Rah e Shauq Se Ab Hata Chaahta Hoon (رہِ شوق سے اب ہٹا چاہتا ہوں)

Standard

رہِ شوق سے اب ہٹا چاہتا ہوں

کشش حسن کی دیکھنا چاہتا ہوں

کوئی دل سا درد آشنا چاہتا ہوں

رہِ عشق میں رہنما چاہتا ہوں

تجھی سے تجھے چھیننا چاہتا ہوں

یہ کیا چاہتا ہوں ، یہ کیا چاہتا ہوں

خطاؤں پہ جو مجھ کو مائل کرے پھر

سزا اور ایسی سزا چاہتا ہوں

وہ مخمور نظریں وہ مدہوش آنکھیں

خرابِ محبت ہوا چاہتا ہوں

وہ آنکھیں جھکیں وہ کوئی مسکرایا

پیامِ محبت سنا چاہتا ہوں

تجھے ڈھونڈتا ہوں تری جستجو ہے

مزا ہے کہ خود گم ہوا چاہتا ہوں

یہ موجوں کی بے تابیاں کون دیکھے

میں ساحل سے اب لوٹنا چاہتا ہوں

کہاں کا کرم اور کیسی عنایت

مجاز اب جفا ہی جفا چاہتا ہوں

۔ اسرار الحق مجاز ۔

020416_0845_2.png

The beautiful art is by brilliant artist Cyril Rolando (AquaSixio)

بلا عنوان

Standard

گھر میں ابو جی  اور امی جی نے کچھ مرغیاں پال رکھی ہیں ۔ ایک مرغا اور ۳ تین مرغیاں  ہیں ۔ دیسی انڈوں کے علاوہ فائدے یہ ہیں کہ ایک تو ابو جی کو ایک مصروفیت مل گئی ہے اور چھوٹُو  کو جیتے جاگتے کھلونے ۔

آج صبح ناشتہ کرتے ہوئے ایک واقعہ ہوا ۔  بیگم بھی ساتھ بیٹھی ناشتہ کر رہی تھی ۔ مرغا مرغیاں دروازے  کے باہر تھے ۔ بیگم  اپنی ڈبل روٹی، بران بریڈ ،  سے چند چھوٹے  چھوٹے ٹکڑے دروازے کے پاس پھینک رہی تھی ۔ مرغا اندر آتا تھا اور وہ ٹکڑا منہ میں اٹھا کر کسی نہ کسی مرغی کے سامنے رکھتا تھا کہ وہ کھا لے  ۔ اور مرغی وہ ٹکڑا کھا لیتی تھی ۔ اسی طرح شروع کے ۴-۵ ٹکڑے اُس نے مرغیوں کو کھلائے  پھر کہیں ایک دانہ خود کھایا

میں یہ سب دیکھ رہا تھا اور ساتھ والے کمرے سے ابو اور امی کے چھوٹوُ کے ساتھ کھیلنے کی آوازیں آ رہی تھیں  اور میرے چہرے پہ بس ایک ہلکی سی مسکراہٹ ، دماغ میں یادیں اوردل میں تشکر تھا

Standard

Its long , tldr is at the end, but I will “insist” that you read it if you can read urdu 🙂

 ھم تو اس جینے کے ھاتھوں مر چلے
————————————–
اس نے ایک مانگنے والے کو جھٹ سے کچھ نکال کر دے دیا – میں نے کہا کہ بھائی دیکھ بھال کر دینا چاھئے یہ فراڈ لوگ ھوتے ھیں اور عام انسان کے جذبہ نیکی کو ایکسپلائٹ کرتے ھیں  فرمانے لگے آپ نے بجا فرمایا میں پہلے ایسا ھی کیا کرتا تھا ،پھر ایک واقعے نے میری دنیا بدل کر رکھ دی –

