Tag Archives: pakistan

آج بیٹھے بٹھائے کیوں یاد آگئے – گل نوخیز اختر

Standard

 

غالباً 1995 کی بات ہے، میرے دوست شہزادصغیر نے مجھے ایک عظیم خوشخبری سنائی کہ 3.5 ایم بی کی ہارڈ ڈسک مارکیٹ میں آگئی ہے مجھے یاد ہے ہم سب کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھیں۔ آج 100 جی بی والی ڈسک بھی چھوٹی لگتی ہے۔ وہ پینٹیم فور جو سٹیٹس سمبل سمجھا جاتا تھا آج کسی کو یاد ہی نہیں حالانکہ صرف چھ سات سال پہلے ہم میں سے اکثر کے پاس ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر تھے، آئے دن پاور فیل ہوجاتی تھی، سی ڈی روم خراب ہوجاتا تھا۔ اُن دنوں کمپیوٹر ٹھیک کرنے والے ‘انجینئرز’ کہلاتے تھے،آج کل مکینک کہلاتے ہیں۔ تھوڑا اور پیچھے چلے جائیں تو فلاپی ڈسک کے بغیر کام نہیں چلتا تھا، فلاپی اپنی مرضی کی مالک ہوتی تھی، چل گئی تو چل گئی ورنہ میز پر کھٹکاتے رہیں کہ شائد کام بن جائے۔ یہ سب کچھ ہم سب نے اپنی آنکھوں کے سامنے تیزی سے بدلتے ہوئے دیکھا۔ موبل آئل سے موبائل تک کے سفر میں ہم قدیم سے جدید ہوگئے ۔ لباس سے کھانے تک ہر چیز بدل گئی لیکن نہیں بدلا تو میتھی والے پراٹھے کاسواد نہیں بدلا۔ شہروں میں زنگر برگر اور فاسٹ فوڈ کی اتنی دوکانیں کھل گئی ہیں کہ آپ اگر مکئی کی روٹی اور ساگ کھانا چاہیں تو ڈھونڈتے رہ جائیں۔ گھروں میں بننے والی لسی اب ریڑھیوں پر آگئی ہے۔

شائد ہی کوئی ایسا گھر ہو جس میں سب لوگ ایک ہی وقت میں دستر خوان یا ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھ کرکھانا کھاتے ہوں۔فریج میں ہر چیز پڑی ہے، جس کا جب جی چاہتا ہے نکالتا ہے اور گرم کرکے کھا لیتا ہے۔ البتہ باہر جاکر کھانا ہوتو یہ روایت اب بھی برقرار ہے۔ جن گھروں کے دروازے رات آٹھ بجے کے بعد بند ہوجایا کرتے تھے وہ اب رات گیارہ بجے کے بعد کھلتے ہیں اورپوری فیملی ڈنرکھا کر رات ایک بجے واپس پہنچتی ہے۔ پورے دن کے لیے واٹر کولر میں دس روپے کی برف ڈالنے کی اب ضرورت نہیں رہی۔ اب ہر گھر میں فریج ہے، فریزر ہے لیکن برف پھر بھی استعمال نہیں ہوتی کیونکہ پانی ٹھنڈا ہوتاہے۔ فریج آیا تو ‘چھِکو’ بھی گیا۔ اب تندور پر روٹیاں لگوانے کے لیے پیڑے گھر سے بنا کر نہیں بھیجے جاتے۔ اب لنڈے کی پرانی پینٹ سے بچوں کے بستے نہیں سلتے، مارکیٹ میں ایک سے ایک ڈیزائن والا سکول بیگ دستیاب ہے۔بچے اب ماں باپ کو امی ابو سے زیادہ ‘یار’ کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ بلب انرجی سیور میں بدل گئے اور انرجی سیور ایل ای ڈی میں۔چھت پر سونا خواب بن گیا ہے لہذا اب گھروں میں چارپائیاں بھی نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں۔ ڈبل بیڈ ہیں اور ان پر بچھے موٹے موٹے گدے۔ مسہری اور پلنگ گھر کی سیٹنگ سے میچ نہیں کرتے۔ اب بچے سائیکل سیکھنے کے لیے قینچی نہیں چلاتے کیونکہ ہر عمر کے بچے کے سائز کا سائیکل آچکا ہے۔

