اوکھے پینڈے لمیاں نی راہواں عشق دیاں (okhay painday lammiyan ne raawan ishq diyan – baba bulleh shah)

Standard

okhay paindday lamiyan ne raawan ishq diyan - baba bulleh shah

okhay painday lammiyan ne raawa’n ishq diya’n

dard jiger sakht sazawa’n ishq diya’n

phulla’n wargi jindrri ishq rula chad’da

sar bazaar chahway ishq nacha chad’da

kakh na chadday vekh wafaawa’n ishq diya’n

okhay painday lammiyan ne raawa’n ishq diya’n

sajna’n baajo’n zaat sfaata’n ishq diya’n

vakhri kulli din te raata’n ishq diya’n

hain chodah (14) tabaqa’n ander thaawa’n ishq diya’n

okhay painday lammiyan ne raawa’n ishq diya’n

har har dil har thaa’n vich ishq samaya ae

arsh farsh tay ishq ne qadm takaya ae

ain baatil ain al-Haq sadaawa’n ishq diya’n

okhay painday lammiyan ne raawa’n ishq diya’n

ishq di hasti masti yaar mita deway

agg ae ishq di dil di dohi jagaa deway

Bulhay~ vaang nachaavan taara’n ishq diya’n

okhay painday lammiyan ne raawa’n ishq diya’n

 

kalaam: Baba Bulhay Shah Rehmat-ullah-aleh

Advertisements

طیفے کی چائے (Teefay ki Chai – Wahara Umbakar)

Standard

طیفا اپنے دوست کے ساتھ بیٹھا چائے پی رہا ہے۔ چائے کی ایک چسکی لینا اس قدر معمولی واقعہ لگتا ہے کہ اس طرف دھیان بھی نہیں جاتا (اگر چائے کپڑوں پر گر گئی تو معاملہ فرق ہے) لیکن یہ معمولی فعل نہیں۔ روبوٹکس میں ہم اس کام کو نہیں کر پائے (اور ممکن ہے کہ نہ کر پائیں)۔ کیوں؟ اس ایک فعل میں کئی ٹریلین برقی سگنلز نے آپس میں بڑی ہی تال میل کے ساتھ کام کیا ہے۔

سب سے پہلے بصری سسٹم نے فیلڈ کا جائزہ لیا تھا کہ پیالی کہاں پر ہے۔ اس میں برسوں کا سیکھا تجربہ کام آیا تھا۔ پیالی کو پہچاننا اور اس کو کیسے اٹھانا ہے۔ یہ سیکھے ہوئے ہنر ہیں۔ فرنٹل کارٹیکس نے موٹر کارٹیکس کی طرف پیغامات ارسال کئے۔ موٹر کورٹیکس نے پٹھوں کی حرکات کوآرڈینیٹ کروائیں۔ اپنے بدن، بازو، کلائی، اور ہاتھ کے پٹھوں نے آپس میں مل کر بڑی نفاست سے چائے کی پیالی کو تھام لیا۔

پیالی کو چھوتے ساتھ ہی انفارمیشن اکٹھی ہو کر اعصابی نظام کے ذریعے واپس گئی۔ وزن کتنا ہے، ہینڈل پھسلتا تو نہیں، درجہ حرارت کیسا ہے، کچھ غیرمعمولی تو نہیں، وغیرہ وغیرہ۔

ریڑھ کی ہڈی میں سے ہوتے ہوئے یہ دماغ تک پہنچی۔ یہ دو رویہ موٹروے پر بھاگتا تیز ٹریفک ہے۔ دماغ کے اپنے اندر بیسل گینگلیا، سیریبلم، سوماٹوسنسری کورٹیکس اور کئی دوسرے حصوں کے درمیان یہ ٹریفک چل رہا ہے۔ ایک سیکنڈ سے بھی کم حصے میں گہری کیلکولیشنز ہو رہی ہیں اور فیڈ بیک جاری ہے۔ ان کی مدد سے اٹھانے کی قوت اور پیالی پر گرفت ایڈجسٹ ہو رہی ہے۔ میز سے ہونٹ تک یہ مائیکروایڈجسمنٹ مسلسل جاری ہے۔

ہونٹ کے قریب پہنچتے وقت اس پیالی کو تھوڑا سا ترچھا کیا ہے۔ یہ زاویہ اتنا ہے کہ بغیر چھلکائے یہ کنارے تک پہنچ جائے اور چائے کو آسانی سے منہ میں لے جایا جا سکے۔ ہر چسکی کے بعد یہ زاویہ تھوڑا بدل جاتا ہے۔