میں دھرم پورہ لاھور میں اپنے گھر سے سائیکل پہ نکلا تھا کہ ٹھیکدار سے اپنے بقایا جات وصول کر لوں ،میں اسٹیل فکسر تھا اور ایک کوٹھی کے لینٹر کے پیسے باقی تھے مگر ٹھیکدار آج کل پر ٹرخا رھا تھا، میں سائیکل پہ جا رھا تھا کہ ایک شخص اپنا بچہ فٹ پاتھ کے کنارے لٹائے اسپتال پہنچانے کے لئے ٹیکسی کا کرایہ مانگتا پھر رھا تھا۔

وہ کبھی کسی پیدل کا بازو پکڑ کر ھاتھ جوڑ دیتا میرا بچہ بچا لیں ،مجھے ٹیکسی کا کرایہ دے دیں تو کبھی موٹر سائیکل والے کو ھاتھ دے کر روکتا ، کبھی کسی کار والے کے پیچھے بھاگتا کہ وہ کار میں اس کے بچے کو اسپتال پہنچا دے ،کوئی رکتا تو کوئی نہ رکتا ،، جو رُکتا وہ بھی اسے گھور کر دیکھتا اور آپ والی سوچ ،،، سوچ کر اسے ڈانٹتا ، کام کر کے کھانے کی نصیحت کرتا اور آگے نکل جاتا ۔

میں جو سائیکل سائڈ پہ روکے ایک پاؤں زمیں پر ٹیکے اس کا تماشہ دیکھ رھا تھا ، اچانک اس کی نظر مجھ پر بھی پڑی اور اس نے میری سائیکل کا ھینڈل پکڑ لیا ، بھائی جان خدا کے لئے میرے بچے کی زندگی بچا لیں اس کو سخت بخار ھے ۔ آپ نیچے اتر کر اس کو دیکھ تو لیں آپ کو یقین آ جائے گا ، آپ دیں گے تو شاید کسی اور کو بھی اعتبار آ جائے ۔

مگر میں بھی آپ کی طرح سوچ رھا تھا ،پھر جس جارحانہ انداز میں اس نے میری سائیکل کا ھینڈل پکڑ رکھا تھا لگتا تھا کہ ادھر میں سائیکل سے اترا اور ادھر وہ سائیکل پکڑ کے بھاگ جائے گا ،، میں نے بھی اسے کام کر کے کھانے کی تلقین کی اور پچھلے جمعے میں سنی ھوئی حدیث اس کو بھی سنا دی کہ ،الکاسب حبیب اللہ : کما کر کھانے والا اللہ کا دوست ھوتا ھے ، اور اپنا ھینڈل چھڑا کر بڑبڑاتا ھوا آگے چل پڑا ” حرامخور ھمیں بے وقوف سمجھتے ھیں
دو تین گھنٹے کے بعد جب میں بقایا جات وصول کر کے واپس آیا تو وہ ابھی اسی جگہ کھڑا مانگ رھا تھا ،بچے کو اب وہ سڑک کے پاس لے آیا تھا ، اور اس کے چہرے سے کپڑا بھی اٹھا رکھا تھا ،، وہ دھاڑیں مار مار کر رو رھا تھا ۔ اب وہ بچے کے کفن دفن کے لئے مانگ رھا تھا۔

میں نے سائیکل کو روک کر پاؤں نیچے ٹیکا اور میت کے چہرے کی طرف دیکھا ،،، پھول کی طرح معصوم بچہ ،،، زندگی کی بازی ھار گیا تھا ، میرے رونگٹے کھڑے ھو گئے ،میں نے جیب میں جو کچھ تھا بقایا جات سمیت سب بغیر گنے نکال کر باھر پھینکا اور اس سے پہلے کہ اس کا باپ میری طرف متوجہ ھو ،سائیکل اس تیزی سے چلا کر بھاگا گویا سارے لاھور کی بلائیں میرے پیچھے لگی ھوئی ھیں۔