جن سڑکوں پر تانگے دھول اڑاتے تھے وہاں اب گاڑیاں دھواں اڑاتی ہیں۔ کیازمانہ تھا جب گھروں کے دروازے سارا دن کھلے رہتے تھے بس آگے ایک بڑی سی چادر کا پردہ لٹکا ہوا ہوتا تھا۔ اب تو دن کے وقت بھی بیل ہو تو پہلے سی سی ٹی وی کیمرے میں دیکھنا پڑتا ہے ۔ شہر سے باہر کال ملانا ہوتی تھی تو لینڈ لائن فون پر پہلے کال بک کروانا پڑتی تھی اور پھر مستقل وہیں موجود رہنا پڑتا تھا ‘ گھنٹے بعد کال ملتی تھی اور کئی دفعہ درمیان میں آپریٹر بھی مداخلت کردیتا تھا کہ تین منٹ ہونے والے ہیں۔سعودیہ وغیرہ سے کوئی عزیز پاکستان آتا تھا توگفٹ کے طور پر ‘گھڑیاں’ ضرور لے کر آتا تھا۔ واک مین بھی ختم ہوگئے، پانی کے ٹب میں موم بتی سے چلنے والی کشتی بھی نہیں رہی۔ پانی کی ٹینکیوں کا رواج چلا تو گھر کا ہینڈ پمپ بھی ‘بوکی’ سمیت رخصت ہوا۔ واش بیسن آیا تو’ کھُرے’ بنانے کی بھی ضرورت نہیں رہی۔ چائے پیالی سے نکل کر کپ میں قید ہوگئی۔ سگریٹ آیا تو حقے کا خاتمہ کر گیا’ اب شائد ہی کسی گھرمیں کوئی حقہ تازہ ہوتا ہو۔میں نے ہمیشہ ماں جی کو پرانے کپڑوں اور ٹاکیوں کو اکھٹا کرکے تکیے میں بھرتے دیکھا۔تب ایسا ہی ہوتا تھا۔ اب نہیں ہوتا، اب مختلف میٹریلز کے بنے بنائے تکیے ملتے ہیں اور پسند بھی کیے جاتے ہیں۔ پہلے مائیں خود بچوں کے کپڑے سیتی تھیں، بازار سے اون کے گولے منگوا کر سارا دن جرسیاں بنتی تھیں، اب نہیں۔۔۔بالکل نہیں، ایک سے ایک جرسی بازار میں موجود ہے،سستی بھی، مہنگی بھی۔ پہلے کسی کو اُستاد بنایا جاتا تھا’ اب اُستاد مانا جاتا ہے۔ پہلے سب مل کر ٹی وی دیکھتے تھے’ اب اگر گھرمیں ایک ٹی وی بھی ہے تو اُس کے دیکھنے والوں کے اوقات مختلف ہیں۔ دن میں خواتین Repeat ٹیلی کاسٹ میں ڈرامے دیکھ لیتی ہیں’ شام کو مرد نیوز چینل سے دل بہلا لیتے ہیں۔ معصومیت بھرے پرانے دور میں الماریوں میں اخبارات بھی انگریزی بچھائے جاتے تھے کہ ان میں مقدس کتابوں کے حوالے نہیں ہوتے۔ چھوٹی سے چھوٹی کوتاہی پر بھی کوئی نہ کوئی سنا سنایا خوف آڑے آجاتا تھا۔ زمین پر نمک یا مرچیں گر جاتی تھیں تو ہوش و حواس اڑ جاتے تھے کہ قیامت والے دن آنکھوں سے اُٹھانی پڑیں گی۔

