میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسےجب وہ کھلتے گُلاب جیسا تھا

Standard

میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسے

جب وہ کھلتے گُلاب جیسا تھا

اُس کی پلکوں سے نیند چھنتی تھی

اُس کا لہجہ شراب جیسا تھا

اُس کی زلفوں سے بھیگتی تھی گھٹا

اُس کا رخ ماہتاب جیسا تھا

لوگ پڑھتے تھے خدوخال اس کے

وہ ادب کی کتاب جیسا تھا

بولتا تھا زباں خوشبو کی

لوگ سُنتے تھے دھڑکنوں میں اُسے

میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسے

ساری آنکھیں تھیں آئینے اُس کے

سارے چہروں میں انتخاب تھا وہ

سب سے گھل مل کے اجنبی رہنا

ایک دریا نما سراب تھا وہ

خواب یہ ہے ، وہ حقیقت تھا

یہ حقیقت ہے ، کوئی خواب تھا وہ

دِل کی دھرتی پہ آسماں کی طرح

صورتِ سایہ و سحاب تھا وہ

اپنی نیندیں اُس کی نذر ہوئیں

میں نے پایا تھا رتجگوں میں اُسے

میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسے

جب وہ ہنس ہنس کے بات کرتا تھا

دِل کے خیمے میں رات کرتا تھا

رنگ پڑتے تھے آنچلوں میں اُسے

میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسے

یہ مگر دیر کی کہانی ہے

یہ مگر دُور کا فسانہ ہے

اُس کے ، میرے ملاپ میں حائل

اب تو صدیوں بھرا زمانہ ہے

اب تو یوں ہے کہ حال اپنا بھی

دشتِ ہجراں کی شام جیسا ہے

کیا خبر ، اِن دنوں وہ کیسا ہے

میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسے

جب وہ کھلتے گُلاب جیسا تھا

۔ ۔ ۔

محسن نقوی

Advertisements

زندگی اور چائے کا ایک کپ

Standard

 

شام کا ایک گھنٹہ اپنے لیئے ضرور نکالیں ۔ ۔ ۔

گھر کی چھت پر بیٹھیں ۔ ۔ ۔

لوگوں کے مکان دیکھیں ۔ ۔ ۔

آسمان میں اڑتے پرندے دیکھیں ۔ ۔

چائے یا کافی کا کپ ۔ ۔ ۔

دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر حرارت محسوس کریں ۔ ۔

اپنے لیئے وقت نکالیں ۔ ۔ ۔

اپنے آپ کو انا سے ہٹا کر اہمیت دیں ۔ ۔

زندگی کی تلخیوں کو چائے کی چسکیوں کے ساتھ ختم کریں ۔ ۔

اور اگر پھر بھی سکون نہ آئے ۔ ۔ ۔

تو اس خالی کپ کو دیکھیے ۔ ۔ ۔

جس طرح اس کپ میں دوبارہ چائے بھرنے کی گنجائش ہے

اسی طرح آپ کے اندر بھی زندگی اور خوشی بھرنے کی گنجائش باقی ہے ۔ ۔

 

Shaam ka aik ghanta apne liye zaroor nikalein..

Ghar ki chhat per bethein..

Logon ke makaan dekhen..

Aasmaan mein urte parinde dekhein..

Chai ya coffee ka cup..

Dono haathon main pakar kar haraarat mehsoos karein..

Apne liye waqt nikalein..

Zindagi ki talkhion ko chai ki chuskion ke sath khatam karein..

Aur agar phir bhi sukoon na aye..

To us khaali cup ko dekhein..

Jis tarah us cup main dubara chai bharne ki gunjaish hai..