میں گھر پہنچا تو میرا برا حال تھا ، تھڑی دیر کے بعد مجھے بخار نے آ گھیرا ،، بخار بھی کچھ ایسا تھا گویا میرے سارے گناھوں کا کفارہ اسی بخار سے ھونا تھا۔ گھر والے مجھے ہسپتال کے لئے لے کر نکلتے اور میں چارپائی سے چھلانگ لگا دیتا ،مجھے اسپتال نہیں جانا تھا ، میں اسی بچے کی طرح ایڑیاں رگڑ کر مرنا چاھتا تھا۔

دو تین دن کے بعد بخار کو تو آرام آ گیا مگر میں ذھنی مریض بن گیا ،مجھے لگتا گویا میرا اپنا اکلوتا بیٹا جو تیسری کلاس میں پڑھتا تھا وہ اس بچے کے کفارے میں مر جائے گا۔ میں نے بچے کا اسکول جانا بند کر دیا ، بیوی کے بار بار اصرار کے باوجود میں بچے کو اسکول تو کیا دروازہ کھولنے بھی نہیں جانے دیتا تھا –

40 دن گزر گئے تھے اور بچے کا نام اسکول سے کٹ گیا تھا ، وائف نے اپنے بھائی سے بات کی جو دبئ ایک کمپنی میں کیشئر تھا اس نے مجھے باھر بلانے کے لئے پاسپورٹ بنانے کو کہا ،مگر ایک تو میں شناختی کارڈ بھی پیسوں کے ساتھ نکال کر بچے کی میت پر پھینک آیا تھا ،دوسرا میں خود بھی بچے کو اکیلا چھوڑ کر باھر نہیں جانا چاھتا تھا – وہ چالیس دن قیامت کے چالیس دن تھے ۔

چالیسویں دن دس بجے کے لگ بھگ ھمارے گھر کا دروازہ بجا ،، دروازہ میں نے خود ھی کھولا اور سامنے اس بچے کے باپ کو دیکھ کر مجھے چکر آگئے ۔ مجھے لگا جیسے ھم دونوں آمنے سامنے کھڑے خلا میں چکر کاٹ رھے ھیں ، درمیان میں بچے کا چہرہ بھی آ جاتا ۔ میری کیفیت سے بےخبر اس باپ نے مجھے دبوچ لیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا ۔وہ کچھ کہنے کی بجائے میری ٹھوڑی کو ھاتھ لگاتا اور اسے چوم لیتا ، جبکہ میں پتھر کا بت بنے اس کی گرفت میں تھا ،، کہ اچانک مجھے جھٹکا لگا اور میری چیخ کچھ اس طرح نکلی جیسے کسی کو پانی پیتے وقت اچھو لگ جاتا ھے اور پانی اس کے منہ اور ناک سے بہہ نکلتا ھے ۔

میں اس بچے کے باپ کو سختی کے ساتھ سینے سے لگائے یوں رو رھا تھا گویا اس کا نہیں بلکہ میرا بچہ مر گیا ھے ،ھمارے رونے سے گھبرا کر پورا محلہ اکٹھا ھو گیا تھا ۔ آئستہ آئستہ 40 دنوں کا غبار نکلا ،، اس کو میں گھر میں لے کر آیا محلے والے بھی آگئے تھے جنہوں نے اس آدمی سے بہت افسوس کیا۔

کچھ دیر بعد اس نے اپنی جیب سے میرا شناختی کارڈ نکالا اور مجھے واپس کیا ،پھر جیب میں ھاتھ ڈال کر کچھ پیسے نکالے اور میرا شکریہ ادا کر کے کہنے لگا کہ آپ کے پیسے بڑے برکت والے تھے ۔شاید یہ آپ کے خلوص کی برکت تھی کہ میرے بہت سارے کام ھو گئے سارے اخراجات کے بعد کچھ پیسے بچ گئے تھے ان میں کچھ پیسے میں نے ادھار لے کر ڈالے ھیں ۔ یہ آپ قبول کر لیجئے ،باقی میں بہت جلد آپ کو واپس کر دونگا۔

