Muammar Gaddafi ‘s Last Speech


In the name of Allah, the …beneficent, the merciful…

For 40 years, or was it longer, I can’t remember, I did all I could to give people houses, hospitals, schools, and when they were hungry, I gave them food. I even made Benghazi into farmland from the desert, I stood up to attacks from that cowboy Ronald Reagan, when he killed my adopted orphaned daughter, he was trying to kill me, instead he killed that poor innocent child. Then I helped my brothers and sisters from Africa with money for the African Union.

I did all I could to help people Understand the concept of real democracy, where people’s committees ran our country. But that was never enough, as some told me, even people who had 10 room homes, new suits and furniture, were never satisfied, as selfish as they were they wanted more. They told Americans and other visitors, that they needed “democracy” and “freedom” never realizing it was a cut throat system, where the biggest dog eats the rest, but they were enchanted with those words, never realizing that in America, there was no free medicine, no free hospitals, no free housing, no free education and no free food, except when people had to beg or go to long lines to get soup.

No, no matter what I did, it was never enough for some, but for others, they knew I was the son of Gamal Abdel Nasser, the only true Arab and Muslim leader we’ve had since Salah-al-Deen, when he claimed the Suez Canal for his people, as I claimed Libya, for my people, it was his footsteps I tried to follow, to keep my people free from colonial domination – from thieves who would steal from us.

Now, I am under attack by the biggest force in military history, my little African son, Obama wants to kill me, to take away the freedom of our country, to take away our free housing, our free medicine, our free education, our free food, and replace it with American style thievery, called “capitalism”, but all of us in the Third World know what that means, it means corporations run the countries, run the world, and the people suffer.

So, there is no alternative for me, I must make my stand, and if Allah wishes, I shall die by following His path, the path that has made our country rich with farmland, with food and health, and even allowed us to help our African and Arab brothers and sisters.

I do not wish to die, but if it comes to that, to save this land, my people, all the thousands who are all my children, then so be it.

Let this testament be my voice to the world, that I stood up to crusader attacks of NATO, stood up to cruelty, stoop up to betrayal, stood up to the West and its colonialist ambitions, and that I stood with my African brothers, my true Arab and Muslim brothers, as a beacon of light.

When others were building castles, I lived in a modest house, and in a tent. I never forgot my youth in Sirte, I did not spend our national treasury foolishly, and like Salah-al-Deen, our great Muslim leader, who rescued Jerusalem for Islam, I took little for myself…

In the West, some have called me “mad”, “crazy”, but they know the truth yet continue to lie, they know that our land is independent and free, not in the colonial grip, that my vision, my path, is, and has been clear and for my people and that I will fight to my last breath to keep us free, may Allah almighty help us to remain faithful and free.

– Mu’ammar Qaddafi.

May Allah forgive and grant you with Jannat ul Firdaus. Ameen

Facts about Libya under Muammar Gaddafi

  • There was no electricity bills in Libya; electricity is free … for all its citizens.
  • There was no interest on loans, banks in Libya are state-owned and loans given to all its citizens at 0% interest by law.
  • If a Libyan is unable to find employment after graduation, the state would pay the average salary of the profession as if he or she is employed until employment is found.
  • Should Libyans want to take up a farming career, they receive farm land, a house, equipment, seed and livestock to kick start their farms –this was all for free.
  • Gaddafi carried out the world’s largest irrigation project, known as the Great Man-Made River project, to make water readily available throughout the desert country.
  • A home was considered a human right in Libya. (In Qaddafi’s Green Book it states: “The house is a basic need of both the individual and the family, therefore it should not be owned by others.”)
  • All newlyweds in Libya would receive 60,000 Dinar (US$ 50,000 ) by the government to buy their first apartment so to help start a family.
  • A portion of Libyan oil sales is or was credited directly to the bank accounts of all Libyan citizens.
  • A mother who gives birth to a child would receive US $5,000.
  • When a Libyan buys a car, the government would subsidizes 50% of the price.
  • The price of petrol in Libya was $0.14 per liter.
  • For $ 0.15, a Libyan local could purchase 40 loaves of bread.
  • Education and medical treatments was all free in Libya. Libya can boast one of the finest health care systems in the Arab and African World. All people have access to doctors, hospitals, clinics and medicines, completely free of charge.
  • If Libyans cannot find the education or medical facilities they need in Libya, the government would fund them to go abroad for it – not only free but they get US $2,300/month accommodation and car allowance.
  • 25% of Libyans have a university degree. Before Gaddafi only 25% of Libyans were literate. Today the figure is 87%.
  • Libya had no external debt and its reserves amount to $150 billion – though much of this is now frozen globally.