Isi tarah aap ke ander bhi zindagi aur khushi bharni ki gunjaish baaqi hai…

۔ یہ میری اپنی تحریر نہیں ہے

چلو زندگی کو گنتے ہیں

Standard

072915_0709_Yaadain1.jpg

نیٹ پہ سوشل میڈیا پر یہ پوسٹ ملی ، پڑھی تو یادوں کا اک سمندر بہہ نکلا ۔

پاکستان کے میری طرح کے ۸۰ اور۹۰ کی دہائی سے تعلق رکھنے والوں کے نام ۔

—————

چلو زندگی کو گنتے ہیں

بولتے ہاتھ ۔ انکل سرگم۔ آخری چٹان۔ تنہائیاں۔ صبح کی نشریات۔ چاچا جی۔ ففٹی ففٹی۔ خواجہ اینڈ سن۔ شب دیگ۔ سورج کے ساتھ ساتھ۔ وارث۔ من چلے کا سودا۔ توتا کہانی۔ جانگلوس۔ ایک محبت سو افسانے۔ ویلے دی گل۔ فرمان الٰہی۔ بھول نہ جانا پھر پپا۔ کیوی ایک پرندہ ہے۔ یہ ریڈیو پاکستان ہے۔ بناکا گیت مالا۔ ایگل اور ٹی ڈی کے کیسٹ۔ نیشنل کا ٹیپ ریکارڈر۔ دس روپے کی برف۔ پانی سے بھرا واٹر کولر۔ وی سی آر۔ وی سی پی ۔ گھوڑے کی ٹاپ۔ فجر کے وقت گلی میں سے گزرتے کسی بابے کے درود شریف پڑھنے کی آواز۔ روشن دان۔ ہینڈ پمپ۔ قلم دوات۔ ہولڈر۔ جی کی نب۔ فلاوری انگلش۔ تختی۔ گاچی۔ بستہ۔ چھٹیوں کا کام ۔ لکیروں والا دستہ۔ دستے پر اخبار چڑھانا۔ مارکر۔ حاشیہ۔ خوشخطی۔ رف کاپی۔ رف عمل۔ سلیٹ۔ سلیٹی۔ کریم کی خالی شیشیاں بھرنے والا۔ گلیوں میں چارپائیاں۔ لکن میٹی۔ چور سپاہی۔ اڈا کھڈا۔ شٹاپو۔ باندر کلا۔ کوکلا چھپاکی۔ یسو پنجو’ چڑی اُڑی کاں اُڑا۔ صراحی۔ چائے کی پیالیاں۔ سیڑھیوں کے نیچے باورچی خانہ۔ بتیوں والا چولہا۔ ٹارزن۔ عمرو عیار۔ زنبیل۔ افراسیاب۔ چھڑی اور سائیکل کا ٹائر۔ دکان دار سے چونگا۔ نیاز بٹنا اور آواز آنا “میرے بھائی کا بھی حصہ دے دیں”

مرونڈا۔ گچک۔ سوکھا دودھ۔ ڈیکو مکھن ٹافی۔ لچھے۔ ون ٹین کا کیمرہ۔ مائی کا تنور۔ کوئلوں والی استری۔ ہمسائے کے ٹیلی فون کا پی پی نمبر۔ گولی والی بوتل۔ جمعرات کی آدھی چھٹی۔ ٹٹوریل گروپ۔ بزمِ ادب۔ ششماہی امتحانات۔ پراگریس رپورٹ۔ عرس کے میلے میں دھمال ڈالتا سائیں۔ ٹیڈی پیسہ۔ چونّی۔ بارہ آنے۔ پُتلی تماشا۔ گراری والا چاقو۔ سیمنٹ کی ٹینکی۔ شام کے وقت گلی میں پائپ سے پانی کا چھڑکائو۔ دروازے کی کنڈی۔ دیسی تالا۔ ہاون دستہ۔ دادی کی کہانیاں۔ اُڑن کھٹولے کے خواب۔ ڈھیلی جرابوں کے اوپر ربڑ چڑھانا۔ لوہے کی بالٹی۔ جست کے برتن۔ بھانڈے قلعی کرا لو۔ بندر کا تماشا۔ بچے کی پیدائش پر خواجہ سرائوں کا رقص۔ گلی میں پکتی دیگ۔ چھت کی نیند۔ تاروں بھرا آسمان۔ دوپٹے کے پلو میں بندھے پیسے۔ انٹینا۔ چھت پر مٹی کا لیپ۔ شہتیر۔ بالے۔ پھونکنی۔ تندوری۔ چڑیوں کا آلنا۔ مسہری۔ شوخ رنگوں کے پائے والا پلنگ۔ بان کی چارپائی ۔ کھرا۔ نالی۔ پلاسٹک کی ٹونٹی۔ کپڑے دھونے والا ڈنڈا۔ مسی روٹی۔ پنجیری۔ پِنّیاں۔ بالو شاہی۔ دو ٹیوٹر والا ڈیک۔ دستر خوان۔ صبح کا مشترکہ ناشتہ۔ رات کا مشترکہ کھانا۔ دانتوں پر ملنے والا منجن۔ سٹیل کے گلاس۔ سٹیل کی پلیٹیں۔ سٹیل کے جگ۔ موڑھے۔ سائیکل کی قینچی۔ سکائی لیب کی خبریں۔ سیلاب کا خوف۔ ماں کی آغوش۔ باپ کا ڈر۔ دھوتی۔ سلوکا۔ مشترکہ بیڈ روم۔ اینٹوں والا فرش۔ بیٹھک۔ اُستادوں کی مار۔ مولا بخش۔ کاربن پیپر۔ سوجی کی مٹھائی۔ ڈیمو کے لڑنے پر تالا رگڑنا۔ ڈیمو کے ساتھ دھاگا باندھ کر اڑانا۔

