Mujhe hai sona thakka hua hoon – Aabi Makhnavi (مجھے ہے سونا تھکا ہوا ہوں – عابی مکھنوی)

Standard

Advertisements

میری ماں تو ایسی ہے۔ ثمینہ ریاض

Standard

میری ماں تو ایسی ہے

صحن میں سوئے ہوئے ہلکی ہلکی ٹھنڈ محسوس ہونے پر سفید سوتی کھیس اوڑنے کی کوشش کرنا لیکن مٹی کی چاٹی میں لکڑی کی مدھانی چلنے کی گرر گرر کی آواز سے اپنی اس کوشش میں ناکام ہونا۔۔۔ اور ساتھ ہی ایک تنبیہی آواز بھی۔۔۔۔ اونہوں۔۔۔۔۔ اب اور سونا نہیں، اٹھ جاو، سکول کا ٹائم ہو رہا ہے۔۔۔۔ مندی مندی آنکھوں سے بولنے والی کو دیکھنا اور منہ بنا کر پھر سے سو جانا، لیکن تھوڑی دیر بعد ہی آواز کی سمت سے ہی ہلکے ہلکے پانی کے چھینٹے آنے لگنا۔۔۔۔ اٹھ جاو بارش ہو رہی ہے، دیکھو کتنی موٹی موٹی “کنیاں” ہیں۔۔۔۔۔۔ شروع شروع میں واقعی لگتا تھا بارش ہے، پھر پتا چل گیا یہ تو “پانی کی دہشت گردی” ہے۔۔۔۔۔ یہ مائیں بڑی ظالم ہوتی ہیں۔۔۔۔

گندم اور مونجی خریدنے کے بعد اسے صاف کرنا، مونجی کے چاول چھڑوا کر انہیں ہلدی یا دھریک و نیم کے پتوں کے ساتھ محفوظ کرنا ہے، اور گندم کو صاف کر کے بھڑولوں میں ڈالنا، بغیر پیشگی اطلاع یہ کام شروع کرنا اور کئی دن کی محنت کے بعد اس کام کو انجام دینا، بیٹیوں کو بھی ساتھ لگانا، بسورے چہرے نظر انداز کرنا، شکایتی لفظوں پر خاموش رہنا، لیکن پورے سال کا کام ایک دو دن میں نمٹا کر سکون کا سانس لینا۔۔۔۔ یہ مائیں بڑی ڈھیٹ ہوتی ہیں۔۔۔۔۔

کچے آم آتے ہی محلے کی کسی عورت سے بیس بیس کلو آم منگوانا، پانچ پانچ کلو سبز مرچ اور لیموں بھی ساتھ، اپنے ہاتھوں سے مرچوں کو کاٹنا، انہیں نمک اور ہلدی لگانا، اور یہ کہنے پر کہ آپ کو مرچیں کاٹتی نہیں؟ کچھ لمحات آنکھوں میں دیکھتے رہنا، ایک پھر ایک لمبی سانس کھینچنا اور کہنا۔۔۔۔ “نہیں”۔۔۔۔۔ اور یہی “نہیں” چھینکیں مارتے ہوئے اور بہتی آنکھوں سے اس وقت کہنا جب سوکھی سرخ مرچوں کو بڑے سے لنگرے میں موٹا موٹا پیسا جاتا۔۔۔۔۔۔ یہ مائیں بڑی جھوٹی ہوتی ہیں۔۔۔۔

سردیاں آنے پر پیٹیوں سے رضائیاں اور تلائیاں نکالنا، کچھ کو دھوپ لگوانا، کسی کو ادھیڑ کر روئی نکالنا، دھو کر مشین پر دھنکنے بھیجنا، واپس آنے پر چھت پر لے جا کر، موٹی سی سوئی سے انہیں دوبارہ سینا، اور اس طرح کے دھاگہ اوپر نظر نا آئے، اولاد کو پڑھتے دیکھنا اور خاموشی سے نئی سوئی میں دھاگہ ڈال لینا۔۔۔۔۔۔ یہ مائیں بڑی سخت جان ہوتی ہیں۔۔۔۔

