بیٹا ﺯﻟـﯿـﺨـﺎ بہت ﺯﯾﺎﺩﻩ ہیں ﺗﻮ ‘ﯾـﻮﺳـﻒ’ بن

Standard

والد صاحب نے فرمایا : ” بیٹا! کبھی کسی کی عزت سے مت کھیلنا ، کہیں ایسا نہ ہو کسی کی بیٹی تمہارے احساسات کے لئے رف کاپی ہوجائے” ۔

 

ایک روز میں نے اپنے والد کی ان تمام نصیحتوں کا جواب طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ اس طرح دیا کہ :۔

۔” ان باتوں کا دور گزر گیا ہے بابا ! آج کے دور کی لڑکیاں خود چل کر آتی ہیں اور وہ تو خود ایسا چاہتی ہیں “۔

 

میرے والد نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا :

بیٹازلیخا بہت زیادہ ہیں ۔ ۔ تُو یوسف بن ! ۔

 

جیسے ہی میں نے یہ جملہ سنا میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے ، قینچی کی طرح چلتی زبان بند ہوگئ ۔ میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا ۔

واقعی وہ حق اور سچ کہہ رہے تھے ۔ ہمیشہ زلیخا زیادہ رہی ہیں اور ہیں ، مجھے چاہئیے کہ میں یوسف بنوں ۔ .

 

تیرے یـــــوســـــف بننے سے ، زلیخـــــا بھی ہوش و حواس میں آجائیگی

 

 repost via بیٹا ﺯﻟـﯿـﺨـﺎ بہت ﺯﯾﺎﺩﻩ ہیں ﺗﻮ *ﯾـﻮﺳـﻒ* بن

Advertisements

کرم یافتہ لوگ – واصف علی واصف

Standard

 

واصف علی واصف صاحب لکھتے ہیں کہ
جس پہ کرم ہے، اُس سے کبھی پنگا نہ لینا۔ وہ تو کرم پہ چل رہا ہے۔ تم چلتی مشین میں ہاتھ دو گے،تو اُڑ جاؤ گے۔

کرم کا فکس فارمولا تو کوئی نہیں ہے۔
بس کرم کی وجہ ڈھونڈو۔ جہاں تک میرا مشاہدہ ہے، جب بھی کوئی ایسا شخص دیکھا جس پر ربّ کا کرم تھا، اُسے ہمیشہ عاجز پایا۔ پوری عقل کے باوجود بس سیدھا سا بندہ۔ بہت تیزی نہیں دکھائے گا۔ اُلجھائے گا نہیں۔ رستہ دے دے گا۔ بہت زیادہ غصّہ نہیں کرے گا۔سِمپل بات کرے گا۔ میں نے ہر کرم ہوئے شخص کو مخلص دیکھا۔ ـــ اخلاص!! غلطی کو مان جاتا ہے۔ معذرت کر لیتا ہے۔ سرنڈر کر دیتا ہے۔

جس پر کرم ہوا ہے نا، میں نے اُسے دوسروں کے لئے فائدہ مند دیکھا۔

یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ آپ کی ذات سے نفع ہو رہا ہو، اور اللہ آپ کے لئے کشادگی کو روک دے۔ وہ اور کرم کرے گا۔
میں نے ہر صاحبِ کرم کو احسان کرتے دیکھا ہے۔ حق سے زیادہ دیتا ہے۔ اُس کا درجن 13 کا ہوتا ہے، 12 کا نہیں۔ اللہ کے کرم کے پہیے کو چلانے کے لئے آپ بھی درجن 13 کا کرو اپنی زندگی میں۔ اپنی کمٹمنٹ سے تھوڑا زیادہ احسان کر دیا کرو۔ نہیں تو کیا ہو گا؟ حساب پہ چلو گے تو حساب ہی چلے گا! دل کے کنجوس کے لئے کائنات بھی کنجوس ہے۔ 
دل کے سخی کے لئے کائنات خزانہ ہے۔جب زندگی کے معاملات اڑ جائیں سمجھ جاؤ تم نے دوسروں کے معاملات اڑاۓ ہوۓ ہیں ۔ 
آسانیاں دو آسانیاں ملیں گی