اس تمام کام کو اس قدر مہارت سے کرنے کے لئے دنیا کے درجنوں بہترین کمپیوٹر درکار ہوں گے لیکن طیفے کو دماغ میں جاری اس طوفان کا ادراک نہیں۔ نیورل نیٹ ورک اس وقت اس سب کو کرنے کے لئے چیخ و پکار کر رہے ہیں۔ طیفے کو اس سب کا علم نہیں۔ وہ اپنے دوست کے ساتھ گپیں لگا رہا ہے۔

اب باتوں کے دوران ہی پیالی منہ تک پہنچ چکی ہے۔ منہ کی شکل بدل گئی۔ ہوا کو منہ میں کھینچنا شروع کیا۔ اس کے پریشر سے چائے منہ میں جانا شروع ہو گئی۔ باتیں جاری ہیں۔

طیفے کے دماغ نے اس سے پہلے کچھ پیشگوئیاں کر لی تھیں۔ یہ کتنی گرم ہو گی، کتنی میٹھی ہو گی وغیرہ۔ اگر یہ سب کچھ پیشگوئیوں کے مطابق نکلا تو ٹھیک ورنہ الارم بچ اٹھے گا۔ یہ پیغام “بڑے صاحب” یعنی طیفے کے شعور کر روانہ کر دیا جائے گا کہ چینی ڈالنا بھول گئے تھے۔

لیکن یہ سب کچھ ٹھیک ٹھیک ہو گیا۔ بغیر قطرہ گرے مکمل پرفیکشن کے ساتھ چائے کی چسکی مکمل ہو گئی۔ یہ واقعہ اس قدر معمولی ہے کہ یادداشت کا حصہ بھی نہیں بنا۔

اس سب کے درمیان یادداشت کا حصہ صرف وہ باتیں اور یادیں بنی جو دوست کے ساتھ گزارے وقت کی تھیں۔

طیفے کو دیکھ کر ایسا لگتا تو نہیں، لیکن اس کے کانوں کے بیچ کا یہ آلہ ہر وقت مصروف رہتا ہے۔ سو فیصد استعمال ہوتا رہتا ہے۔ اس کے لئے کرنے کے کام بہت سے ہیں۔ اس نے طیفے کو زندہ رکھنا ہے۔


تحریر :   source  link   – Wahara Umbakar

میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسےجب وہ کھلتے گُلاب جیسا تھا

Standard

میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسے

جب وہ کھلتے گُلاب جیسا تھا

اُس کی پلکوں سے نیند چھنتی تھی

اُس کا لہجہ شراب جیسا تھا

اُس کی زلفوں سے بھیگتی تھی گھٹا

اُس کا رخ ماہتاب جیسا تھا

لوگ پڑھتے تھے خدوخال اس کے

وہ ادب کی کتاب جیسا تھا

بولتا تھا زباں خوشبو کی

لوگ سُنتے تھے دھڑکنوں میں اُسے

میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسے

ساری آنکھیں تھیں آئینے اُس کے

سارے چہروں میں انتخاب تھا وہ

سب سے گھل مل کے اجنبی رہنا

ایک دریا نما سراب تھا وہ

خواب یہ ہے ، وہ حقیقت تھا

یہ حقیقت ہے ، کوئی خواب تھا وہ

دِل کی دھرتی پہ آسماں کی طرح

صورتِ سایہ و سحاب تھا وہ

اپنی نیندیں اُس کی نذر ہوئیں

میں نے پایا تھا رتجگوں میں اُسے

میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسے

جب وہ ہنس ہنس کے بات کرتا تھا

دِل کے خیمے میں رات کرتا تھا

رنگ پڑتے تھے آنچلوں میں اُسے

میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسے

یہ مگر دیر کی کہانی ہے

یہ مگر دُور کا فسانہ ہے

اُس کے ، میرے ملاپ میں حائل

اب تو صدیوں بھرا زمانہ ہے

اب تو یوں ہے کہ حال اپنا بھی

دشتِ ہجراں کی شام جیسا ہے

کیا خبر ، اِن دنوں وہ کیسا ہے

میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسے

جب وہ کھلتے گُلاب جیسا تھا

۔ ۔ ۔

محسن نقوی

زندگی اور چائے کا ایک کپ

Standard

 