لکڑیاں سلگاتے، ان پر توا رکھے، دھڑا دھڑا ہاتھوں سے پیڑا بنا کر، پیڑے کی روٹی بناتے، کچھ کوئلے باہر نکال کر ان پر سالن گرم کرتے، “پہلی روٹی میری” کی ایک آواز سننی، اور پھر اس کے بعد تین چار آوازیں اسی صدا کے ساتھ سن کر، توے سے اترتے ہی انتہائی گرم روٹی کو ہاتھ سے چار حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے، چار اولادوں کے آگے چنگیر میں رکھ دینا۔۔۔۔ یہ مائیں بہت بے حس ہوتی ہیں۔۔۔۔۔

رات کو سونے سے پہلے، سارے دن کے کام کے بعد شل بازوں کے ساتھ، دونوں اطراف بازوں میں ایک ایک بچے کو لئے سورہ فاتحہ اور آیت الکرسی یاد کروانا، سیف الملوک، یا میاں محمد بخش کے دوہے پڑھنا، دو تین بڑے بچوں کو دوسرے بستر پر بھی وقفے وقفے سے چہرہ سہلاتے ہوئے دیکھنا۔۔۔۔۔۔ یہ مائیں بڑی نا انصاف ہوتی ہیں۔۔۔۔۔

یہ ظالم، ڈھیٹ، جھوٹی، سخت جان، بے حس اور نا انصاف ماں پتا نہیں آپ کی ہے یا نہیں، لیکن میری ماں ایسی ہی ہے۔۔۔۔ یہ ماں پچھلی کئی صدیوں کا اثاثہ ہے، اگلی نسلوں کو ایسی مائیں نہیں ملیں گی، ہم پتا نہیں ماں کی قدر کر پائیں یا نہیں، لیکن اس ورثے کی قدر ہمیں بالکل نہیں

Mujhe moqa shanasi ka hunar aaya nhi ab tak – Mohsin Naqvi

Standard


Moaziz ban ke mehfil main adakaari nhi karta

Main chehre par kabhi jhooti anaa taari nhi karta

 

Mere dushman mere dastoor se waqif nhi shayad

Jise main dost keh doon us se ghaddaari nhi karta

 

Yahan behter hai apni zaat se hamdard ho jaana

Zamana gham to de sakta hai , gham-khwari nhi karta

 

Mujhe moqa-shanaasi ka hunar aaya nhi ab tak Mohsin

Jahan matlab nikalta ho wahan ‘samajhdaari’ nhi karta

بیٹا ﺯﻟـﯿـﺨـﺎ بہت ﺯﯾﺎﺩﻩ ہیں ﺗﻮ ‘ﯾـﻮﺳـﻒ’ بن

Standard

والد صاحب نے فرمایا : ” بیٹا! کبھی کسی کی عزت سے مت کھیلنا ، کہیں ایسا نہ ہو کسی کی بیٹی تمہارے احساسات کے لئے رف کاپی ہوجائے” ۔

 

ایک روز میں نے اپنے والد کی ان تمام نصیحتوں کا جواب طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ اس طرح دیا کہ :۔

۔” ان باتوں کا دور گزر گیا ہے بابا ! آج کے دور کی لڑکیاں خود چل کر آتی ہیں اور وہ تو خود ایسا چاہتی ہیں “۔

 

میرے والد نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا :

بیٹازلیخا بہت زیادہ ہیں ۔ ۔ تُو یوسف بن ! ۔

 

جیسے ہی میں نے یہ جملہ سنا میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے ، قینچی کی طرح چلتی زبان بند ہوگئ ۔ میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا ۔

واقعی وہ حق اور سچ کہہ رہے تھے ۔ ہمیشہ زلیخا زیادہ رہی ہیں اور ہیں ، مجھے چاہئیے کہ میں یوسف بنوں ۔ .

 

تیرے یـــــوســـــف بننے سے ، زلیخـــــا بھی ہوش و حواس میں آجائیگی

 

 repost via بیٹا ﺯﻟـﯿـﺨـﺎ بہت ﺯﯾﺎﺩﻩ ہیں ﺗﻮ *ﯾـﻮﺳـﻒ* بن