وہ عابی جو تھا !! گُزر گیا ہے

Standard

012410_0913_1.jpg


میں زندگی سے جُڑا ہوا ہوں

اِسی لیے تو !! مَرا ہوا ہوں

 

تُو کہکشاؤں کی سیر کرلے !!۔

مُجھے ہے سونا !! تھکا ہوا ہوں

 

میں دوستوں سے کٹا ہوا ہوں

جبھی تو اب تک !! بچا ہوا ہوں

 

تمھارے بس میں نہیں وہ قیمت !!۔

میں اِتنا مہنگا !! بِکا ہوا ہوں

 

کوئی بھی رستہ نیا نہیں ہے

ہر ایک رُخ پر !! چلا ہوا ہوں

 

کسی پہ کیسے بھروسہ کر لُوں !!۔

میں خود سے مِل کے !! ڈرا ہوا ہوں

 

رگوں میں کالا لہو رواں ہے !!۔

میں اِتنا !! اب تک !! ڈسا ہوا ہوں

 

وہ سامنے بھی کھڑا ہوں میں ہی !!۔

اِدھر بھی میں ہی !! پڑا ہوا ہوں

 

وہ عابی جو تھا !! گُزر گیا ہے

یہ عابی جو ہے !! بنا ہوا ہوں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عابی مکھنوی

Advertisements

Tum yunhi naraz huay (تم یُونہی ناراض ہوئے )

Standard

eyes 07

na haq naraz huay nain eyes

020416_0845_2.png

shauq barhana-pa chalta tha aur raste pathrile the
ghiste ghiste ghis gae aḳhir kankar jo nokile the

ḳhaar-e-chaman the shabnam shabnam phool bhi saare geele the
shaḳh se toot ke girne waale patte phir bhi peele the

sard havaon se to the sahil ki raet ke yarane
luu ke thapede sahne waale sahraon ke Teele the

tabinda taron ka tohfa subh ki ḳhidmat men pohncha
raat ne chaand ki nazr kiye jo taare kam chamkile the

saare sapere viranon men ghoom rahe hain been liye
abadi men rahne waale saanp bade zahreele the

tum yoon hi naraz hue ho varna mai-ḳhane ka pata
ham ne har us shaḳhs se puchha jis ke nain nashile the

kaun ghulam mohammad ‘Qasir’ bechare se karta baat
ye chalakon ki basti thi aur hazrat sharmile the

~ Ghulam Mohammad Qasir ~

kaha jalta hai dil bole ise jalne diya jaae – Aitbaar Sajid ( کہا: جلتا ہے دل، بولے: اِسے جلنے دیا جائے )

Standard

chai 2 cups of chai best 02

21-jun-18-11-32-38-am.jpg

020416_0845_2.png

kaha: takhliq e fan, bole: bahut dushvar to hogi

kaha: makhluq?, bole: bais e azaar to hogi

kaha: ham kya karen is ehd e na-pursan main kuchh kahiye

woh bole koi akhir surat e izhaar to hogi

kaha: ham apni marzi se safar bhi kar nahin sakte

woh bole har qadam par ik nai divaar to hogi

kaha: ankhen nahin is gham main binai bhi jaati hai

woh bole hijr ki shab hai zara dushvaar to hogi

kaha: jalta hai dil bole ise jalne diya jaae

andhere main kisi ko raushni darkaar to hogi

kaha: ye kucha-gardi aur kitni der tak akhir

woh bole ishq main mitti tumhari khvaar to hogi

~ Aitbaar Sajid ~

 

بچپن ۔ ۔ یادیں ۔ ۔ زندگی

Standard

ایک وقت تھا جب ہمارے گھر میں ایک پل بھی خاموشی نہیں ہوتی تھی. گھر بہن بھائیوں کے شور شرابے، ہنسی مذاق، کلکاریوں اور لڑائی جھگڑے کی آوازوں سے گونجتا رہتا تھا۔

صبح کے وقت سب کو اپنی اپنی پڑی ہوتی:
بستر میں لیٹے ہوئے ابو جی کی آواز کانوں میں پڑتی: جلدی جلدی سب اٹھو اور سبق پڑھنے مسجد جاؤ۔
امی جی کہہ رہی ہوتیں: سب آ کر ناشتہ کر لو۔
ایک بھائی بولتا: میرے کپڑے کدھر ہیں؟
ایک بہن بولتی: مجھے جوتے نہیں مل رہے۔
تیسرے کی آواز آتی: میرا بیگ نہیں مل رہا۔
ابو جی! مجھے پاکٹ منی دیجیے۔
ایک واش روم میں گھسا ہے اور باقی انتظار میں کھڑے ہیں۔
ہر ایک اپنا رونا رو رہا ہوتا۔
ہم بہن بھائیوں کا امی جی کے گلے لگنا۔ ان سے پیار لے کر سکول جانا۔
واپسی پر پھر وہی حال۔ طوطے کی طرح بولتے جانا۔ بہن بھائیوں کا لڑنا جھگڑنا۔ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو جانا۔ کبھی دوست کرنا اور کبھی کاٹ کرنا۔

چیزوں کا ہر طرف بکھرے ہونا۔ پورے کمرے میں ادھر اُدھر پڑے ہوئے کپڑے۔ ہماری امی جی کا پورا دن گھر کی صفائی ستھرائی اور ان چیزوں کو سنبھالنے میں گزر جانا۔ ہم بہن بھائیوں کا ادھر اُدھر بھاگتے پھرنا۔ کبھی پکڑنا پکڑائی کھیلنا اور کبھی کوئی دوسرا کھیل کھیلنا۔ کبھی ہنسنا اور کبھی رونا۔ کبھی گڑیا تو کبھی سائیکل۔