شام کا ایک گھنٹہ اپنے لیئے ضرور نکالیں ۔ ۔ ۔

گھر کی چھت پر بیٹھیں ۔ ۔ ۔

لوگوں کے مکان دیکھیں ۔ ۔ ۔

آسمان میں اڑتے پرندے دیکھیں ۔ ۔

چائے یا کافی کا کپ ۔ ۔ ۔

دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر حرارت محسوس کریں ۔ ۔

اپنے لیئے وقت نکالیں ۔ ۔ ۔

اپنے آپ کو انا سے ہٹا کر اہمیت دیں ۔ ۔

زندگی کی تلخیوں کو چائے کی چسکیوں کے ساتھ ختم کریں ۔ ۔

اور اگر پھر بھی سکون نہ آئے ۔ ۔ ۔

تو اس خالی کپ کو دیکھیے ۔ ۔ ۔

جس طرح اس کپ میں دوبارہ چائے بھرنے کی گنجائش ہے

اسی طرح آپ کے اندر بھی زندگی اور خوشی بھرنے کی گنجائش باقی ہے ۔ ۔

 

Shaam ka aik ghanta apne liye zaroor nikalein..

Ghar ki chhat per bethein..

Logon ke makaan dekhen..

Aasmaan mein urte parinde dekhein..

Chai ya coffee ka cup..

Dono haathon main pakar kar haraarat mehsoos karein..

Apne liye waqt nikalein..

Zindagi ki talkhion ko chai ki chuskion ke sath khatam karein..

Aur agar phir bhi sukoon na aye..

To us khaali cup ko dekhein..

Jis tarah us cup main dubara chai bharne ki gunjaish hai..

Isi tarah aap ke ander bhi zindagi aur khushi bharni ki gunjaish baaqi hai…

۔ یہ میری اپنی تحریر نہیں ہے

چلو زندگی کو گنتے ہیں

Standard

072915_0709_Yaadain1.jpg

نیٹ پہ سوشل میڈیا پر یہ پوسٹ ملی ، پڑھی تو یادوں کا اک سمندر بہہ نکلا ۔

پاکستان کے میری طرح کے ۸۰ اور۹۰ کی دہائی سے تعلق رکھنے والوں کے نام ۔

—————

چلو زندگی کو گنتے ہیں

بولتے ہاتھ ۔ انکل سرگم۔ آخری چٹان۔ تنہائیاں۔ صبح کی نشریات۔ چاچا جی۔ ففٹی ففٹی۔ خواجہ اینڈ سن۔ شب دیگ۔ سورج کے ساتھ ساتھ۔ وارث۔ من چلے کا سودا۔ توتا کہانی۔ جانگلوس۔ ایک محبت سو افسانے۔ ویلے دی گل۔ فرمان الٰہی۔ بھول نہ جانا پھر پپا۔ کیوی ایک پرندہ ہے۔ یہ ریڈیو پاکستان ہے۔ بناکا گیت مالا۔ ایگل اور ٹی ڈی کے کیسٹ۔ نیشنل کا ٹیپ ریکارڈر۔ دس روپے کی برف۔ پانی سے بھرا واٹر کولر۔ وی سی آر۔ وی سی پی ۔ گھوڑے کی ٹاپ۔ فجر کے وقت گلی میں سے گزرتے کسی بابے کے درود شریف پڑھنے کی آواز۔ روشن دان۔ ہینڈ پمپ۔ قلم دوات۔ ہولڈر۔ جی کی نب۔ فلاوری انگلش۔ تختی۔ گاچی۔ بستہ۔ چھٹیوں کا کام ۔ لکیروں والا دستہ۔ دستے پر اخبار چڑھانا۔ مارکر۔ حاشیہ۔ خوشخطی۔ رف کاپی۔ رف عمل۔ سلیٹ۔ سلیٹی۔ کریم کی خالی شیشیاں بھرنے والا۔ گلیوں میں چارپائیاں۔ لکن میٹی۔ چور سپاہی۔ اڈا کھڈا۔ شٹاپو۔ باندر کلا۔ کوکلا چھپاکی۔ یسو پنجو’ چڑی اُڑی کاں اُڑا۔ صراحی۔ چائے کی پیالیاں۔ سیڑھیوں کے نیچے باورچی خانہ۔ بتیوں والا چولہا۔ ٹارزن۔ عمرو عیار۔ زنبیل۔ افراسیاب۔ چھڑی اور سائیکل کا ٹائر۔ دکان دار سے چونگا۔ نیاز بٹنا اور آواز آنا “میرے بھائی کا بھی حصہ دے دیں”