آج بیٹھے بٹھائے کیوں یاد آگئے – گل نوخیز اختر



غالباً 1995 کی بات ہے، میرے دوست شہزادصغیر نے مجھے ایک عظیم خوشخبری سنائی کہ 3.5 ایم بی کی ہارڈ ڈسک مارکیٹ میں آگئی ہے مجھے یاد ہے ہم سب کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھیں۔ آج 100 جی بی والی ڈسک بھی چھوٹی لگتی ہے۔ وہ پینٹیم فور جو سٹیٹس سمبل سمجھا جاتا تھا آج کسی کو یاد ہی نہیں حالانکہ صرف چھ سات سال پہلے ہم میں سے اکثر کے پاس ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر تھے، آئے دن پاور فیل ہوجاتی تھی، سی ڈی روم خراب ہوجاتا تھا۔ اُن دنوں کمپیوٹر ٹھیک کرنے والے ‘انجینئرز’ کہلاتے تھے،آج کل مکینک کہلاتے ہیں۔ تھوڑا اور پیچھے چلے جائیں تو فلاپی ڈسک کے بغیر کام نہیں چلتا تھا، فلاپی اپنی مرضی کی مالک ہوتی تھی، چل گئی تو چل گئی ورنہ میز پر کھٹکاتے رہیں کہ شائد کام بن جائے۔ یہ سب کچھ ہم سب نے اپنی آنکھوں کے سامنے تیزی سے بدلتے ہوئے دیکھا۔ موبل آئل سے موبائل تک کے سفر میں ہم قدیم سے جدید ہوگئے ۔ لباس سے کھانے تک ہر چیز بدل گئی لیکن نہیں بدلا تو میتھی والے پراٹھے کاسواد نہیں بدلا۔ شہروں میں زنگر برگر اور فاسٹ فوڈ کی اتنی دوکانیں کھل گئی ہیں کہ آپ اگر مکئی کی روٹی اور ساگ کھانا چاہیں تو ڈھونڈتے رہ جائیں۔ گھروں میں بننے والی لسی اب ریڑھیوں پر آگئی ہے۔

شائد ہی کوئی ایسا گھر ہو جس میں سب لوگ ایک ہی وقت میں دستر خوان یا ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھ کرکھانا کھاتے ہوں۔فریج میں ہر چیز پڑی ہے، جس کا جب جی چاہتا ہے نکالتا ہے اور گرم کرکے کھا لیتا ہے۔ البتہ باہر جاکر کھانا ہوتو یہ روایت اب بھی برقرار ہے۔ جن گھروں کے دروازے رات آٹھ بجے کے بعد بند ہوجایا کرتے تھے وہ اب رات گیارہ بجے کے بعد کھلتے ہیں اورپوری فیملی ڈنرکھا کر رات ایک بجے واپس پہنچتی ہے۔ پورے دن کے لیے واٹر کولر میں دس روپے کی برف ڈالنے کی اب ضرورت نہیں رہی۔ اب ہر گھر میں فریج ہے، فریزر ہے لیکن برف پھر بھی استعمال نہیں ہوتی کیونکہ پانی ٹھنڈا ہوتاہے۔ فریج آیا تو ‘چھِکو’ بھی گیا۔ اب تندور پر روٹیاں لگوانے کے لیے پیڑے گھر سے بنا کر نہیں بھیجے جاتے۔ اب لنڈے کی پرانی پینٹ سے بچوں کے بستے نہیں سلتے، مارکیٹ میں ایک سے ایک ڈیزائن والا سکول بیگ دستیاب ہے۔بچے اب ماں باپ کو امی ابو سے زیادہ ‘یار’ کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ بلب انرجی سیور میں بدل گئے اور انرجی سیور ایل ای ڈی میں۔چھت پر سونا خواب بن گیا ہے لہذا اب گھروں میں چارپائیاں بھی نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں۔ ڈبل بیڈ ہیں اور ان پر بچھے موٹے موٹے گدے۔ مسہری اور پلنگ گھر کی سیٹنگ سے میچ نہیں کرتے۔ اب بچے سائیکل سیکھنے کے لیے قینچی نہیں چلاتے کیونکہ ہر عمر کے بچے کے سائز کا سائیکل آچکا ہے۔