گداگروں کو پورا محلہ جانتا تھا اور گھروں میں ان کے لیے خصوصی طور پر کھلے پیسے رکھے جاتے تھے۔ محلے کا ڈاکٹر ایک ہی سرنج سے ایک دن میں پچاس مریضوں کو ٹیکے لگاتا تھا لیکن کسی کو کوئی انفیکشن نہیں ہوتی تھی۔ یرقان یا شدید سردرد کی صورت میں مولوی صاحب ماتھے پر ہاتھ رکھ کر دم کردیا کرتے تھے اور بندے بھلے چنگے ہوجاتے تھے۔ گھروں میں خط آتے تھے اور جو لوگ پڑھنا نہیں جانتے تھے وہ ڈاکیے سے خط پڑھواتے تھے ۔ ڈاکیا تو گویا گھر کا ایک فرد شمار ہوتا تھا، خط لکھ بھی دیتا تھا، پڑھ بھی دیتا تھا اور لسی پانی پی کر سائیکل پر یہ جا وہ جا۔ امتحانات کا نتیجہ آنا ہوتا تھا تو ‘نصر من اللہ وفتح قریب’ پڑھ کر گھر سے نکلتے تھے اور خوشی خوشی پاس ہوکر آجاتے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب لوگ کسی کی بات سمجھ کر ”اوکے” نہیں ”ٹھیک ہے” کہا کرتے تھے۔ موت والے گھر میں سب محلے دار سچے دل سے روتے تھے اور خوشی والے گھرمیں حقیقی قہقہے لگاتے تھے۔ہر ہمسایہ اپنے گھر سے سالن کی ایک پلیٹ ساتھ والوں کو بھیجتا تھا اور اُدھر سے بھی پلیٹ خالی نہیں آتی تھی۔ میٹھے کی تین ہی اقسام تھیں۔۔۔ حلوہ، زردہ چاول اور کھیر۔ آئس کریم دُکانوں سے نہیں لکڑی کی بنی ریڑھیوں سے ملتی تھی جو میوزک نہیں بجاتی تھیں۔ گلی گلی میں سائیکل کے مکینک موجود تھے جہاں کوئی نہ کوئی محلے دار قمیص کا کونا منہ میں دبائے ‘ پمپ سے سائیکل میں ہوا بھرتا نظر آتا تھا۔

نیاز بٹتی تھی تو سب سے پہلا حق بچوں کا ہوتا تھا۔ ہر دوسرے دن کسی نہ کسی گلی کے کونے سے آواز آجاتی ”کڑیو’ منڈیو’ شے ونڈی دی لے جاؤ’۔ اور آن کی آن میں بچوں کا جم غفیر جمع ہوجاتا اور کئی آوازیں سنائی دیتیں ”میرے بھائی دا حصہ وی دے دیو’۔ دودھ کے پیکٹ اور دُکانیں تو بہت بعد میں وجود میں آئیں’ پہلے تو لوگ ‘بھانے’ سے دودھ لینے جاتے تھے۔ گفتگو ہی گفتگو تھی’ باتیں ہی باتیں تھیں’ وقت ہی وقت تھا۔ گلیوں میں چارپائیاں بچھی ہوئی ہیں، محلے کے بابے حقے پی رہے ہیں اور پرانے بزرگوں کے واقعات بیان ہورہے ہیں۔ جن کے گھر وں میں ٹی وی آچکا تھا انہوں نے اپنے دروازے محلے کے بچوں کے لیے ہمیشہ کھلے رکھے۔ مٹی کا لیپ کی ہوئی چھت کے نیچے چلتا ہوا پنکھا سخت گرمی میں بھی ٹھنڈی ہوا دیتا تھا۔ لیکن۔۔۔پھر اچانک سب کچھ بدل گیا ۔ہم قدیم سے جدید ہوگئے۔

اب باورچی خانہ سیڑھیوں کے نیچے نہیں ہوتا۔ کھانا بیٹھ کر نہیں پکایا جاتا۔دستر خوان شائد ہی کوئی استعمال کرتا ہو۔ منجن سے ٹوتھ پیسٹ تک کے سفر میں ہم نے ہر چیز بہتر سے بہتر کرلی ہے لیکن پتا نہیں کیوں اس قدر سہولتوں کے باوجود ہمیں گھر میں ایک ایسا ڈبہ ضرور رکھنا پڑتا ہے جس میں ڈپریشن’ سردرد’ بلڈ پریشر’ نیند اوروٹامنز کی گولیاں ہر وقت موجود ہوں۔

۔۔۔

تحریر: گل نوخیز اختر

ذریعہ

Advertisements

When Time Stood Still by Yousaf Salahudin ( A tribute By Allama Iqbal’s Grandson To Jinnah’s Daughter, Dina Wadia )

Standard
23168054_10212849673489222_4276925855818060369_n
When time stood still 

By 
Yousaf Salahudin

I was dining with friends at my home when Shaukat Aziz, the finance
minister, mentioned to me that the Quaid-i-Azam's daughter and her
family were due to visit Pakistan during the Pakistan-India cricket
series. I could hardly believe that. The rest of the dinner passed in
a haze while I wondered what it would be like to meet this remarkable
lady.

I grew up in a family where stories of the Quaid were often narrated
and listened to in rapt attention. I never had the opportunity of
meeting the great man himself, even though he seemed omnipresent in
our house.

