبیعت پر منحصر ہے

میں جس طرح کا ۔ ۔ ۔ نصاب لکھوں

یہ میرے اپنے مزاج پر ہے

عذاب ۔ ۔ ۔ سوچوں، ثواب ۔ ۔ ۔ لکھوں

 

طویل تر ہے سفر تمہیں کیا؟

میں جی رہا ہوں مگر ۔ ۔ ۔ تمہیں کیا؟

 

مگر تمہیں کیا کہ تم تو کب سے

میرے ۔ ۔ ۔ ارادے گنوا چکے ھو

جلا کے ۔ ۔ ۔ سارے حروف اپنے

میری ۔ ۔ ۔ دعائیں بجھا چکے ھو

میں رات اوڑھوں ۔ ۔ ۔ کہ صبح پہنوں ؟

تم اپنی رسمیں ۔ ۔ ۔ اٹھا چکے ھو

سنا ہے ۔ ۔ ۔ سب کچھ ۔ ۔ ۔ بھلا چکے ھو

 

تو  اب میرے دل پہ ۔ ۔ ۔ جبر کیسا؟

یہ دل تو حد سے گزر چکا ہے

خزاں کا موسم ۔ ۔ ۔ ٹھہر چکا ہے

ٹھہر ۔ ۔ ۔ چکا ہے مگر تمہیں کیا؟

گزر ۔ ۔ ۔ چکا ہے مگر تمہیں کیا؟

 

مگر تمہیں کیا ۔ ۔ ۔ کہ اس خزاں میں

میں جس طرح کے ۔ ۔ ۔ بھی خواب لکھوں

~ محسن نقوی ~

020416_0845_2.png

main aarhay tirchey khayal sochun

ke be-irada … kitaab likhun

koi shanasa … ghazal tarashun

ke ajnabi … antisaab likhun

ganwa’dun ik umr ke zamane …

ke har ik pal ke … hisaab likhun

meri tabiyat pe munhisar hai

main jis tarah ka … nisaab likhun

ye mere apne mizaaj par hai

azaab … sochon , sawaab … likhun

 

taweel tar hai safar, tumhe kya ?

main jee raha hon magar … tumhe kya ?

 

magar tumhe kya ke tum to kab se

mere … iradey ganwa chuke ho

jala ke … saare haroof apne

meri … duaen bhuja chuke ho,

main raat orhon … ke subah pehno’n

tum apni rasmein … utha chuke ho

suna hai … sab kuch … bhula chuke ho

 

to ab mere dil pe … jabar kesa?

ye dil to hadd se guzar chuka hai

khizaan ka mausam … thehar chuka hai

thehar chuka hai magar tumhe kya?

 

magar tumhe kya … ke iss khizaan me

main jis trah ke … bhi khwaab likhun

~ Mohsin Naqvi ~

Image : https://aquasixio.deviantart.com/
Note: To best view this post please install these beautiful Urdu fonts: Alvi Nastaleeq / Jameel Noori (kasheeda) and other fonts from thispublic shared Urdu Fonts folder

عشق ، محبت ، عقیدت

Standard

سنا ہےکہ جب کسی سے عشق ہوتا ہے تو اس سے جڑی ہر چیز سے محبّت اور عقیدت ہو جاتی ہے
اُس کی باتیں
اُس کی کتابیں 
اُس کا گھر 
گھر کے در و دیوار سے
یہاں تک کہ
اُس کے گھر میں لگے فانوس سے بھی عقیدت ہو جاتی ہے 

یا اللہ اپنے آپ کو تیرا عاشق کہنے کے قابل تو نہیں سمجھتا کہ عشق تو دور محبت کا حق بھی نہیں ادا کیا ۔ لیکن یااللہ یہ سچ ہے کہ تیرے اور تیرے حبیب صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھر سے ، اس کے در و دیوار سے ، اس کی زمین سے ، اس کی گرد سے ، اس کی ہواوں سے فضاوں سے ، یہاں تک کہ اس کے فانوسوں سے بھی عقیدت و محبت اپنے دِل میں محسوس کی ہے ۔
یا اللہ اس بات کے بہانے اپنے اور اپنے حبیب صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عاشقوں میں ابد تک کے لیئے میرا نام لکھ دے ۔ آمین 

Zakhm phoolo’n ki tarah mehkain gay par dekhe ga kon? (زخم پھولوں کی طرح مہکیں گے پر دیکھے گا کون)

Standard


اب کے رُت بدلی تو خوشبو کا سفر دیکھے گا کون

زخم پھولوں کی طرح مہکیں گے پر دیکھے گا کون

دیکھنا سب رقصِ بسمل میں مگن ہو جائیں گے

جس طرف سے تیر آئے گا ادھر دیکھے گا کون

زخم جتنے بھی تھے سب منسوب قاتل سے ہوئے

تیرے ہاتھوں کے نشاں اے چارہ گر دیکھے گا کون

وہ ہوس ہو یا وفا ہو بات محرومی کی ہے

لوگ تو پھل پھول دیکھیں گے شجر دیکھے گا کون

میری آوازوں کے سائے میرے بام ودر پہ ہیں

میرے لفظوں میں اُتر کر میرا گھر دیکھے گا کون

ہر کوئی اپنی ہوا میں مست پھرتا ہے فرازؔ

شہر نا پرساں میں تیری چشمِ تر دیکھے گا کون

ہم کہاں کھڑے ہیں؟

Standard

Syeda Tahreem Fatimah Blog

*پاک و ہند کے معروف ترین محدث*

*انور شاہ کشمیری رحمتہ اللہ علیہ*

*کے دنیا سے جانے سے پہلے کہ کچھ ایسی* *باتیں جو کہ ہر بندے کے رونگٹے کھڑے کر دے*

*کہ وہ لوگ اور ہم کہا کھڑے ہیں*؟*

—————————————–

ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺍﻧﻮﺭ ﺷﺎﮦ ﮐﺎﺷﻤﯿﺮﯼ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ

ﻣﯿﮟ

ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻧﻤﺎﺯِ ﻓﺠﺮ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮﮬﻮﺍ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ

ﺣﻀﺮﺕ ﺳﺮ ﭘﮑﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﮩﺖ ﻏﻤﺰﺩﮦ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮨﯿﮟ .. ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ..

” ﻣﺰﺍﺝ ﮐﯿﺴﺎ ﮨﮯ ..؟ ”

ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ” .. ﮨﺎﮞ ! ﭨﮭﯿﮏ ﮨﯽ ﮨﮯ ﻣﯿﺎﮞ .. ﻣﺰﺍﺝ ﮐﯿﺎ ﭘﻮﭼﮭﺘﮯ ﮨﻮ ..

ﻋﻤﺮ ﺿﺎﺋﻊ ﮐﺮ ﺩﯼ ..!”

ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ .. “ﺣﻀﺮﺕ ! ﺁﭖ ﮐﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﻋﻤﺮ ﻋﻠﻢ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ

ﻣﯿﮟ

ﺍﻭﺭ ﺩﯾﻦ ﮐﯽ ﺍﺷﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺭﯼ ﮨﮯ .. ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺷﺎﮔﺮﺩ ﻋﻠﻤﺎﺀ

ﮨﯿﮟ

ﺟﻮ ﺁﭖ ﺳﮯ ﻣﺴﺘﻔﯿﺪ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺧﺪﻣﺖِ ﺩﯾﮟ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ .. ﺁﭖ

ﮐﯽ…

View original post 544 more words