جن سڑکوں پر تانگے دھول اڑاتے تھے وہاں اب گاڑیاں دھواں اڑاتی ہیں۔ کیازمانہ تھا جب گھروں کے دروازے سارا دن کھلے رہتے تھے بس آگے ایک بڑی سی چادر کا پردہ لٹکا ہوا ہوتا تھا۔ اب تو دن کے وقت بھی بیل ہو تو پہلے سی سی ٹی وی کیمرے میں دیکھنا پڑتا ہے ۔ شہر سے باہر کال ملانا ہوتی تھی تو لینڈ لائن فون پر پہلے کال بک کروانا پڑتی تھی اور پھر مستقل وہیں موجود رہنا پڑتا تھا ‘ گھنٹے بعد کال ملتی تھی اور کئی دفعہ درمیان میں آپریٹر بھی مداخلت کردیتا تھا کہ تین منٹ ہونے والے ہیں۔سعودیہ وغیرہ سے کوئی عزیز پاکستان آتا تھا توگفٹ کے طور پر ‘گھڑیاں’ ضرور لے کر آتا تھا۔ واک مین بھی ختم ہوگئے، پانی کے ٹب میں موم بتی سے چلنے والی کشتی بھی نہیں رہی۔ پانی کی ٹینکیوں کا رواج چلا تو گھر کا ہینڈ پمپ بھی ‘بوکی’ سمیت رخصت ہوا۔ واش بیسن آیا تو’ کھُرے’ بنانے کی بھی ضرورت نہیں رہی۔ چائے پیالی سے نکل کر کپ میں قید ہوگئی۔ سگریٹ آیا تو حقے کا خاتمہ کر گیا’ اب شائد ہی کسی گھرمیں کوئی حقہ تازہ ہوتا ہو۔میں نے ہمیشہ ماں جی کو پرانے کپڑوں اور ٹاکیوں کو اکھٹا کرکے تکیے میں بھرتے دیکھا۔تب ایسا ہی ہوتا تھا۔ اب نہیں ہوتا، اب مختلف میٹریلز کے بنے بنائے تکیے ملتے ہیں اور پسند بھی کیے جاتے ہیں۔ پہلے مائیں خود بچوں کے کپڑے سیتی تھیں، بازار سے اون کے گولے منگوا کر سارا دن جرسیاں بنتی تھیں، اب نہیں۔۔۔بالکل نہیں، ایک سے ایک جرسی بازار میں موجود ہے،سستی بھی، مہنگی بھی۔ پہلے کسی کو اُستاد بنایا جاتا تھا’ اب اُستاد مانا جاتا ہے۔ پہلے سب مل کر ٹی وی دیکھتے تھے’ اب اگر گھرمیں ایک ٹی وی بھی ہے تو اُس کے دیکھنے والوں کے اوقات مختلف ہیں۔ دن میں خواتین Repeat ٹیلی کاسٹ میں ڈرامے دیکھ لیتی ہیں’ شام کو مرد نیوز چینل سے دل بہلا لیتے ہیں۔ معصومیت بھرے پرانے دور میں الماریوں میں اخبارات بھی انگریزی بچھائے جاتے تھے کہ ان میں مقدس کتابوں کے حوالے نہیں ہوتے۔ چھوٹی سے چھوٹی کوتاہی پر بھی کوئی نہ کوئی سنا سنایا خوف آڑے آجاتا تھا۔ زمین پر نمک یا مرچیں گر جاتی تھیں تو ہوش و حواس اڑ جاتے تھے کہ قیامت والے دن آنکھوں سے اُٹھانی پڑیں گی۔