آج میں اسی گھر میں بیٹھا ہوا ہے۔ ہر طرف ایک عجیب سا سکون، خاموشی اور امن چھایا ہوا ہے۔ نہ کوئی شور شرابہ ہے اور نہ قہقہوں کی آوازیں۔ نہ کوئی لڑائی جھگڑا رہا اور نہ مل بیٹھ کر کھانا۔ بستر خالی پڑے ہیں۔ ہر چیز سلیقے سے رکھی ہوئی ہے۔ الماری میں ہمارے امی ابو جی کے محض چند جوڑے لٹکے ہوئے ہیں۔ اب نہ صبح کے وقت ہنگامہ برپا ہوتا ہے اور نہ ہی چھٹی کے وقت۔

ایک بھائی دنیا سے ہی رخصت ہو گیا۔ دوسرا دوسری جگہ شفٹ ہو گیا۔ باقی دونوں بھائی شام کو تھکے ہوئے کام سے لوٹتے ہیں۔ تینوں بہنوں کی شادیاں ہو گئیں۔ اب اگر کچھ باقی رہ گیا تو وہ ہر ایک کی اپنی اپنی خوشبو ہے جو ہر کمرے اور ہر چیز سے اٹھ رہی ہے۔ ان حسین لمحات کی یادیں ہیں جو ماضی بن چکے ہیں۔ آج میں ان میں سے ایک ایک کی خوشبو محسوس کرکے اپنے خالی دل کو بھرنے کی اور اپنے آنسو روکنے کی ناکام کوشش کر رہا ہوں۔

مہینوں بعد ہم سب بہن بھائی کہیں اکٹھے ہو پاتے ہیں۔ تھوڑا سا وقت اکٹھا گزارتے ہیں، کچھ دیر گپ شپ کرتے ہیں اور پھر سب اپنے اپنے گھروں کو چل پڑتے ہیں۔ پھر ہر طرف وہی خاموشی چھا جاتی ہے۔

بعض دفعہ میں سوچتا ہوں کہ کاش ہم بڑے ہی نہ ہوتے۔ کاش وہ بچپن پھر سے لوٹ آتا۔ لیکن پھر میں اللہ کا شکر اور سب کی خوشی کی دعا کرتا ہوں۔

اگر آپ ابھی چھوٹے ہیں تو اس وقت کو خوب انجوائے کریں۔ ہر طرف محبت اور پیار کے پھول بکھیریں۔ اپنے امی ابو،دادا دادی اور نانا نانی کا خوب خیال رکھیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ بھرپور وقت گزاریں۔

اگر آپ گھر کے بڑے یا بڑی ہیں تو تب بھی اپنے بچوں کے ساتھ خوب انجوائے کریں۔ ان کے ساتھ کھیلیں۔ ان کو خوب لاڈ پیار دیں۔ ان کی اچھی تربیت کیجیے۔

اگر گھر گندا ہوتا ہے تو ہونے دیں۔ کمروں میں سامان بکھرتا ہے تو بکھرنے دیں۔ دروازے کھلے رہتے ہیں تو رہنے دیں۔ بچے شور شرابہ کرتے ہیں تو کرنے دیں۔ یہ سب بعد میں بھی ٹھیک اور درست ہو سکتا ہے۔ لیکن آپ سب کا ایک دوسرے کے ساتھ بیتا ہوا یہ وقت کبھی لوٹ کر نہیں آئے گا۔ بس یادیں، اپنی اپنی خوشبوئیں اور آنسو بھری مسکراہٹیں رہ جائیں گی۔ لہذا اس وقت کو ہر ممکن طریقے سے حسین سے حسین تر بنانے کی کوشش میں لگے رہیں اور اپنے ہر رشتے کی قدر کریں۔ موبائل اور ٹی وی وغیرہ میں مگن ہو کر اپنے ماں باپ اور بیوی بچوں یا شوہر کا حق ہرگز نہ ماریں۔ ورنہ بعد میں صرف پچھتاوے اورحسرتیں باقی رہ جائیں گی۔


نوٹ : یہ تحریر واٹس ایپ سے کاپی پیسٹ ہے ۔ کسی کو اس کا اصل مصنف معلوم ہو تو ضرور بتائیں ۔

لب ترے لعل ناب ہیں دونوں – میرؔ (Lab Tere Laal e Naab Hain Dono – Mir)

Standard

mehndi walay haath 01

lab o rukhsar - mir

020416_0845_2.png

Lab tere laal-e-naab hain dono’n

Par tamami itaab hain dono’n

Hai takalluf naqaab ve ruḳhsaar

Kia chupe’n aftab hain dono’n

Kuch na pucho ke aatish-e-gham se

Jigar-o-dil kabaab hain dono’n

Sau jagah us ki aankhen padhti hain

Jaise mast-e-sharaab hain dono’n

Paun mein wo nashaa talab ka nahin

Ab to sarmast-e-khwaab hain dono’n

Ek sab aag ek sab paani

Deeda-o-dil azaab hain dono’n

Bahs kaahe ko laal-o-marjaan se

Us ke lab hi jawaab hain dono’n

Aage dariya the deeda-e-tar ‘Mir’

Ab jo dekho saraab hain dono’n

~Mir Taqi Mir~