میں نے پیسے واپس لینے سے سختی کے ساتھ انکار کر دیا ،، اور منت سماجت کر کے اسے پیسے رکھنے پر راضی کر لیا۔ اس کے بعد میں یہاں بطور اسٹیل فکسر آ گیا ، میں جی جان سے کام کرتا تھا چند ماہ میں ترقی کر کے فورمین بن گیا – تین سال بعد میں نے سالے کی مدد سے اپنی کمپنی بنا لی اور اس بچے کے والد کو بھی اپنی کمپنی میں بلا لیا ، آج وہ میری کمپنی میں فورمین ھے ، اس بچے کے بعد اللہ نے اسے دو بیٹوں اور ایک بیٹی سے نوازا ھے  میں اسے آپ سے ملواؤں گا مگر اس سے سائیکل والا قصہ مت بیان کیجئے گا ، وہ آج تک نہیں پہچانا کہ میری سائیکل روک کر اس نے مجھ سے سوال کیا تھا  وہ مجھے ولی اللہ سمجھتا ھے جس نے اس کے بچے کی لاش دیکھ کر سب کچھ نکال کے دے دیا

قاری صاحب اس دن کے بعد میں کسی کا ھاتھ خالی نہیں لوٹاتا ، تھوڑا سا دینے سے نہ وہ امیر ھوتا ھے اور نہ میں غریب ھوتا ھوں ،، بس دل کو تسلی ھوتی ھے کہ میں اس بچے کا خون بہا ادا کر رھا ھوں۔
رہ گئ لُوٹنے کی بات تو قاری صاحب ھمیں کون نہیں لُوٹتا ؟ جوتے والا ھمیں لوٹتا ھے ،کپڑے والا ھمیں لوٹتا ھے ، سبزی اور گوشت والا ھم کو لوٹتا ھے، اتنا لٹنے کے بعد اگر کوئی ھمیں اللہ کے نام پہ لوٹ لے تو شاید حشر میں ھماری نجات کا سامان ھو جائے کہ یہ بندہ میری خاطر، میرے نام پہ لُٹتا رھا ھے
—————————————–
(منقول)

Its difficult to translate/transliterate all of above, moral of the true story is, that one should, without judgement, give alms to beggars or who ever asks for money in public.

Most of us, when we encounter a person asking for money whether beggar or some other needy persona, we first judge whether he is truly needy or not , by his appearance or way of asking or whatever. And sometimes we tell them to work and earn his own.
Two things:

  1. By our limited knowledge and abilities we can never truly know whether the other person is speaking truth or not. whether he is truly needy or not. May be we judge wrong and he is truly needy and its a matter of life n death or something really urgent and serious.
  2. Secondly, even “if” he is a lying or cheating whether  in the name of sympathy or religion. What difference will a little money make on ‘our’ pockets. We are robbed by brands and fancy restaurants and shiny things which we don’t even ‘need’  all the time and we pay exorbitantly to them. If someone is asking (or robbing) you in the name of humanity .. why we become miser (kanjoos) ?? will we become poor by helping poor ?? srsly ?

I confess I myself do that same ‘judging’ when giving, but in shaa Allah from now on I will try not to. I pray Allah give us all hidayat and toufeeq to do good and help others without judgement. Ameen

Raahat e Dil .. Mata’ e Jaan Hai Tu(راحتِ دل متاعِ جاں ہے تو)

Standard

راحتِ دل متاعِ جاں ہے تو

اے غمِ دوست جاوداں ہے تو

 

آنسوؤں پر بھی تیرا سایہ ہے

دھوپ کے سر پر سائباں ہے تو

 

دل تری دسترس میں کیوں نہ رہے

اس زمیں پر تو آسماں ہے تو

 

شامِ شہر اداس کے والی

اے مرے مہرباں کہاں ہے تو

 

سایہء ابرِ رائیگاں ہوں میں

موجِ بحرِ بیکراں ہے تو

 

میں تہہِ دست وگرد پیرہن

لال و الماس کی دکاں ہے تو

 

لمحہ بھر مل کے روٹھنے والے

زندگی بھر کی داستاں ہے تو

 

کفر و ایماں کے فاصلوں کی قسم

اے متاعِ یقین گماں ہے تو

 

