رحمت دا مینہ پا خدایا – میاں محمد بخش

Standard

rehmat da maheena


Rehmat da meena pa Khudaya baagh sukka kar hareya

Boota aas umeed meri da kar de meva bhareya

mitha meva bakhsh ajeha qudrat di ghat sheeri

jo khaavay  rog us da jaavay door howay dilgeeri

sadaa bahaar dayi’n is baaghay , kaday khazaa’n na aavay

howan faiz hazaara’n taaiya’n har bhukka phal khaavay

nemat apni vi kujh menu bakhsh shanasa’n paava’n

himmat de dilay nu mere , Tera shukar bja  lia-vaa’n

~ mian muhammad bakhsh ( sufi poet )

 

source: http://www.theajmals.com/blog/رحمت-دا-مینہ-پا-خدایا/

Advertisements

اوکھے پینڈے لمیاں نی راہواں عشق دیاں (okhay painday lammiyan ne raawan ishq diyan – baba bulleh shah)

Standard

okhay paindday lamiyan ne raawan ishq diyan - baba bulleh shah

okhay painday lammiyan ne raawa’n ishq diya’n

dard jiger sakht sazawa’n ishq diya’n

phulla’n wargi jindrri ishq rula chad’da

sar bazaar chahway ishq nacha chad’da

kakh na chadday vekh wafaawa’n ishq diya’n

okhay painday lammiyan ne raawa’n ishq diya’n

sajna’n baajo’n zaat sfaata’n ishq diya’n

vakhri kulli din te raata’n ishq diya’n

hain chodah (14) tabaqa’n ander thaawa’n ishq diya’n

okhay painday lammiyan ne raawa’n ishq diya’n

har har dil har thaa’n vich ishq samaya ae

arsh farsh tay ishq ne qadm takaya ae

ain baatil ain al-Haq sadaawa’n ishq diya’n

okhay painday lammiyan ne raawa’n ishq diya’n

ishq di hasti masti yaar mita deway

agg ae ishq di dil di dohi jagaa deway

Bulhay~ vaang nachaavan taara’n ishq diya’n

okhay painday lammiyan ne raawa’n ishq diya’n

 

kalaam: Baba Bulhay Shah Rehmat-ullah-aleh

طیفے کی چائے (Teefay ki Chai – Wahara Umbakar)

Standard

طیفا اپنے دوست کے ساتھ بیٹھا چائے پی رہا ہے۔ چائے کی ایک چسکی لینا اس قدر معمولی واقعہ لگتا ہے کہ اس طرف دھیان بھی نہیں جاتا (اگر چائے کپڑوں پر گر گئی تو معاملہ فرق ہے) لیکن یہ معمولی فعل نہیں۔ روبوٹکس میں ہم اس کام کو نہیں کر پائے (اور ممکن ہے کہ نہ کر پائیں)۔ کیوں؟ اس ایک فعل میں کئی ٹریلین برقی سگنلز نے آپس میں بڑی ہی تال میل کے ساتھ کام کیا ہے۔

سب سے پہلے بصری سسٹم نے فیلڈ کا جائزہ لیا تھا کہ پیالی کہاں پر ہے۔ اس میں برسوں کا سیکھا تجربہ کام آیا تھا۔ پیالی کو پہچاننا اور اس کو کیسے اٹھانا ہے۔ یہ سیکھے ہوئے ہنر ہیں۔ فرنٹل کارٹیکس نے موٹر کارٹیکس کی طرف پیغامات ارسال کئے۔ موٹر کورٹیکس نے پٹھوں کی حرکات کوآرڈینیٹ کروائیں۔ اپنے بدن، بازو، کلائی، اور ہاتھ کے پٹھوں نے آپس میں مل کر بڑی نفاست سے چائے کی پیالی کو تھام لیا۔

پیالی کو چھوتے ساتھ ہی انفارمیشن اکٹھی ہو کر اعصابی نظام کے ذریعے واپس گئی۔ وزن کتنا ہے، ہینڈل پھسلتا تو نہیں، درجہ حرارت کیسا ہے، کچھ غیرمعمولی تو نہیں، وغیرہ وغیرہ۔

ریڑھ کی ہڈی میں سے ہوتے ہوئے یہ دماغ تک پہنچی۔ یہ دو رویہ موٹروے پر بھاگتا تیز ٹریفک ہے۔ دماغ کے اپنے اندر بیسل گینگلیا، سیریبلم، سوماٹوسنسری کورٹیکس اور کئی دوسرے حصوں کے درمیان یہ ٹریفک چل رہا ہے۔ ایک سیکنڈ سے بھی کم حصے میں گہری کیلکولیشنز ہو رہی ہیں اور فیڈ بیک جاری ہے۔ ان کی مدد سے اٹھانے کی قوت اور پیالی پر گرفت ایڈجسٹ ہو رہی ہے۔ میز سے ہونٹ تک یہ مائیکروایڈجسمنٹ مسلسل جاری ہے۔

ہونٹ کے قریب پہنچتے وقت اس پیالی کو تھوڑا سا ترچھا کیا ہے۔ یہ زاویہ اتنا ہے کہ بغیر چھلکائے یہ کنارے تک پہنچ جائے اور چائے کو آسانی سے منہ میں لے جایا جا سکے۔ ہر چسکی کے بعد یہ زاویہ تھوڑا بدل جاتا ہے۔

اس تمام کام کو اس قدر مہارت سے کرنے کے لئے دنیا کے درجنوں بہترین کمپیوٹر درکار ہوں گے لیکن طیفے کو دماغ میں جاری اس طوفان کا ادراک نہیں۔ نیورل نیٹ ورک اس وقت اس سب کو کرنے کے لئے چیخ و پکار کر رہے ہیں۔ طیفے کو اس سب کا علم نہیں۔ وہ اپنے دوست کے ساتھ گپیں لگا رہا ہے۔