گداگروں کو پورا محلہ جانتا تھا اور گھروں میں ان کے لیے خصوصی طور پر کھلے پیسے رکھے جاتے تھے۔ محلے کا ڈاکٹر ایک ہی سرنج سے ایک دن میں پچاس مریضوں کو ٹیکے لگاتا تھا لیکن کسی کو کوئی انفیکشن نہیں ہوتی تھی۔ یرقان یا شدید سردرد کی صورت میں مولوی صاحب ماتھے پر ہاتھ رکھ کر دم کردیا کرتے تھے اور بندے بھلے چنگے ہوجاتے تھے۔ گھروں میں خط آتے تھے اور جو لوگ پڑھنا نہیں جانتے تھے وہ ڈاکیے سے خط پڑھواتے تھے ۔ ڈاکیا تو گویا گھر کا ایک فرد شمار ہوتا تھا، خط لکھ بھی دیتا تھا، پڑھ بھی دیتا تھا اور لسی پانی پی کر سائیکل پر یہ جا وہ جا۔ امتحانات کا نتیجہ آنا ہوتا تھا تو ‘نصر من اللہ وفتح قریب’ پڑھ کر گھر سے نکلتے تھے اور خوشی خوشی پاس ہوکر آجاتے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب لوگ کسی کی بات سمجھ کر ”اوکے” نہیں ”ٹھیک ہے” کہا کرتے تھے۔ موت والے گھر میں سب محلے دار سچے دل سے روتے تھے اور خوشی والے گھرمیں حقیقی قہقہے لگاتے تھے۔ہر ہمسایہ اپنے گھر سے سالن کی ایک پلیٹ ساتھ والوں کو بھیجتا تھا اور اُدھر سے بھی پلیٹ خالی نہیں آتی تھی۔ میٹھے کی تین ہی اقسام تھیں۔۔۔ حلوہ، زردہ چاول اور کھیر۔ آئس کریم دُکانوں سے نہیں لکڑی کی بنی ریڑھیوں سے ملتی تھی جو میوزک نہیں بجاتی تھیں۔ گلی گلی میں سائیکل کے مکینک موجود تھے جہاں کوئی نہ کوئی محلے دار قمیص کا کونا منہ میں دبائے ‘ پمپ سے سائیکل میں ہوا بھرتا نظر آتا تھا۔

نیاز بٹتی تھی تو سب سے پہلا حق بچوں کا ہوتا تھا۔ ہر دوسرے دن کسی نہ کسی گلی کے کونے سے آواز آجاتی ”کڑیو’ منڈیو’ شے ونڈی دی لے جاؤ’۔ اور آن کی آن میں بچوں کا جم غفیر جمع ہوجاتا اور کئی آوازیں سنائی دیتیں ”میرے بھائی دا حصہ وی دے دیو’۔ دودھ کے پیکٹ اور دُکانیں تو بہت بعد میں وجود میں آئیں’ پہلے تو لوگ ‘بھانے’ سے دودھ لینے جاتے تھے۔ گفتگو ہی گفتگو تھی’ باتیں ہی باتیں تھیں’ وقت ہی وقت تھا۔ گلیوں میں چارپائیاں بچھی ہوئی ہیں، محلے کے بابے حقے پی رہے ہیں اور پرانے بزرگوں کے واقعات بیان ہورہے ہیں۔ جن کے گھر وں میں ٹی وی آچکا تھا انہوں نے اپنے دروازے محلے کے بچوں کے لیے ہمیشہ کھلے رکھے۔ مٹی کا لیپ کی ہوئی چھت کے نیچے چلتا ہوا پنکھا سخت گرمی میں بھی ٹھنڈی ہوا دیتا تھا۔ لیکن۔۔۔پھر اچانک سب کچھ بدل گیا ۔ہم قدیم سے جدید ہوگئے۔

اب باورچی خانہ سیڑھیوں کے نیچے نہیں ہوتا۔ کھانا بیٹھ کر نہیں پکایا جاتا۔دستر خوان شائد ہی کوئی استعمال کرتا ہو۔ منجن سے ٹوتھ پیسٹ تک کے سفر میں ہم نے ہر چیز بہتر سے بہتر کرلی ہے لیکن پتا نہیں کیوں اس قدر سہولتوں کے باوجود ہمیں گھر میں ایک ایسا ڈبہ ضرور رکھنا پڑتا ہے جس میں ڈپریشن’ سردرد’ بلڈ پریشر’ نیند اوروٹامنز کی گولیاں ہر وقت موجود ہوں۔