تیرا اقرار ہے نفی میری

میرے اثبات کا جہاں ہے تو

 

جو مقدر سنوار دیتے ہیں

ان ستاروں کی کہکشاں ہے تو

 

بے نشاں بے نشاں خیام میرے

کارواں کارواں رواں ہے تو

 

جلتے رہنا چراغِ آخرِ شب

اپنے محسن کا رازداں ہے تو

۔ محسن نقوی ۔

 

Raahat e dil .. Mata’ e jaan hai tu

Aye gham e dost jawedaan hai tu

 

Aansoun par bhi tera saya hai

Dhoop k sar pe saibaan hai tu

 

Dil teri dastaras main kyoun na rahay

Is zameen par to aasmaan hai tu

 

Shaam e shehr e udaas k wali !

Aye mere meherbaan kaha hai tu ?

 

Saya e abr e raigaan hoon main

Mauj e beher e bekaraan hai tu

 

Main tahe dast wa gard perahan

Laal o almas ki dukaan hai tu

 

Lamha bhar mil k roothnay walay

Zindagi bhar ki dastaan hai tu

 

Kufr o emaan k fasloun ki qasam

Aye Mata e yaqeen , gumaan hai tu

 

Tera iqraar hai nafi meri

Mere asbaat ka jahaan hai tu

 

Jo muqaddar sanwaar detay hain !

Un sitaroun ki kehkashan hai tu

 

Be nishaan be nishaan khayaam mere

Karvaan karvaan rawaan hai tu

 

Jaltay rehna chiraagh e aakhr e shab

Apne Mohsin ka raazdaan hai tu

– Mohsin Naqvi –

 

Note: To best view this post please install these beautiful Urdu fonts: Alvi Nastaleeq / Jameel Noori (kasheeda) and other fonts from this public shared Urdu Fonts folder
Image is not mine, taken from internet. Image is painting by artist Andre Kohn (link)

اِگے پت اور انگریزی کی غزل ___ گل نوخیز اختر

Standard

031112_1234_Urduhaimera1.png

” گُل نوخیز اختر کی تحریر سے اقتباس “

ہمارے سکول میں چھٹی کلاس سے اے بی سی شروع کرائی جاتی تھی ۔ مجھے یاد ہے تب ہم سب ‘سی ۔ یو۔ پی’ ’’سپ‘‘ پڑھا کرتے تھے۔ اس انگریزی کا بہت بڑا فائدہ یہ تھا کہ اکثر ٹیچر بھی اسی کو صحیح سمجھتے تھے اور نمبر بھی اچھے مل جایا کرتے تھے۔ میٹرک تک مجھے ‘Unfortunately’ کے سپیلنگ یاد نہیں ہوتے تھے، پھر میں نے دیسی طریقہ اپنایا، پورے لفظ کو چار حصوں میں تقسیم کیا اور یوں سپیلنگ یاد ہوگئے۔ زمانہ طالبعلمی میں بھی میری انگلش ایسی ہی تھی جیسی آج ہے۔ سو میں نے ایک ماہر انگریزی سے ٹیویشن پڑھنا شروع کردی۔ موصوف خود بی اے کے سٹوڈنٹ تھے اور بڑی تسلی سے ‘Huge’ کو ’’ہیوجی‘‘ پڑھایا کرتے تھے۔ الحمد للہ ان کی تعلیم کے نتیجے میں ہم دونوں انگریزی میں امتیازی نمبروں سے ناکام ہوا کرتے تھے۔