دو غباروں کے درمیان ڈوری باندھ کر ‘واکی ٹاکی’ بنانا۔ پانی سے بھری بالٹی میں اُلٹا گلاس ڈال کر بلبلے نکالنا۔ صابن سے سر دھونا۔ نانی جان کے لیے پانی کی بوتل میں نمازیوں سے پھونکیں مروا کے لانا۔ سر درد کے لیے مولوی صاحب سے دم کروانا۔ بوتل کے سٹرا کو پائپ کہنا۔ آدھی رات کو ڈرائونے قصے سننا۔ رات دس بجے کے بعد سڑکوں کا سنسان ہو جانا۔ خالی کمرے میں کسی بابے کا گمان ہونا۔ بچی کھچی روٹیوں کے ٹکڑے کباڑیے کو بیچ دینا۔ مقدس عبارت والے اوراق چوم کر کسی دیوار کی درز میں پھنسا دینا۔ بیلٹ کے بغیر پینٹ پہننا اور محلے داروں سے شرماتے پھرنا۔ کُنڈلوں والے بال۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر بڑے بڑے قہقہے۔ سکول جاتے ہوئے بس کی چھت پر پڑے ٹائر میں بیٹھ کر سفر کرنا۔ گلابی رنگ کا سٹوڈنٹ کارڈ جیب میں رکھنا۔ کڑھائی والا رومال۔ خوش آمدید والے تکیے۔ ہاتھوں سے گھولی ہوئی مہندی۔ رنگین آنچلوں کی خوشبو۔ بالوں میں تیل لگا کر کنگھی کرنے کا فیشن۔ سُرمے کی لکیر خوبصورتی کی علامت۔

پسینے بھری قمیص اتار کر چلتے ہوئے پیڈسٹل فین پر ڈال دینا۔ فیوز بلب کو ہلا کر اُس کی تار پھر سے جوڑ دینا۔ بجلی کے میٹر گھروں کے اندر۔ بجلی کا سانپ کی طرح لمبا بل آنا۔ سنیمائوں کے پوسٹر پر نظریں جم جانا۔ سائیکل روک کر مجمع باز کی گفتگو سننا۔ صاف کپڑوں کے ساتھ جیب میں صاف رومال بھی رکھنا۔ قمیص کی جیب میں پین لٹکانا۔ بٹوے میں چھوٹی سی ٹیلی فون ڈائری رکھنا جس میں A سے Z تک سے شروع ہونے والے ناموں کے الگ خانے ہوتے تھے۔ کسی پرانے سال کی ڈائری میں اقوال زریں’ نعتیں اور اشعار لکھنا۔ ٹی وی کے اوپر خوبصورت غلاف چڑھائے رکھنا۔ کسی کے تالا لگے ٹیلی فون کے کریڈل سے ٹک ٹک کر کے کال ملانے کی کوشش کرنا۔