تحریر: گل نوخیز اختر


محبت – Mohabbat


asfhaq ahmad bano qudsia

میں سوشیالوجی کے طالبعلم کی طرح سوچنے لگا کہ جب انسان نے سوسائٹی کو تشکیل دیا ہو گا تو یہ ضرورت محسوس کی ہو گی کہ فرد علیحدہ علیحدہ مطمئن زندگی بسر نہیں کر سکتے۔ باہمی ہمدردی میل جول اور ضروریات نے معاشرہ کو جنم دیا ہو گا۔ لیکن رفتہ رفتہ سوسائٹی اتنی پیچ در پیچ ہو گئی کہ باہمی میل جول، ہمدردی اور ضرورت نے تہذیب کے جذباتی انتشار کا بنیادی پتھر رکھا ۔ جس محبت کے تصور کے بغیر معاشرے کی تشکیل ممکن نہ تھی، شاید اسی محبت کو مبالغہ پسند انسان نے خدا ہی سمجھ لیا اور انسان دوستی کو انسانیت کی معراج ٹھہرایا۔ پھر یہی محبت جگہ جگہ نفرت، حقارت اور غصے سے زیادہ لوگوں کی زندگیاں سلب کرنے لگی۔ محبت کی خاطر قتل ہونے لگے۔۔۔۔۔۔۔خود کشی وجود میں آئی۔۔۔۔۔۔سوسائٹی اغوا سے، شبخون سے متعارف ہوئی۔

رفتہ رفتہ محبت ہی سوسائٹی کا ایک بڑا روگ بن گئی، اس جن کو ناپ کی بوتل میں بند رکھنا معاشرے کے لیے ممکن نہ رہا۔ اب محبت کے وجود یا عدم وجود پر ادب پیدا ہونے لگا۔۔۔۔بچوں کی سائیکالوجی جنم لینے لگی۔ محبت کے حصول پر مقدمے ہونے لگے۔ ساس بن کر ماں ڈائن کا روپ دھارنے لگی۔

معاشرے میں محبت کے خمیر کی وجہ سے کئی قسم کا ناگوار’بیکٹیریا’ پیدا ہوا۔

نفرت کا سیدھا سادا شیطانی روپ ھے۔ محبت سفید لباس میں ملبوس عمرو عیار ھے۔ ہمیشہ دو راہوں پر لا کھڑا کر دیتی ھے۔ اس کی راہ پر ہر جگہ راستہ دکھانے کو صلیب کا نشان گڑا ہوتا ھے۔ محبتی جھمیلوں میں کبھی فیصلہ کن سزا نہیں ہوتی ہمیشہ عمر قید ہوتی ھے۔ جس معاشرے نے محبت کو علم بنا کر آگے قدم رکھا وہ اندر ہی اندر اس کے انتظار سے بُری طرح متاثر بھی ہوتی چلی گئی۔ جائز و ناجائز محبت کے کچھ ٹریفک رولز بنائے لیکن ہائی سپیڈ معاشرے میں ایسے سپیڈ بریکر کسی کام کے نہیں ہوتے کیونکہ محبت کا خمیر ہی ایسا ھے۔۔۔۔ زیادہ خمیر لگ جائے تو بھی سوسائٹی پھول جاتی ھے۔ کم رہ جائے تو بھی پپڑی کی طرح تڑخ جاتی ھے۔

بانو قدسیہ کے ناول “راجہ گدھ” سے اقتباس

020416_0845_2.png ذریعہ: ۔

وہ عابی جو تھا !! گُزر گیا ہے



میں زندگی سے جُڑا ہوا ہوں

اِسی لیے تو !! مَرا ہوا ہوں


تُو کہکشاؤں کی سیر کرلے !!۔

مُجھے ہے سونا !! تھکا ہوا ہوں


میں دوستوں سے کٹا ہوا ہوں

جبھی تو اب تک !! بچا ہوا ہوں


تمھارے بس میں نہیں وہ قیمت !!۔

میں اِتنا مہنگا !! بِکا ہوا ہوں


کوئی بھی رستہ نیا نہیں ہے

ہر ایک رُخ پر !! چلا ہوا ہوں


کسی پہ کیسے بھروسہ کر لُوں !!۔

میں خود سے مِل کے !! ڈرا ہوا ہوں


رگوں میں کالا لہو رواں ہے !!۔

میں اِتنا !! اب تک !! ڈسا ہوا ہوں


وہ سامنے بھی کھڑا ہوں میں ہی !!۔

اِدھر بھی میں ہی !! پڑا ہوا ہوں


وہ عابی جو تھا !! گُزر گیا ہے

یہ عابی جو ہے !! بنا ہوا ہوں


عابی مکھنوی