My maternal grandfather, Allama Mohammad Iqbal, gave the vision of
Pakistan and when the Mr Jinnah left Congress and settled down in
England, it was he who convinced the Quaid that a separate homeland
for Muslims was absolutely necessary. The Allama also convinced the
Indian Muslims that the Quaid was the only one who could achieve it.
It is quite simple really - had there been no Quaid, there would have
been no Pakistan. When they met for the last time at Allama Iqbal's
house shortly before his death in 1938, Iqbal told his son that a
gentleman would come to see him that day and that he should be
well-dressed and look for an opportunity to get his autograph. Dr
Javed Iqbal relates the story in his book Zinda Road. He went into the
room where he was sitting. After wishing the great leader, he
requested him for his autograph. While signing the book, the Quaid
asked him if he wrote poetry like his father did to which he replied
in the negative. The Quaid then asked him what he wanted to do when he
grew up. The young man didn't have an answer to that. Mr Jinnah then
asked Allama Iqbal why was his son was silent, to which the poet said:
"He is looking at you for advice."

On my father's side, our first contact with the League began as far
back as 1906 when the League was not a political party but a movement
of like-minded people. During the second session in Karachi, my
grandfather's younger brother and cousin attended as representatives
of our family. By that time, our family had already started a movement
on the lines of Sir Syed to educate underprivileged Muslims in the
Punjab. A group of well-to-do Muslims donated their time, money and
property for this cause and my great, great grandfather, Mian Karim
Buksh, was made life vice-president. It was this institution that
built the Islamia College, Railway Road, Islamia College Civil Lines
and Islamia College for Women, along with other educational
institutions and orphanages. The Anjuman Himayat-i-Islam, as it came
to be known, would hold an annual congregation of Muslims from all
over India every year. Smaller sessions were held at the Haveli
Baroodkhana which hosted dignitaries such as Altaf Hussain Hali,
Deputy Nazir Ahmed, Maulana Shaukat Ali and Maulana Mohammad Ali
Jauhar. It was this platform that the Quaid used to address the
Muslims of Punjab for the first time. And in 1940 when the Pakistan
Resolution was passed, the Quaid entrusted my grandfather, Mian
Aminuddin, with the task of organizing and holding the meeting. Mian
Aminuddin was chairman of the 'pindal committee.'

Coming back to the present, the possibility of seeing the Quaid's
daughter in this same haveli moved me beyond words. I didn't know very
much about Dina Wadia other than that she was a private person. I had
only read one interview of hers which was done for a documentary by my
friend Sophie Swire during the 50th independence celebrations of India
and Pakistan. I could clearly see her father in her. I once asked my
late mother-in-law, Begum Iftikharuddin, who knew both Jawaharlal
Nehru and the Quaid closely, what was the difference between the two.
She said that Nehru had an undeniable presence which one felt the
moment he entered a room, but when the Quaid walked in, his presence
was simply electrifying. I wondered if his daughter had the same kind
of personality.

I met Mr Jinnah's grandson Nasli Wadia and his sons, Ness and Jay, at
my house on the evening of March 24 at a party hosted by my son,
Jalal. I told Nasli of my overwhelming desire to meet his mother.

The next day, Nasli called to tell me that they were postponing their
departure to Karachi and that he would be happy if I joined him and
his mother at a chic cafe in the walled city where they were to dine
with their friend Shaharyar Khan and his family. After the initial
excitement died down, I noticed that Nasli, who had all the amenities
of the State Guest House at his disposal, had called me from his own
mobile phone. It was typical of what one had heard of the Quaid.

I arrived early at the cafe and was there to watch Ms Wadia walk in. I
was stunned by her resemblance to her father. Everyone who sees her
for the first time is struck by her remarkable likeness to her father.
Shaharyar Khan was kind enough to ask me to sit next to her. When I
was able to speak, the first thing I said to her was: "Ma'am, you have
done a great honour to us by coming to Pakistan." To which she
replied: "I'm happy to be here but you really must thank Shaharyar. It
was on his invitation that I am here."

