Tag Archives: Ashfaq Ahmad

اِک ڈاکو ڈاکا ماریا

Standard

 

اِک ڈاکو ڈاکا ماریا

میرا لُٹ لیا مال متاع

میں ہسدا وسدا رہ گیا

میری کوئی نہ چلی واہ

دیاں سِیساں اوس بے ترس نُوں

جس جُھگا دِتا ڈھاہ

اوہ ڈاڈھا ڈھول ڈکیت اے

توں ڈاڈھا بے پروا

 

اشفاق احمد

 

(source)

محبت تقسیم نہیں کرتے ۔ ۔ ۔ اقتباس : اشفاق احمد

Standard

اشفاق احمد کہتے ہیں

میرا پہلا بچہ میری گود میں تھا۔ میں ایک باغ میں بیٹھا تھا ۔ اور مالی کام کر رہے تھے۔

ایک مالی میرے پاس آیا اور کہنے لگا ” ماشااللہ بہت پیارا بچہ ہے ۔ اللہ اِس کی عمر دراز کرے “۔

میں نے اس سے پوچھا ” تمھارے کتنے بچے ہیں ؟ “-

وہ کہنے لگا “میرے آٹھ (8) بچے ہیں”-

جب اس نے آٹھ (8) بچوں کا ذکر کیا تو میں نے کہا کہ “اللہ اُن سب کو سلامت رکھے ۔ لیکن میں اپنی محبت کو آٹھ بچوں میں تقسیم کرنے پہ تیار نہیں ہوں”-

یہ سن کر مالی مسکرایا اور میری طرف چہرہ کر کے کہنے لگا :

۔ ۔ ۔

” صاحب جی ۔ ۔ ۔ محبت تقسیم نہیں کیا کرتے ۔ ۔ ۔ محبت کو ضرب دیا کرتے ہیں”-

Multiply=( ضرب)

Note: if you can’t view the Urdu characters correctly please download and install urdu fonts from following links:

Jameel Noori Kasheeda 2.0 Font

بند رابن کی کنج گلی میں

Standard

 

“آپ کو پتا ہے انفرادی جذبات کی ترجمانی کرنے والا سارا ادب … ”

“فوت ہو جائے گا” میں نے بات کاٹ کر کہا۔

“ہاں” وہ ہنس پڑی ۔ اس کی آنکھیں پکار پکار کر کہ رہی تھیں ۔ یہ نہایت ہی موزوں لفظ ہے ۔

 

یونیورسٹی لائبریری سے ایک دِن اچانک مجھے ایک انگریز مصنف کے خطوط  کی کتاب ملی. وہیں کھڑے کھڑے ایک دو خط پڑھے . یہ کتاب لائبریری میں 1927 سے پڑی تھی. مگر ایک دفع بھی اشوع نہیں ہوئی تھی . میں وہ کتاب لے کر گھر آ گیا اور رات بھر پڑھتا رہا . بڑے جذباتی خطوط تھے . سیدھی سادی زبان میں پیاری پیاری باتیں لکھی تھیں . پہلا خط کچھ اس طرح شروع ہوتا تھا !

 

جان ِتمنا ! ۔

جاننا چاہتی ہو کہ تمھارے چلے جانے کے بعد مجھ پر کیا بیتی ۔ مجھ سے پوچھتی ہو کہ پہاڑ کے دامن میں کسانوں کے ننھے ننھے جھونپڑے مجھے اب بھی ویسے ہی حسین نظر آتے ہیں اور وادی میں گلاب اور یاسمین کی نگہت اب بھی ویسی ہی طرب انگیز ہے۔ جب تم یہاں تھی؟ ۔ ۔ ۔ ۔ افسوس! ہر چیز نے اپنا لطف اپنا انداز بدل دیا ہے ۔ جب سے تم نے اس وادی کو چھوڑا ہے میں صاحبِ فراش ہوں۔ آج جونہی میں کھانے کی میز پر بیٹھا میرا دل اندر ہی اندر ڈوب گیا ۔ تنہا رکابی ، ایک چھری ، ایک کانٹا اور پانی کا گلاس، میں نے دکھے دل سے اس کرسی کی طرف دیکھا جس پر تم بیٹھا کرتی تھی اسے خالی دیکھ کر میرا جی بھر آیا اور میں نے چھری اور کانٹا میز پر ڈال دیے اور اسی رومال سے اپنا منہ ڈھانپ لیا ۔ ۔ ۔ ۔ مجھ سے پوچھتی ہو کہ مجھے وادی کی بہاریں اب کیسی لگتی ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

اشفاق احمد کے افسانے ” بندرا بن کی کنج گلی میں ” سے اقتباس

جو کہ میرے پسندیدہ ادیب کے پسندیدہ افسانوں میں سے ہے