wasif ali wasif

رحمت دا مینہ پا خدایا – میاں محمد بخش

Standard

rehmat da maheena


Rehmat da meena pa Khudaya baagh sukka kar hareya

Boota aas umeed meri da kar de meva bhareya

mitha meva bakhsh ajeha qudrat di ghat sheeri

jo khaavay  rog us da jaavay door howay dilgeeri

sadaa bahaar dayi’n is baaghay , kaday khazaa’n na aavay

howan faiz hazaara’n taaiya’n har bhukka phal khaavay

nemat apni vi kujh menu bakhsh shanasa’n paava’n

himmat de dilay nu mere , Tera shukar bja  lia-vaa’n

~ mian muhammad bakhsh ( sufi poet )

 

source: http://www.theajmals.com/blog/رحمت-دا-مینہ-پا-خدایا/

اوکھے پینڈے لمیاں نی راہواں عشق دیاں (okhay painday lammiyan ne raawan ishq diyan – baba bulleh shah)

Standard

okhay paindday lamiyan ne raawan ishq diyan - baba bulleh shah

okhay painday lammiyan ne raawa’n ishq diya’n

dard jiger sakht sazawa’n ishq diya’n

phulla’n wargi jindrri ishq rula chad’da

sar bazaar chahway ishq nacha chad’da

kakh na chadday vekh wafaawa’n ishq diya’n

okhay painday lammiyan ne raawa’n ishq diya’n

sajna’n baajo’n zaat sfaata’n ishq diya’n

vakhri kulli din te raata’n ishq diya’n

hain chodah (14) tabaqa’n ander thaawa’n ishq diya’n

okhay painday lammiyan ne raawa’n ishq diya’n

har har dil har thaa’n vich ishq samaya ae

arsh farsh tay ishq ne qadm takaya ae

ain baatil ain al-Haq sadaawa’n ishq diya’n

okhay painday lammiyan ne raawa’n ishq diya’n

ishq di hasti masti yaar mita deway

agg ae ishq di dil di dohi jagaa deway

Bulhay~ vaang nachaavan taara’n ishq diya’n

okhay painday lammiyan ne raawa’n ishq diya’n

 

kalaam: Baba Bulhay Shah Rehmat-ullah-aleh

طیفے کی چائے (Teefay ki Chai – Wahara Umbakar)

Standard

طیفا اپنے دوست کے ساتھ بیٹھا چائے پی رہا ہے۔ چائے کی ایک چسکی لینا اس قدر معمولی واقعہ لگتا ہے کہ اس طرف دھیان بھی نہیں جاتا (اگر چائے کپڑوں پر گر گئی تو معاملہ فرق ہے) لیکن یہ معمولی فعل نہیں۔ روبوٹکس میں ہم اس کام کو نہیں کر پائے (اور ممکن ہے کہ نہ کر پائیں)۔ کیوں؟ اس ایک فعل میں کئی ٹریلین برقی سگنلز نے آپس میں بڑی ہی تال میل کے ساتھ کام کیا ہے۔

سب سے پہلے بصری سسٹم نے فیلڈ کا جائزہ لیا تھا کہ پیالی کہاں پر ہے۔ اس میں برسوں کا سیکھا تجربہ کام آیا تھا۔ پیالی کو پہچاننا اور اس کو کیسے اٹھانا ہے۔ یہ سیکھے ہوئے ہنر ہیں۔ فرنٹل کارٹیکس نے موٹر کارٹیکس کی طرف پیغامات ارسال کئے۔ موٹر کورٹیکس نے پٹھوں کی حرکات کوآرڈینیٹ کروائیں۔ اپنے بدن، بازو، کلائی، اور ہاتھ کے پٹھوں نے آپس میں مل کر بڑی نفاست سے چائے کی پیالی کو تھام لیا۔