مرونڈا۔ گچک۔ سوکھا دودھ۔ ڈیکو مکھن ٹافی۔ لچھے۔ ون ٹین کا کیمرہ۔ مائی کا تنور۔ کوئلوں والی استری۔ ہمسائے کے ٹیلی فون کا پی پی نمبر۔ گولی والی بوتل۔ جمعرات کی آدھی چھٹی۔ ٹٹوریل گروپ۔ بزمِ ادب۔ ششماہی امتحانات۔ پراگریس رپورٹ۔ عرس کے میلے میں دھمال ڈالتا سائیں۔ ٹیڈی پیسہ۔ چونّی۔ بارہ آنے۔ پُتلی تماشا۔ گراری والا چاقو۔ سیمنٹ کی ٹینکی۔ شام کے وقت گلی میں پائپ سے پانی کا چھڑکائو۔ دروازے کی کنڈی۔ دیسی تالا۔ ہاون دستہ۔ دادی کی کہانیاں۔ اُڑن کھٹولے کے خواب۔ ڈھیلی جرابوں کے اوپر ربڑ چڑھانا۔ لوہے کی بالٹی۔ جست کے برتن۔ بھانڈے قلعی کرا لو۔ بندر کا تماشا۔ بچے کی پیدائش پر خواجہ سرائوں کا رقص۔ گلی میں پکتی دیگ۔ چھت کی نیند۔ تاروں بھرا آسمان۔ دوپٹے کے پلو میں بندھے پیسے۔ انٹینا۔ چھت پر مٹی کا لیپ۔ شہتیر۔ بالے۔ پھونکنی۔ تندوری۔ چڑیوں کا آلنا۔ مسہری۔ شوخ رنگوں کے پائے والا پلنگ۔ بان کی چارپائی ۔ کھرا۔ نالی۔ پلاسٹک کی ٹونٹی۔ کپڑے دھونے والا ڈنڈا۔ مسی روٹی۔ پنجیری۔ پِنّیاں۔ بالو شاہی۔ دو ٹیوٹر والا ڈیک۔ دستر خوان۔ صبح کا مشترکہ ناشتہ۔ رات کا مشترکہ کھانا۔ دانتوں پر ملنے والا منجن۔ سٹیل کے گلاس۔ سٹیل کی پلیٹیں۔ سٹیل کے جگ۔ موڑھے۔ سائیکل کی قینچی۔ سکائی لیب کی خبریں۔ سیلاب کا خوف۔ ماں کی آغوش۔ باپ کا ڈر۔ دھوتی۔ سلوکا۔ مشترکہ بیڈ روم۔ اینٹوں والا فرش۔ بیٹھک۔ اُستادوں کی مار۔ مولا بخش۔ کاربن پیپر۔ سوجی کی مٹھائی۔ ڈیمو کے لڑنے پر تالا رگڑنا۔ ڈیمو کے ساتھ دھاگا باندھ کر اڑانا۔

دو غباروں کے درمیان ڈوری باندھ کر ‘واکی ٹاکی’ بنانا۔ پانی سے بھری بالٹی میں اُلٹا گلاس ڈال کر بلبلے نکالنا۔ صابن سے سر دھونا۔ نانی جان کے لیے پانی کی بوتل میں نمازیوں سے پھونکیں مروا کے لانا۔ سر درد کے لیے مولوی صاحب سے دم کروانا۔ بوتل کے سٹرا کو پائپ کہنا۔ آدھی رات کو ڈرائونے قصے سننا۔ رات دس بجے کے بعد سڑکوں کا سنسان ہو جانا۔ خالی کمرے میں کسی بابے کا گمان ہونا۔ بچی کھچی روٹیوں کے ٹکڑے کباڑیے کو بیچ دینا۔ مقدس عبارت والے اوراق چوم کر کسی دیوار کی درز میں پھنسا دینا۔ بیلٹ کے بغیر پینٹ پہننا اور محلے داروں سے شرماتے پھرنا۔ کُنڈلوں والے بال۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر بڑے بڑے قہقہے۔ سکول جاتے ہوئے بس کی چھت پر پڑے ٹائر میں بیٹھ کر سفر کرنا۔ گلابی رنگ کا سٹوڈنٹ کارڈ جیب میں رکھنا۔ کڑھائی والا رومال۔ خوش آمدید والے تکیے۔ ہاتھوں سے گھولی ہوئی مہندی۔ رنگین آنچلوں کی خوشبو۔ بالوں میں تیل لگا کر کنگھی کرنے کا فیشن۔ سُرمے کی لکیر خوبصورتی کی علامت۔