عید میلاد النبیﷺ پر چراغ جلانا۔ محرم میں حلیم بانٹنا۔ سبیل سے میٹھا پانی پینا۔ باراتوں پر سکے لوٹنا۔ دولہا کا منہ پر رومال رکھنا۔ دلہن کا دوسرے شہر سے بارات کے ساتھ بس میں آتے ہوئے راستے میں دل خراب ہو جانا۔ سردیوں میں اُبلے ہوئے ایک انڈے کو بھی پورا مزا لے کر کھانا۔ محلے میں کسی کی وفات پر تدفین تک ساتھ رہنا۔ مسجد کے مولوی صاحب کے لیے گھر میں الگ سے سالن رکھنا۔ ٹی وی ڈرامے میں کسی المناک منظر پر خود بھی رو پڑنا۔ فلم دیکھتے ہوئے ہیرو کی کامیابی کے لیے صدق دِل سے دُعا کرنا۔ لڑائی میں گالی دے کر بھاگ جانا۔ بارش میں ایک دوسرے پر گلی کے پانی سے چھینٹے اڑانا۔ سونے سے پہلے تین دفعہ آیت الکرسی پڑھ کر چاروں کونوں میں پھونک مارنا۔

مائوں کا گھر کی پیٹی میں چپکے چپکے بیٹیوں کا جہیز اکٹھا کرنا۔ ایک پائو گوشت کے شوربے سے پورے گھر کا خوشی خوشی کھانا کھانا اور شکر الحمدللہ کہہ کر سو جانا۔ مہمانوں کی آمد پر خصوصی اہتمام کرنا اور محلے والوں کا خصوصی طور پر کہنا کہ ”مہمان نوں ساڈے ول وی لے کے آنا”۔ بسنت کے دنوں میں چھت پر ڈور لگانا’ مانجھا لگانا۔ بازار سے پنے’ گچھے اور چرخیاں خریدنا۔ گڈیاں لوٹنا’ ڈوریں اکٹھی کرنا۔ چارپائی پر بیٹھ کر ٹوٹا ہوا شیشہ سامنے رکھ کر چہرے پر صابن لگا کر شیو کرنا۔ صبح کام پر نکلنا تو مائوں کی دعائوں کی آوازیں گلی کی نکڑ تک سنائی دینا۔ جسمانی تھکاوٹ کی صورت میں دودھ میں ہلدی ڈال کر پی جانا اور اگلی صبح بھلے چنگے ہو جانا۔ سکول سے چھٹی کا بہانہ بناتے ہوئے بغلوں میں پیاز رکھ کر جسمانی حرارت تیز کر لینا اور پھر اپنے مقصد میں کامیاب ہو جانا۔ سلیٹ ہمیشہ تھوک سے صاف کرنا۔ محلے کے بڑے بوڑھوں سے اکثر مار کھانا اور بھول جانا۔ پنکج ادھاس کی غزلیں یاد کرنا اور ‘ میکدہ’ کے لفظ سے نا آشنائی کے باعث گاتے پھرنا ”ایک طرف اُس کا گھر’ ایک طرف میں گدھا”۔

اگر آپ کو یہ سب یاد ہے تو آپ خوش قسمت ہیں کہ آئی ٹی انقلاب سے پہلے والی زندگی انجوائے کرآئے۔

اِن میں سے شاید ہی کوئی چیز باقی بچی ہو’ اور اگر ہو گی بھی تو شاید ویسی نہیں رہی ہو گی۔

زندگی کی نہر کے بہتے پانیوں میں سے ایک دفعہ ہاتھ نکال لیں تو وہ ویسے کب رہتے ہیں

ایسی بھی تھی زندگی

۔۔۔

نوٹ : مجھے پتہ نہیں کہ مصنف کون ہے ۔ اگر کسی کو پتہ ہو تو ضرور بتائیں تا کہ حوالا دے سکوں

Muammar Gaddafi ‘s Last Speech

Standard

In the name of Allah, the …beneficent, the merciful…

For 40 years, or was it longer, I can’t remember, I did all I could to give people houses, hospitals, schools, and when they were hungry, I gave them food. I even made Benghazi into farmland from the desert, I stood up to attacks from that cowboy Ronald Reagan, when he killed my adopted orphaned daughter, he was trying to kill me, instead he killed that poor innocent child. Then I helped my brothers and sisters from Africa with money for the African Union.