پچھلے دنوں سینما کا ایک بینر کھمبے پر ٹنگا دیکھا جس پر انگریزی فلم کا اردو میں لکھا نام پڑھ کر بے اختیار استاد صاحب یاد آگئے۔ اس بورڈ کی تصویر کے اختتام پر فلم کا نام شامل اشاعت ہے۔ فلم کا نام ہے ‘Gods of Egypt’۔ ترجمہ کرنے والے صاحب کی انگریزی چونکہ کچھ زیادہ ہی بہتر ہے اس لیے انہیں لفظ ‘Egypt’ کی سمجھ نہیں آئی تو انہوں نے فلم کا نام ’’گاڈ آف اِگے پت‘‘ رکھ دیا ہے۔ یقیناً اس میں پینٹر صاحب کی علمیت کا بھی خاصا عمل دخل ہے کیونکہ عموماً انگریزی فلموں کے ناموں کا ترجمہ یہ پینٹر حضرات ہی کرتے ہیں ۔ ملتان میں ایک ایسے ہی پینٹر ہوا کرتے تھے، کمال کا ترجمہ کرتے تھے اور حیرت انگیز بات یہ کہ ان کے ترجمے کے بعد ’ہاؤس فل‘ جاتا تھا۔

مجھے یاد ہے جب پہلی بار ملتان کے سینما گھروں میں ’گاڈزیلا‘ لگی تو موصوف نے اردو میں اسے ’گاڈ ۔ زہریلا‘‘ لکھا تھا ۔ قبلہ کو اگر فلم کے نام کا مطلب سمجھ میں آجاتا تو خود ہی ٹائٹل تخلیق کرلیا کرتے تھے۔ جب ’’ایول ڈیڈ‘ لگی تو پوسٹر پر تحریر فرمایا’’بے غیرت بدروحیں‘‘ ۔ ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا اور تانبا وغیرہ اس وقت کھل کر سامنے آیا جب حضرت نے معروف فلم ‘Above the law’ کا ترجمہ ’’ابو دی لا‘‘ کیا ۔ انگریزی کو اردو میں پڑھا جائے تو اکثر ایسا ہی ہوتاہے ۔

ہمارے علاقے میں ایک دفعہ ایک فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ کھلا جس کا نام Buddies رکھا گیا ۔ ریسٹورنٹ انتظامیہ نے اپنے پمفلٹ چھپوا کر سارے گھروں میں تقسیم کیے۔ اگلے دن محلے کے ایک صاحب میرے پاس آئے اور پمفلٹ دکھا کر بولے جناب ذرا یہ نام پڑھیئے ۔۔۔ کیا یہ کھلی فحاشی نہیں؟

یقین کیجئے جب گورمے ریسٹورنٹ بھی کھلا تھا تو اکثریت اسے ’’گورنمنٹ‘‘ سمجھی تھی۔آج بھی’’ شیورلے ‘‘ کار کا نام ’’شیورلیٹ‘‘ زبان زد عام ہے، Nike کو میرے جیسے ’’نائک‘‘ پڑھتے ہیں ۔ ویسے ایس ی انگریزی پڑھنے کا اپنا ہی مزا ہے۔ ’چمِسٹری اور کنالج‘ سے آگے جہاں اور بھی ہیں ۔

میرے ایک دوست کو سخت غصہ ہے کہ انگریزوں نے ہماری اردو پر ڈاکا ڈال لیا ہے اور اب ہر بندہ رومن انگریزی میں اردو لکھنے لگا ہے۔ انہوں نے اس کا بدلہ لینے کے لیے انگریزی کو اردو میں لکھنا شروع کر دیا ہے۔ پچھلے دنوں ان کے چھوٹے بچے کو بخار تھا، موصوف نے اردو میں انگریزی کی درخواست لکھ کر بھجوا دی۔’’ ڈیئر سر! آئی بیگ ٹو سے دیٹ مائی سن از اِل اینڈ ناٹ ایبل ٹو گوسکول، کائنڈلی گرانٹ ہم لیو فار ٹو ڈیز۔ یورس اوبی ڈی اینٹلی‘‘۔ جونہی ان کی درخواست پرنسپل صاحب تک پہنچی انہوں نے غور سے درخواست کا جائزہ لیا، کچھ سمجھ نہ آیا تو ایک خاتون ٹیچر کو بلایا اور درخواست دکھا کر مطلب پوچھا، خاتون کچھ دیر تک غور سے درخواست دیکھتی رہیں، پھر اچانک ان کے چہرے کا رنگ زرد پڑ گیا، کپکپاتی ہوئی آواز میں بولیں’’سر! یہ کسی نے آپ پر انتہائی خطرناک تعویز کرایا ہے‘‘۔