پسینے بھری قمیص اتار کر چلتے ہوئے پیڈسٹل فین پر ڈال دینا۔ فیوز بلب کو ہلا کر اُس کی تار پھر سے جوڑ دینا۔ بجلی کے میٹر گھروں کے اندر۔ بجلی کا سانپ کی طرح لمبا بل آنا۔ سنیمائوں کے پوسٹر پر نظریں جم جانا۔ سائیکل روک کر مجمع باز کی گفتگو سننا۔ صاف کپڑوں کے ساتھ جیب میں صاف رومال بھی رکھنا۔ قمیص کی جیب میں پین لٹکانا۔ بٹوے میں چھوٹی سی ٹیلی فون ڈائری رکھنا جس میں A سے Z تک سے شروع ہونے والے ناموں کے الگ خانے ہوتے تھے۔ کسی پرانے سال کی ڈائری میں اقوال زریں’ نعتیں اور اشعار لکھنا۔ ٹی وی کے اوپر خوبصورت غلاف چڑھائے رکھنا۔ کسی کے تالا لگے ٹیلی فون کے کریڈل سے ٹک ٹک کر کے کال ملانے کی کوشش کرنا۔

عید میلاد النبیﷺ پر چراغ جلانا۔ محرم میں حلیم بانٹنا۔ سبیل سے میٹھا پانی پینا۔ باراتوں پر سکے لوٹنا۔ دولہا کا منہ پر رومال رکھنا۔ دلہن کا دوسرے شہر سے بارات کے ساتھ بس میں آتے ہوئے راستے میں دل خراب ہو جانا۔ سردیوں میں اُبلے ہوئے ایک انڈے کو بھی پورا مزا لے کر کھانا۔ محلے میں کسی کی وفات پر تدفین تک ساتھ رہنا۔ مسجد کے مولوی صاحب کے لیے گھر میں الگ سے سالن رکھنا۔ ٹی وی ڈرامے میں کسی المناک منظر پر خود بھی رو پڑنا۔ فلم دیکھتے ہوئے ہیرو کی کامیابی کے لیے صدق دِل سے دُعا کرنا۔ لڑائی میں گالی دے کر بھاگ جانا۔ بارش میں ایک دوسرے پر گلی کے پانی سے چھینٹے اڑانا۔ سونے سے پہلے تین دفعہ آیت الکرسی پڑھ کر چاروں کونوں میں پھونک مارنا۔

مائوں کا گھر کی پیٹی میں چپکے چپکے بیٹیوں کا جہیز اکٹھا کرنا۔ ایک پائو گوشت کے شوربے سے پورے گھر کا خوشی خوشی کھانا کھانا اور شکر الحمدللہ کہہ کر سو جانا۔ مہمانوں کی آمد پر خصوصی اہتمام کرنا اور محلے والوں کا خصوصی طور پر کہنا کہ ”مہمان نوں ساڈے ول وی لے کے آنا”۔ بسنت کے دنوں میں چھت پر ڈور لگانا’ مانجھا لگانا۔ بازار سے پنے’ گچھے اور چرخیاں خریدنا۔ گڈیاں لوٹنا’ ڈوریں اکٹھی کرنا۔ چارپائی پر بیٹھ کر ٹوٹا ہوا شیشہ سامنے رکھ کر چہرے پر صابن لگا کر شیو کرنا۔ صبح کام پر نکلنا تو مائوں کی دعائوں کی آوازیں گلی کی نکڑ تک سنائی دینا۔ جسمانی تھکاوٹ کی صورت میں دودھ میں ہلدی ڈال کر پی جانا اور اگلی صبح بھلے چنگے ہو جانا۔ سکول سے چھٹی کا بہانہ بناتے ہوئے بغلوں میں پیاز رکھ کر جسمانی حرارت تیز کر لینا اور پھر اپنے مقصد میں کامیاب ہو جانا۔ سلیٹ ہمیشہ تھوک سے صاف کرنا۔ محلے کے بڑے بوڑھوں سے اکثر مار کھانا اور بھول جانا۔ پنکج ادھاس کی غزلیں یاد کرنا اور ‘ میکدہ’ کے لفظ سے نا آشنائی کے باعث گاتے پھرنا ”ایک طرف اُس کا گھر’ ایک طرف میں گدھا”۔

اگر آپ کو یہ سب یاد ہے تو آپ خوش قسمت ہیں کہ آئی ٹی انقلاب سے پہلے والی زندگی انجوائے کرآئے۔

اِن میں سے شاید ہی کوئی چیز باقی بچی ہو’ اور اگر ہو گی بھی تو شاید ویسی نہیں رہی ہو گی۔

زندگی کی نہر کے بہتے پانیوں میں سے ایک دفعہ ہاتھ نکال لیں تو وہ ویسے کب رہتے ہیں

ایسی بھی تھی زندگی

۔۔۔

نوٹ : مجھے پتہ نہیں کہ مصنف کون ہے ۔ اگر کسی کو پتہ ہو تو ضرور بتائیں تا کہ حوالا دے سکوں