A smorgasbord of Lahori specialities was relentlessly delivered to our
table. Though I was apprehensive of the assault on her taste buds, she
tried a bit of everything and was gracious in praising the food. She
then spoke highly of the ambience of the Old City and the Badshahi
Masjid. She told me that she had visited my grandfather's grave
earlier that day. I felt somewhat guilty for monopolizing the guest of
honour, but I couldn't help speaking to her. I talked about her father
and she listened with great interest. One could clearly see that she
loved her father very much. It was amazing not only how closely she
looked like her father, she also spoke like him. We were sitting near
the stairs leading up to the rooftop and people came and went past us
now and again. Out of these people, three women spotted Dina and
hesitantly made their way over to her. One tried to speak, but was
clearly choked up. After apologizing profusely for interrupting the
dinner, she said: "I don't have words to speak to you. God bless you."

As we were leaving the cafe, I met my old friend Haroon Rashid with
his family. I introduced him to Ms Wadia and said his grandfather, Sir
Abdul Rasheed, was the first chief justice and swore in the Quaid as
the first governor-general of Pakistan. Confusing Haroon's name with
the Haroon family, she said, "Of course I know the Haroon family, they
were friends of my father." Or maybe she knew his aunt was from the
Haroon family. The genuine emotion was overwhelming and I had to take
a minute to compose myself before asking her if she would do me the
honour of visiting my home. She agreed and I can say without
reservation that that was the greatest moment of my life.

I have in the past had the good fortune of entertaining dignitaries,
celebrities and heads of states, all of which paled into
insignificance when compared with this experience. We all made our way
over to my house where I showed her the pictures I had of her father
and our families. She looked at all of these pictures with great
affection, particularly at one of "Auntie Fatima", pictured with my
mother when she visited the Allama house in 1951. She looked at the
pack of cigarettes which I was holding, and said: "Stop smoking. It's
not good for your health."

"I am trying to, Ma'am," I said. "Well stop it then, I am ordering
you," she said firmly.

After the haveli, we went for dessert to a restaurant. She invited me
to sit in her car, making queries about the landmarks as we passed
them by, particularly Data Darbar, the facade of which she admired.
The restaurant was, as always, abuzz with young Lahoris enjoying an
evening out. There was a large contingent from Lums and some students,
on recognizing her, came forward to ask if they could shake her hand.

She graciously shook hands and spoke to them, wishing them luck. It
was heartening to see such reverence in the eyes of Pakistan's
so-called disrespectful youth. I don't think anyone who met Ms Wadia
will ever forget her. I opened the door of the car and said goodbye.
She kissed me on both cheeks and held my hand firmly. It was an
inexplicable sense of reassurance and comfort, this contact with the
Quaid's living link. A small crowd had gathered outside her car. A boy
on the street tried to approach her but was stopped by a policeman.
"No, no," she roared, in her father's voice, "let him come", and
motioned towards him. Like her father, she disliked police escorts and
the attendant fanfare. In awe-truck silence, the boy came to the car
where she took his hand, in her usual style with both hands. The
people standing around him also followed. There was complete silence
as I saw, for the first time ever, a group of Pakistanis forming an
orderly queue and waiting for their turn to shake hands with her.

The car rolled away and the evening was at an end. As I stood there
and watched her go, I could not help saying to myself: "Thank you,
Shaharyar Khan, you have served your country well but surely this was
your greatest achievement and thank you, General Pervez Musharraf, for
giving her the honour and respect she so deserves. Goodbye, Ma'am, and
God bless you. Come back soon, this is the home of your father and you
remind us so much of him.

It was over as soon as it had begun, this unimaginable encounter, the
most magical evening of my life.
dina-2

Above is the tribute by Yousuf Salahuddin, Allama Iqbal’s Grandson,  To  Dina Wadia on her death on November 2nd 2017.

Dina Wadia was the daughter and only child of our beloved Quaid Mohammad Ali Jinnah. She passed away in New york, at the age of 98. Quaid loved her very much. Stanley Wolpert in “Jinnah of Pakistan” writes :
During Jinnah’s time in London in 1930–33, Dina was [Jinnah’s] sole comfort, but Dina was away at school most of the time and home only for brief times, yet still the pampered daughter could be a joy to her doting father”.

Her relationship with her father became strained when she married neville wadia,a parsi, against his wishes.sHE  She visited Pakistan only twice. Once at the time of Quaid’s death in 1948. And second in 2004 with her son and grandchildren.