مجھے تسلیم ہے کہ میں انگریزی نہیں جانتا اسی لیے ابھی تک ’’ڈاکٹرائن‘‘ کو لیڈی ڈاکٹر سمجھتا ہوں۔اللہ جانتا ہے میں تو ایک عرصے تکSchool کو ’سچول‘ اور College کو ’کولیگ‘ اور Asia کو آسیہ پڑھتا رہا ہوں۔انگریزی کو ذبح کیے بغیر مزا ہی نہیں آتا۔ میرے دوست کا کہنا ہے کہ ہماری’’کیئرلیسِیوں‘‘ کی وجہ سے انگریزی کا تلفظ خراب ہورہا ہے۔ میرا خیال ہے غلط کہتا ہے، انگریزی کی بوٹیاں نوچنے کی لذت بے مثال ہے۔ جو مزا ’’موویاں‘‘ دیکھنے میں ہے وہ Movies میں کہاں۔ویسے بھی انگریزی خود بھی ایک پہیلی ہے، بندہ پوچھے جب Cut کٹ ہے، تو Put پَٹ کیوں نہیں؟؟؟ مختلف ملکوں کے نام بھی عجیب و غریب یں۔’’شام‘‘ کا نام Evening کی بجائے Syria کیوں ہے؟ یورپ کے سپیلنگ Europe کیوں ہیں بھائی؟ E کہاں سے ساتھ آگیا ؟؟؟ بینکاک کو Bangkok لکھنے کا کیا تُک ہے؟ بلاوجہ G اندر گھسا یا ہوا ہے۔اس طرح پیزا کے لفظ میں بھی T کو شامل باجا رکھا ہوا ہے۔ یہ سب چیزیں غلط ہیں اور ہمارا فرض بنتا ہے کہ جتنا ہوسکے انگریزی کو ٹھیک کریں۔

انگریزی کی بہتری کے لیے میرے پاس کچھ مفید تجاویز ہیں جس کے بعد انشاء اللہ جیسے ہم خود ٹھیک ہوئے ہیں ویسے ہی انگریزی بھی ٹھیک ہوجائے گی۔پہلی تجویز تو یہ ہے کہ انگریزی سے ہر قسم کے ایسے الفاظ نکال دینے چاہئیں جو پہلی نظر میں بیہودگی کا مرقع نظر آتے ہیں۔ اگر آپ نے لاہور دیکھا ہوا ہے تو اس کا ایک روڈ ’’بند روڈ‘‘ کہلاتا ہے ، اس کا بڑا سا بورڈ انگریزی میں لکھا ہوا ہے اور سراسر فحاشی کے زمرے میں آتا ہے، اس بورڈ اور اس کے لگانے والوں کو چوک میں پھانسی دے دینی چاہیے۔ Hug کا لفظ بھی آکسفورڈ ڈکشنری سے نکال دینا چاہیے یہ بہت برا لفظ ہے اس کی جگہ ’’جپھا‘‘ شامل ہونا چاہیے۔ چونکہ انگریزی کے بہت سے الفاظ ہماری زندگیوں میں شامل ہوچکے ہیں لہذا اب انگریزی بھی ہماری ہے۔ انگریزوں سے اسے چھین لینا چاہیے کیونکہ اردو کا دور تو اب ختم ہوچکا ہے۔ اردو اب صرف فیس بک کی اردو آپشن میں ہی اچھی لگتی ہے ، وہاں بھی کوئی اسے سلیکٹ کرنے کا خطرہ مول نہیں لیتا۔میں نے تو انگریزی میں شاعری بھی شروع کر دی ہے۔۔۔پیش خدمت ہے اپنی انگریزی غزل کے چند اشعار۔۔۔!!!

Your life is very sweet

My life is only tweet

Your life is a dream

My life is only shameem

Your life is Ice cream cake

My life is cycle di break