I did all I could to help people Understand the concept of real democracy, where people’s committees ran our country. But that was never enough, as some told me, even people who had 10 room homes, new suits and furniture, were never satisfied, as selfish as they were they wanted more. They told Americans and other visitors, that they needed “democracy” and “freedom” never realizing it was a cut throat system, where the biggest dog eats the rest, but they were enchanted with those words, never realizing that in America, there was no free medicine, no free hospitals, no free housing, no free education and no free food, except when people had to beg or go to long lines to get soup.

No, no matter what I did, it was never enough for some, but for others, they knew I was the son of Gamal Abdel Nasser, the only true Arab and Muslim leader we’ve had since Salah-al-Deen, when he claimed the Suez Canal for his people, as I claimed Libya, for my people, it was his footsteps I tried to follow, to keep my people free from colonial domination – from thieves who would steal from us.

Now, I am under attack by the biggest force in military history, my little African son, Obama wants to kill me, to take away the freedom of our country, to take away our free housing, our free medicine, our free education, our free food, and replace it with American style thievery, called “capitalism”, but all of us in the Third World know what that means, it means corporations run the countries, run the world, and the people suffer.

So, there is no alternative for me, I must make my stand, and if Allah wishes, I shall die by following His path, the path that has made our country rich with farmland, with food and health, and even allowed us to help our African and Arab brothers and sisters.

I do not wish to die, but if it comes to that, to save this land, my people, all the thousands who are all my children, then so be it.

Let this testament be my voice to the world, that I stood up to crusader attacks of NATO, stood up to cruelty, stoop up to betrayal, stood up to the West and its colonialist ambitions, and that I stood with my African brothers, my true Arab and Muslim brothers, as a beacon of light.

When others were building castles, I lived in a modest house, and in a tent. I never forgot my youth in Sirte, I did not spend our national treasury foolishly, and like Salah-al-Deen, our great Muslim leader, who rescued Jerusalem for Islam, I took little for myself…

In the West, some have called me “mad”, “crazy”, but they know the truth yet continue to lie, they know that our land is independent and free, not in the colonial grip, that my vision, my path, is, and has been clear and for my people and that I will fight to my last breath to keep us free, may Allah almighty help us to remain faithful and free.

– Mu’ammar Qaddafi.

May Allah forgive and grant you with Jannat ul Firdaus. Ameen

Facts about Libya under Muammar Gaddafi

  • There was no electricity bills in Libya; electricity is free … for all its citizens.
  • There was no interest on loans, banks in Libya are state-owned and loans given to all its citizens at 0% interest by law.
  • If a Libyan is unable to find employment after graduation, the state would pay the average salary of the profession as if he or she is employed until employment is found.
  • Should Libyans want to take up a farming career, they receive farm land, a house, equipment, seed and livestock to kick start their farms –this was all for free.
  • Gaddafi carried out the world’s largest irrigation project, known as the Great Man-Made River project, to make water readily available throughout the desert country.
  • A home was considered a human right in Libya. (In Qaddafi’s Green Book it states: “The house is a basic need of both the individual and the family, therefore it should not be owned by others.”)
  • All newlyweds in Libya would receive 60,000 Dinar (US$ 50,000 ) by the government to buy their first apartment so to help start a family.
  • A portion of Libyan oil sales is or was credited directly to the bank accounts of all Libyan citizens.
  • A mother who gives birth to a child would receive US $5,000.
  • When a Libyan buys a car, the government would subsidizes 50% of the price.
  • The price of petrol in Libya was $0.14 per liter.
  • For $ 0.15, a Libyan local could purchase 40 loaves of bread.
  • Education and medical treatments was all free in Libya. Libya can boast one of the finest health care systems in the Arab and African World. All people have access to doctors, hospitals, clinics and medicines, completely free of charge.
  • If Libyans cannot find the education or medical facilities they need in Libya, the government would fund them to go abroad for it – not only free but they get US $2,300/month accommodation and car allowance.
  • 25% of Libyans have a university degree. Before Gaddafi only 25% of Libyans were literate. Today the figure is 87%.
  • Libya had no external debt and its reserves amount to $150 billion – though much of this is now frozen globally.
source: https://newsrescue.com/gaddaffis-last-formal-speech-people-libya/