In March 2004, Wadia visited Lahore, Pakistan, to watch a cricket match between Pakistan and India. Wadia, her son Nusli Wadia and grandsons Ness Wadia and Jehangir Wadia also visited the mausoleum of her father to pay homage. In the visitors’ book, Wadia wrote:

“This has been very sad and wonderful for me. May his dream for Pakistan come true.”

sources: Saad Salahuddin and Wikipedia , images: lahore.gardens@fb

Mohabbatain baanto , nafratain na baanto

Video

Mohabbatain baanto , nafratain na baanto

Jaisa ke humaray pyaray Nabi Rehmat ul ilalameen Salalahu Alehe Wasallam ne Mohabbatain baanti.

“Nabi Salalahu Alehe Wasallam jis ne kaafiron ke sath ye hamdardi ki ke qatal karne walon ke liye dua maangi . Aur tum musalmaan ho ke aik doosre ko salaam karna chorr chukay ho .. aik doosre ke peechay namaz parhna chorr chukay ho .. aik doosre pe kufr ke fatway laga ke bethay huay ho“

A must listen and a message to all muslims no matter what maslak you belong to.

Koi to Hai Jo Nizam e hasti chala raha hai – Muzaffar Warsi – Hamd

Video

کوئی تو ہے جو ـــــ نظامِ ہستی چلا رہا ہے ـــــ وہی خدا ہے

حمد خواں : مظفر وارثی

Hamd: Koi to hai jo nizaam e hasti chala raha hai , Wohi KHUDA Hai
Reciter: Muzaffar Warsi

“THE” best and most favorite Hamd recitation of all time.

Audio version on soundcloud for easier listening and downloading :


 

کوئی تو ہے جو ـــــ نظامِ ہستی چلا رہا ہے ـــــ وہی خدا ہے

دکھائی بھی جو نہ دے ـــــ نظر بھی جو آرہا ہے ـــــ وہی خدا ہے

 
وہی ہے مشرق ـــــ وہی ہے مغرب ـــــ سفر کریں سب اُسی کی جانب

ہر آئینے میں جو عکس اپنا دکھا رہا ہے ــــــ وہی خدا ہے

 
تلاش اُس کو نہ کر بتوں میں ــــــ وہ ہے بدلتی ہوئی رُتوں میں

جو دن کو رات اور رات کو دن بنا رہا ہے ــــــ وہی خدا ہے

 
نظر بھی رکھے ،سماعتیں بھی ـــــ وہ جان لیتا ہے نیتیں بھی

جو خانہء لاشعور میں جگمگا رہا ہے ــــــ وہی خدا ہے

 
کسی کو سوچوں نے کب سراہا ــــــ وہی ہوا جو خدا نے چاہا

جو اختیارِ بشر پہ پہرے بٹھا رہا ہے ـــــ وہی خدا ہے

 
کسی کو تاجِ وقار بخشے ــــ کسی کو ذلت کے غار بخشے

جو سب کے ماتھے پہ مہرِ قدرت لگا رہا ہے ـــــ وہی خدا ہے

 
سفید اُس کا سیاہ اُس کا ـــــ نفس نفس ہے گواہ اُس کا

جو شعلہء جاں جلا رہا ہے ـــــ بُجھا رہا ہے ـــــ وہی خدا ہے

ـــــــــــــــــــــــ

مظفر وارثی

 

Koi to hai jo __ nizam e hasti chala raha hai __ Wohi KHUDA Hai
Dikhai bhi jo na de __ nazar bhi jo aa raha hai __ Wohi KHUDA Hai

Wohi hai mashriq __ wohi hai maghrib __ safar karain sab usi ki jaanib
Har aainay main jo aks apna dikha raha hai __ Wohi KHUDA Hai

Talaash Us ko na kar b’utoN main __ Wohi KHUDA Hai
Jo din ko raat aur raat ko din bana raha hai __ Wohi KHUDA Hai

Nazar bhi rakhay , sama’atain bhi __ Woh jaan leta hai niyatain bhi
Jo khaana E la-shaoor jagmaga raha hai __ Wohi KHUDA Hai

Kisi ko socho’n ne kab saraha __ wohi hua jo KHUDA ne chaha
Jo ikhtiyar e bashr pe pehray bitha raha hai __ Wohi KHUDA Hai

Kisi ko taj E waqar bakhshay __ Kisi ko zillat ke ghaar bakhshay
Jo sab ke maathay pe mohr e qudrat laga raha hai __ Wohi KHUDA Hai

Safaid Us ka siyah Us ka __ nafas nafaz hai gawah Us ka
Jo shola e jaa’n jalaa raha hai __  bujha raha hai __  Wohi KHUDA Hai
_____
Muzaffar Warsi