پیالی کو چھوتے ساتھ ہی انفارمیشن اکٹھی ہو کر اعصابی نظام کے ذریعے واپس گئی۔ وزن کتنا ہے، ہینڈل پھسلتا تو نہیں، درجہ حرارت کیسا ہے، کچھ غیرمعمولی تو نہیں، وغیرہ وغیرہ۔

ریڑھ کی ہڈی میں سے ہوتے ہوئے یہ دماغ تک پہنچی۔ یہ دو رویہ موٹروے پر بھاگتا تیز ٹریفک ہے۔ دماغ کے اپنے اندر بیسل گینگلیا، سیریبلم، سوماٹوسنسری کورٹیکس اور کئی دوسرے حصوں کے درمیان یہ ٹریفک چل رہا ہے۔ ایک سیکنڈ سے بھی کم حصے میں گہری کیلکولیشنز ہو رہی ہیں اور فیڈ بیک جاری ہے۔ ان کی مدد سے اٹھانے کی قوت اور پیالی پر گرفت ایڈجسٹ ہو رہی ہے۔ میز سے ہونٹ تک یہ مائیکروایڈجسمنٹ مسلسل جاری ہے۔

ہونٹ کے قریب پہنچتے وقت اس پیالی کو تھوڑا سا ترچھا کیا ہے۔ یہ زاویہ اتنا ہے کہ بغیر چھلکائے یہ کنارے تک پہنچ جائے اور چائے کو آسانی سے منہ میں لے جایا جا سکے۔ ہر چسکی کے بعد یہ زاویہ تھوڑا بدل جاتا ہے۔

اس تمام کام کو اس قدر مہارت سے کرنے کے لئے دنیا کے درجنوں بہترین کمپیوٹر درکار ہوں گے لیکن طیفے کو دماغ میں جاری اس طوفان کا ادراک نہیں۔ نیورل نیٹ ورک اس وقت اس سب کو کرنے کے لئے چیخ و پکار کر رہے ہیں۔ طیفے کو اس سب کا علم نہیں۔ وہ اپنے دوست کے ساتھ گپیں لگا رہا ہے۔

اب باتوں کے دوران ہی پیالی منہ تک پہنچ چکی ہے۔ منہ کی شکل بدل گئی۔ ہوا کو منہ میں کھینچنا شروع کیا۔ اس کے پریشر سے چائے منہ میں جانا شروع ہو گئی۔ باتیں جاری ہیں۔

طیفے کے دماغ نے اس سے پہلے کچھ پیشگوئیاں کر لی تھیں۔ یہ کتنی گرم ہو گی، کتنی میٹھی ہو گی وغیرہ۔ اگر یہ سب کچھ پیشگوئیوں کے مطابق نکلا تو ٹھیک ورنہ الارم بچ اٹھے گا۔ یہ پیغام “بڑے صاحب” یعنی طیفے کے شعور کر روانہ کر دیا جائے گا کہ چینی ڈالنا بھول گئے تھے۔

لیکن یہ سب کچھ ٹھیک ٹھیک ہو گیا۔ بغیر قطرہ گرے مکمل پرفیکشن کے ساتھ چائے کی چسکی مکمل ہو گئی۔ یہ واقعہ اس قدر معمولی ہے کہ یادداشت کا حصہ بھی نہیں بنا۔

اس سب کے درمیان یادداشت کا حصہ صرف وہ باتیں اور یادیں بنی جو دوست کے ساتھ گزارے وقت کی تھیں۔

طیفے کو دیکھ کر ایسا لگتا تو نہیں، لیکن اس کے کانوں کے بیچ کا یہ آلہ ہر وقت مصروف رہتا ہے۔ سو فیصد استعمال ہوتا رہتا ہے۔ اس کے لئے کرنے کے کام بہت سے ہیں۔ اس نے طیفے کو زندہ رکھنا ہے۔


تحریر :   source  link   – Wahara Umbakar