اب باتوں کے دوران ہی پیالی منہ تک پہنچ چکی ہے۔ منہ کی شکل بدل گئی۔ ہوا کو منہ میں کھینچنا شروع کیا۔ اس کے پریشر سے چائے منہ میں جانا شروع ہو گئی۔ باتیں جاری ہیں۔

طیفے کے دماغ نے اس سے پہلے کچھ پیشگوئیاں کر لی تھیں۔ یہ کتنی گرم ہو گی، کتنی میٹھی ہو گی وغیرہ۔ اگر یہ سب کچھ پیشگوئیوں کے مطابق نکلا تو ٹھیک ورنہ الارم بچ اٹھے گا۔ یہ پیغام “بڑے صاحب” یعنی طیفے کے شعور کر روانہ کر دیا جائے گا کہ چینی ڈالنا بھول گئے تھے۔

لیکن یہ سب کچھ ٹھیک ٹھیک ہو گیا۔ بغیر قطرہ گرے مکمل پرفیکشن کے ساتھ چائے کی چسکی مکمل ہو گئی۔ یہ واقعہ اس قدر معمولی ہے کہ یادداشت کا حصہ بھی نہیں بنا۔

اس سب کے درمیان یادداشت کا حصہ صرف وہ باتیں اور یادیں بنی جو دوست کے ساتھ گزارے وقت کی تھیں۔

طیفے کو دیکھ کر ایسا لگتا تو نہیں، لیکن اس کے کانوں کے بیچ کا یہ آلہ ہر وقت مصروف رہتا ہے۔ سو فیصد استعمال ہوتا رہتا ہے۔ اس کے لئے کرنے کے کام بہت سے ہیں۔ اس نے طیفے کو زندہ رکھنا ہے۔


تحریر :   source  link   – Wahara Umbakar

میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسےجب وہ کھلتے گُلاب جیسا تھا

Standard

میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسے

جب وہ کھلتے گُلاب جیسا تھا

اُس کی پلکوں سے نیند چھنتی تھی

اُس کا لہجہ شراب جیسا تھا

اُس کی زلفوں سے بھیگتی تھی گھٹا

اُس کا رخ ماہتاب جیسا تھا

لوگ پڑھتے تھے خدوخال اس کے

وہ ادب کی کتاب جیسا تھا

بولتا تھا زباں خوشبو کی

لوگ سُنتے تھے دھڑکنوں میں اُسے

میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسے

ساری آنکھیں تھیں آئینے اُس کے

سارے چہروں میں انتخاب تھا وہ

سب سے گھل مل کے اجنبی رہنا

ایک دریا نما سراب تھا وہ

خواب یہ ہے ، وہ حقیقت تھا

یہ حقیقت ہے ، کوئی خواب تھا وہ

دِل کی دھرتی پہ آسماں کی طرح

صورتِ سایہ و سحاب تھا وہ

اپنی نیندیں اُس کی نذر ہوئیں

میں نے پایا تھا رتجگوں میں اُسے

میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسے

جب وہ ہنس ہنس کے بات کرتا تھا

دِل کے خیمے میں رات کرتا تھا

رنگ پڑتے تھے آنچلوں میں اُسے

میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسے

یہ مگر دیر کی کہانی ہے

یہ مگر دُور کا فسانہ ہے

اُس کے ، میرے ملاپ میں حائل

اب تو صدیوں بھرا زمانہ ہے

اب تو یوں ہے کہ حال اپنا بھی

دشتِ ہجراں کی شام جیسا ہے

کیا خبر ، اِن دنوں وہ کیسا ہے

میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسے

جب وہ کھلتے گُلاب جیسا تھا

۔ ۔ ۔

محسن نقوی

زندگی اور چائے کا ایک کپ

Standard

 

شام کا ایک گھنٹہ اپنے لیئے ضرور نکالیں ۔ ۔ ۔

گھر کی چھت پر بیٹھیں ۔ ۔ ۔

لوگوں کے مکان دیکھیں ۔ ۔ ۔

آسمان میں اڑتے پرندے دیکھیں ۔ ۔

چائے یا کافی کا کپ ۔ ۔ ۔

دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر حرارت محسوس کریں ۔ ۔

اپنے لیئے وقت نکالیں ۔ ۔ ۔

اپنے آپ کو انا سے ہٹا کر اہمیت دیں ۔ ۔

زندگی کی تلخیوں کو چائے کی چسکیوں کے ساتھ ختم کریں ۔ ۔

اور اگر پھر بھی سکون نہ آئے ۔ ۔ ۔

تو اس خالی کپ کو دیکھیے ۔ ۔ ۔

جس طرح اس کپ میں دوبارہ چائے بھرنے کی گنجائش ہے

اسی طرح آپ کے اندر بھی زندگی اور خوشی بھرنے کی گنجائش باقی ہے ۔ ۔

 

Shaam ka aik ghanta apne liye zaroor nikalein..

Ghar ki chhat per bethein..

Logon ke makaan dekhen..

Aasmaan mein urte parinde dekhein..

Chai ya coffee ka cup..

Dono haathon main pakar kar haraarat mehsoos karein..

Apne liye waqt nikalein..

Zindagi ki talkhion ko chai ki chuskion ke sath khatam karein..

Aur agar phir bhi sukoon na aye..

To us khaali cup ko dekhein..

Jis tarah us cup main dubara chai bharne ki gunjaish hai..

Isi tarah aap ke ander bhi zindagi aur khushi bharni ki gunjaish baaqi hai…

۔ یہ میری اپنی تحریر نہیں ہے